قومی سلامتی کے سابق مشیر محمود علی درانی کی واردات اور برطرفی سے اگرچہ بعض باتیں کھل کر سامنے آگئی ہیں لیکن شاید اندر کا انتشار ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا ۔ میری معلومات کے مطابق اصل کہانی کچھ یوں تھی کہ تقریبا دو ہفتے قبل حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اجمل قصاب کو پاکستانی تسلیم کرلیا جائے ۔ یہ فیصلہ صدر اور آرمی چیف کے ساتھ بھی ڈسکس کیا گیا تھا جبکہ اینٹیلی جنس کمیٹی میں بھی اس فیصلے پر اتفاق ہوا تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ نومنتخب نائب امریکی صدر جوزف بائیڈن کے دورہ پاکستان تک سابقہ موقف کو ہی دھرایا جائے گااور جس روز وہ پاکستان آئیں گے تو ان کے ساتھ اس فیصلے کو شیئر کرنے کے بعد اسی روز دہلی میں پاکستانی سفیر ہندوستانی وزارت خارجہ کو آگاہ کریں گے جبکہ اسی ہی روز پاکستانی دفتر خارجہ اس حوالے سے بیان جاری کرے گا لیکن جب درانی صاحب نے وقت سے پہلے واردات کرڈالی تو کنفیوژن نے جنم لیا۔ سیکرٹری خارجہ چونکہ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر ہونے والے فیصلے پر عمل کررہے تھے ، اس لئے درانی کے انٹرویو کے بعد بھی انہوں نے سابقہ موقف کومیڈیا کے سامنے پیش کیا جبکہ وزیراطلاعات شیری رحمان نے یہ اجتہاد کیا کہ اب تو چونکہ بات سامنے آہی گئی ہے اس لئے ایس ایم ایس بھیج کر اس کا اعتراف کرلیا جائے لیکن جس روز درانی صاحب واردات کررہے تھے ، اس روز انہوں نے وزیراعظم سے کوئی مشورہ نہیں کیا تھا ، اس لئے وزیراعظم نے ان کو برطرف کیا لیکن حکومتی ترجمانوںکا یہ دعویٰ درست نہیں کہ برطرفی کے فیصلے سے قبل انہوں نے صدرسے مشورہ کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس روز کی واردات کو وزیراعظم نے اپنی توہین پر محمول کیا اور غیرروایتی طور پر خود جیو ٹی وی کو فون کرکے اس لئے اپنا فیصلہ سنایا کہ صدر صاحب کے رکاوٹ بننے سے قبل ہی معاملہ لوگوں کے سامنے آجائے تاکہ وہ فیصلے پر عمل درآمد رکوانہ سکیں ۔ اب تو محمود علی درانی نے بھی کہہ دیا ہے کہ زرداری صاحب نے فون کرکے ان سے معذرت کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعظم نے درانی کی برطرفی کا فیصلہ صدر کے مشورے کے بغیر کیا۔
ممبئی حملوں کے معاملے کو ہماری حکومت کس طرح ہینڈل کررہی ہے ، یہ تو بڑی حد تک واضح ہوگیا لیکن دیکھا جائے تو ہر طرف آوے کا آوہ ہی بگڑاا نظر آتا ہے ۔ مثال کے طور پر افغانستان کے معاملے کو لے لیجئے ۔ پاکستان کے لئے ہر حوالے سے اس اہم ترین ملک میں ہمارا سفارتخانہ گذشتہ پورا سال بغیر سفیر کے کام کرتا رہا۔ سابق سفیر طارق عزیز الدین اغواء ہونے کے بعد کئی ماہ غائب رہے ۔ پھر جب وہ رہا ہوئے تو انہیں کہا گیا کہ وہ افغانستان نہ جائیں لیکن ان کی جگہ کسی اور سفیر کی تعیناتی نہیں کی گئی ۔ یوں گذشتہ پورا سال کابل میں ہمارا سفارتخانہ بغیر سفیر کے کام کرتا رہا ۔ اب دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق کووہاں سفیر مقرر کیا گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تعیناتی ایک بہترین فیصلہ ہے کیونکہ ان جیسا پختون ، قابل اور تجربہ کار سفارتکار ہی افغانستان کے لئے موزوں ہوسکتا ہے(کہا جاتا ہے کہ انہیں جاپان جیسا ملک بھی آفر کیا گیا تھا لیکن ملک کے لئے کچھ کرنے کے جذبے کے تحت انہوں نے ازخود افغانستان جیسے مشکل اور ریسک بھرے ملک کا انتخاب کیا) لیکن اب انہیں بھی یکسوئی کے ساتھ وہاں کام کرنے نہیں دیا جارہا ۔ صدر آصف علی زرداری کے دورہ کابل سے چند روز قبل وہ کابل گئے لیکن درانی صاحب کی واردات کے بعد انہوں نے دفترخارجہ کی ترجمانی کے لئے دوبارہ اسلام آباد طلب کرلیا گیا ہے اور نئے ترجمان کے چارج سنبھالنے تک وہ سفارت کے ساتھ ساتھ یہ ذمہ داری بھی نبھاتے رہیں گے ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد صادق کو کابل میں اور افغانستان میں متعین سابق سفیر طارق عزیز الدین کو ترکی میں تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ چند ماہ قبل کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود دفتر خارجہ کے نئے ترجمان کا تقرر نہیں کیا گیا۔ روایتا دفتر خارجہ کے ترجمان کے فارغ ہونے سے چند ماہ قبل نئے ترجمان کا فیصلہ کیا جاتا ہے تاکہ سابقہ ترجمان کے چارج چھوڑنے تک تین چارماہ کے عرصے میں نئے ترجمان کی ٹریننگ ہوسکے لیکن یہاں تماشہ یہ ہے کہ محمد صادق کے کابل جانے کے بعد ہی نئے ترجمان عبدالباسط کا نام تجویز ہوا ہے لیکن تاحال ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا جبکہ اب انہیں ٹریننگ کے مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا یا پھر وہ اس نازک وقت میں بغیر مناسب ٹریننگ کے یہ ذمہ داری سنبھالیں گے ۔ دوسری طرف پاکستان میں افغان سفیر عبدالخالق فراہی گذشتہ کئی ماہ سے اغواء ہونے کے بعد غائب ہیں ۔ افغان حکومت بار بار ان کی بازیابی کے لئے سنجیدہ کوششوں کا مطالبہ کررہی ہے لیکن ہماری حکومت ان کے حوالے سے کبھی ایک کہانی اور کبھی دوسری کہانی سامنے لے آتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جس ملک کا سفیر ہمارے ملک میں غائب ہو، اس ملک کی حکومت ہمارے سفیر کو کیوں کر عزت و احترام دے گی ۔ افغان حکام سے میری متعدد مرتبہ بات ہوئی ہے ، وہ نہ صرف فراہی کی بازیابی کے حوالے سے حکومت پاکستان کی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں بلکہ وہ اس حوالے سے ہماری حکومت کے کردار کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں ۔
ایک اور مثال ترکی جیسے اہم ملک میں ہمارے سفارت خانے کی ملاحظہ کرلیجئے ۔ وہاں متعین پاکستان کے سابق سفیر لیفٹینٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین شاہ کی مدت ملازمت نئی حکومت کے برسراقتدار آنے سے چند روز قبل پوری ہوئی تھی لیکن انہیں نئی حکومت کے آنے تک کام جاری رکھنے کا کہا گیا تھا۔ پھر نئی حکومت کی طرف سے زبانی طور پر مارچ تک کام جاری رکھنے کا کہا گیا ۔ جون کے مہینے میں پاک ترک سکولز کی دعوت پر میں ترکی گیاہو اتھا۔ انقرہ میں قیام کے دوران افتخار حسین شاہ کی دعوت پر ہمارے وفد کے ارکان ان کے گھر گئے تو ان کے گھر کو بہت ویران پایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ انہوں نے وزارت خارجہ کے حکام کے زبانی احکامات پر مزید کئی ماہ گزار دئے اور پھر انہیں بتایا گیا کہ فلاں تاریخ کو انہوں نے واپس پاکستان آنا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے گھر کا سامان پاکستان بھجوادیا جبکہ ترکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے الوداعی ملاقاتیں بھی کرلیں لیکن اب پھر انہیں ٹیلی فون پر حکم دیا گیا ہے کہ وہ تاحکم ثانی کام جاری رکھیں ۔ چنانچہ اب میں ایسے عالم میں کہ گھر کا سامان پاکستان جاچکا ہے ، وقت گزار رہا ہے ۔ تماشہ یہ ہے کہ افتخار حسین شاہ نے دسمبر تک اسی عالم میں ترکی میں سفیر کی حیثیت سے کام کیا جبکہ دوسری طرف طارق عزیز الدین ، اسلام آباد میں بیٹھ کر ترکی جانے کا انتظار کرتے رہے ۔ بالآخر کئی ماہ کے انتظار کے بعد ۲ جنوری کو طارق عزیز الدین نے انقرہ جاکر چارج لے لیا اور افتخار حسین شاہ کی جان چھوٹ گئی ۔ اسی طرح جاپان جیسے اہم ملک میں بھی پاکستانی سفارتخانہ گذشتہ پورا سال بغیر سفیر کے کام کرتا رہا اور اب کئی ماہ بعد نور محمد جان کو سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ علیٰ ہذہ القیاس ۔
سچی بات یہ ہے کہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بڑا فین ہوں ۔ وہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاستدان ہیں بلکہ گذشتہ سالوں کے دوران انہوں نے جمہوریت اور پارٹی کے ساتھ غیرمتزلزل وفاداری کا بھی مظاہرہ کیا۔ میرے نزدیک وہ گیلانی کابینہ کے اہل ترین اور فعال وزیر ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ان تھک اور دن رات کام کرنے والے انسان ہیں ۔ اب جب ان کی وزارت کا یہ حال ہے تو آپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ باقی سفارشیوں اور چہیتے وزیروں کی وزارتوں کا کیا حال ہوگا؟۔

Daily Jinnah, 15/1/2009

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. سوات کا المیہ ۔ اندر کی ایک کہانی ۔۔۔۔ سلیم صافی
  2. سیاسی قیادت کی سیاسی خودکشی- سلیم صافی
  3. قوم اور تاریخ کے مجرم – سلیم صافی
  4. آصف علی زرداری کے ”جرائم“ اور ”کارنامے“…سلیم صافی
  5. طالبان کی کامیابی اور حکومت کی ناکامی کے چند اسباب (1)۔۔۔۔ سلیم صافی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha