پاک سرزمین کے منتخب پارلیمنٹ کی وسیع البنیاد کابینہ پھر سے تشریف فرما ہوئی اور کئی ایک اہم فیصلے کئے جن میں انتہائی اہم فیصلہ گھڑیاں آگے کرنا بھی تھا (میں گھڑیاں آگے کرنے کا لفظ استعمال کروں گا کہ وقت تو ہم آگے کرنے سے رہے میں اس کو اہم فیصلہ اس لئے بھی قرار دے رہا ہوں کہ شاید ابھی کابینہ کا اجلاس جاری ہی تھا کہ تمام ٹی وی چینلز نے اس فیصلے کی فوٹیج چلانا شروع کردی یعنی سب کے لئے اہم ترین فیصلہ شاید یہی تھا گھڑیاں آگے کرنے کی توجیح یہ تھی کہ اس سے بجلی کی اٹھائیس سو(2800) میگا واٹ بچت متوقع ہے اس سے مجھے گزشتہ برس کی یہی ریہرسل یاد آرہی ہے کہ جب گھڑیاں آگے کرنے کا حکومتی فیصلہ ہوا تو ایک اخبار نے کارٹون چھاپا جس میں ایک کردار جمال دین لگاتار گھڑی کے ساتھ الجھا ہوا ہے بیوی کے استفسار پر جمال دین کہتا ہے کہ وہ گھڑی لگاتار آگے دوڑا رہا ہے چونکہ حکومت کہتی ہے اس سے بجلی کی بچت ہوگی اور عین اسی وقت جمال دین کے بجلی، بلب، پنکھے، فریج وغیرہ بھی آن رہتے ہیں کئی ہماری بچت بھی ایسی ہی نہ ہو چونکہ بجلی بچت تو کہیں نظر نہیں آئی سوائے حکومتی اعداد وشمار کے اور یہ اعداد وشمار تو ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جنہیں ہر نئی آنے والی حکومت غلط قرار دیتی ہے اور جب وہ غلط قرار دیتی ہے تو پرانی حکومت اسے باز پرس کون کرے اور اگر کرے بھی تو وقت کا پہیہ کیسے گھومے؟
ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ سابق حکومت کے ہر فعل کو شیطانی، غلط اور بحرانوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے مثلاً نواز شریف صاحب کی موٹروے سکیم کو بینظیر صاحبہ نے غریب ملک کے حکمرانوں کی عیاشانہ سوچ قرار دیا جبکہ بینظیر صاحبہ کے دور کے سوشل ایکشن پروگرام اور سڑکوں وفلائی اوورز میں نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کو اس وقت کی حکومت کا کمیشن نظر آیا اسی طرح موجودہ حکومت کو بجلی کے تمام تر بحران کا منبع جنرل مشرف کے دور اقتدار میں نظر آتا ہے پتہ نہیں مشرف صاحب کے دور کی کون سی جادوئی غلطی ایسی تھی کہ خود ان کے دور میں تو یہ بحران سامنے نہ آیا لیکن ان کے جاتے ہی بجلی بھی کم ہوگئی یا پھر شاید مشرف کے دور میں لوگ بجلی کا استعمال ہی کم کرتے ہوئے ہوں یا انہیں بجلی کی ضرورت ہی نہ رہی ہو۔ارے صاحبو! ہم کن فضولیات میں الجھ کر قوم کو بیوقوف بنارہے ہیںکون نہیں جانتا کہ یہ سارے بحران غلط پالیسیوں اور غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اور ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم منصوبہ بندی کی طرف کبھی جاتے ہی نہیں اور بدقسمتی سے ایسی غلط منصوبہ بندی یا عدم منصوبہ بندی کے بڑے ذمہ دار ہمارے سیاستدان ہیں مثلاً بجلی کو ہی لیجئے ہمارے ہاں اس وقت بجلی کاواحد ذریعہ ہائیڈرل بجلی ہی ہے اور ہائیڈرل بجلی کے لئے ڈیمز کا بننا ناگزیر ہے جبکہ ڈیمز ہم بننے نہیں دیتے کالا باغ ڈیم ہو، بھاشا ڈیم ہو، منڈا ڈیم ہو یا کوئی اور ہمارے سیاستدان اس کے بننے کے خلاف بڑے بڑے جلسے جلوس اور ریلیاں لے کر پہنچ جاتے ہیں ذرا بتائیے ایسے میں کون سا اللہ دین کا چراغ جلے، کہ بجلی کی ضرورت پوری ہو، بجلی اور پانی کی ضرورت تو سب کو نظر آتی ہے لیکن اس کے لئے ڈیم ہم پاکستان میں نہیں بننے دے رہے معلوم نہیں ایسے میں ہم کیا سوچ رہے ہیں کہ کونسا ملک اپنے اندر ڈیم بنا کر بجلی ہماری دہلیز پر رکھ جائے اور بدقسمتی کی بات یہ کہ ڈیمز کی مخالف ساری سیاسی قوتیں گاہے بگاہے حکومت میں رہتی ہیں بلکہ اس وقت تو خصوصیت سے حکومت میں ہیں کون انہیں یہ سمجھائے کہ آپ اس ملک کے لئے ہمدردی کا اظہار نہیں کر رہے بلکہ آپ بھی اسی طرح کی دہشتگردی اور بدامنی کا کردار ادا کررہے ہیں جس طرح طالبان، القاعدہ یا کوئی اور بندوقوں کے ذریعے مارنے پر تلے ہیں اور آپ فاقوں سے، چونکہ جب تک ڈیمز نہیں بنیں گے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا پانی نہ ہوگا تو ذراعت نہ ہوگی اور ذراعت ترقی نہ کر ے گی تو فاقے ہی ترقی کریںگے۔خیر! ہم کئی اور نکل گئے بات بجلی کی ہو رہی تھی تو میں یہ عرض کررہا تھا کہ گھڑیاں آگے دوڑانے سے بجلی کا بحران حل نہ ہوگا بلکہ ہمیں اس کے لئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے بنانا ہوں گے ہماری حکومتوں کو کاسہ لیسی چھوڑ کر دلیرانہ فیصلے کرنا ہوں گے سیاستدانوں کو قومی ترقی کی سوچ اپنانا ہوگی بجلی کی پیداوار کے متبادل ذرائع دریافت کرنا ہوںگے۔ اس سے مجھے دو سال قبل کا اپنا چین کا سفر یاد آرہا ہے جب میں کاشغر سے بذریعہ بس اور مچی جارہا تھا کہ اور مچی شہر سے کچھ پہلے ایک ویران علاقے میں سینکڑوں پنکھے چلتے دکھائی دئیے میں نے بہتیر سوچنے کی کوشش کی آخر یہ کیا ہوسکتا ہے لیکن کچھ سجھائی نہ دیا اور مچی پنچتے ہی میں نے اپنے چینی دوست مسٹر لیو سے ان پنکھوں کے متعلق دریافت کیا پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ میں کن پنکھوں کی بات کررہا ہوں میں نے اپنے موبائل میں سیو کی ہوئی ان پنکھوں کی تصویر اسے دکھائی تو بے اختیار ہنسنے لگا میں نے کہا یار ایسا کیا مذاق ہے، آخر تم کیوں ہنس رہے ہو؟ کہنے لگا ، ان پنکھوں کی تجھے سمجھ نہیں آئی ،کیا یہ تمہارے ملک میں نہیں ہوتے؟ میر انکار پر کہنے لگا یاریہاں( Wind Energy) پیدا ہوتی ہے میں نے پوچھا کیوں، آپ کے ہاں ہائیڈرل بجلی نہیں ہے؟ کہنے گا ہے، بالکل ہے ، ہائیڈرل بھی ہے، سولر انرجی بھی ہے لیکن ونڈ انرجی بھی ہے چونکہ ہوا تو کسی بھی موسم میں کبھی ختم نہیں ہوتی لہٰذا بجلی کی پروڈکشن ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔اس طرح ہم بھی اگر دیگر ذرائع سے حصول توانائی پر توجہ دیں تو شاید صورت حال یہاں بھی مختلف ہو اور ہم سے بھی کوئی حیران ہو کر پوچھے’’ بجلی چلی جائے؟‘‘ جبکہ اب تو ہرفرد کہتا ہے، بجلی آئی؟ بجلی آئے گی؟ کب؟؟؟ہاں تو وفاقی کابینہ کے گھڑی بھر کے گھڑیوں کے فیصلے سے شاید اعداد وشمار میں بجلی کی بچت پر فرق پڑ بھی جائے لیکن نقصانات اس سے کئی زیادہ ہیں بہت سے طبقے سے شدید متاثر ہوں گے خصوصیت سے ملازمت پیشہ خواتین اور سکولوں کے کم عمر بچے اور جب ہم خواتین اور بچوں کی بات کرتے ہیں تو ہمارے آزادکشمیر کے بچے اور خواتین تو بالخصوص اس کا شکار ہوں گے چونکہ آزادکشمیر کا بیشتر علاقہ پہاڑی اور دشوارگزار ہے جہاں میلوں پہاڑی سفر کر کے بچے سکولوں میں جاتے ہیں اور ملازمت پیشہ خواتین نے ناتشہ تیار کرنے کے علاوہ بچوں کو تیار ک کے سکول بھیجنے کے بعد خود بھی دور دراز جگہوں پر ڈیوٹی کے لئے جانا ہوتا ہے تو آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب کام نمٹا کے نئے آٹھ اور پرانے ساتھ بجے ڈیوٹی پر حاضر ہوا جائے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا ہماری وفاقی کابینہ سے بالعموم اور آزادکشمیر حکومت سے بالخصوص گزارش ہوگی کہ تعلیمی اداروں کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے چونکہ وزیراعظم آزادکشمیر خود ایک دور افتادہ علاقے کے رہنے والے ہیں اور یہ مسائل ان سے بہتر کون جان سکتا ہے۔بات تعلیمی اداروں اورسکول ٹائمنگز کی چلی تو میرا خیال بے اختیار بھارت کی طرف گیا اس میں تو شاید ہی کسی کو شک ہو کہ بھارت خطے کی سب سے بہتر تعلیمی پالیسی رکھنے والا ملک ہے اس کی کچھ یونیورسٹیز کا شمار دنیا کی چند اعلیٰ ترین معیار رکھنے والی یونیورسٹیز میں ہوتا ہے جبکہ ہماری کوئی یونیورسٹی بھی دنیا کی پہلی پانچ ہزار یونیورسٹیز میں بھی نہیں آتی راقم کو چار سال قبل انڈیا جانے کا اتفاق ہوا یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ وہاں تمام ادارے دن کے دس بجے لگتے ہیں اور چار بجے چھٹی ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ادارے آٹھ بجے لگتے ہیں اور دو بجے چھٹی ہوتی ہے یعنی ڈیوٹی ٹائمنگز برابر ہیں لیکن اس قوم میں اپنے علاقائی تناظر میں درست فیصلہ کر رکھا ہے چونکہ ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین بمشکل چائے ناشتے اور بچوں کی تیاری کے بعد خود یکسوئی سے اپنی ڈیوٹی پر حاضری دیتی ہیں اور فرائض منصبی بھی پوری دیانتداری سے ادا کرنے کے قابل ہوتی ہیں ناکہ ہماری طرح کے بچے مارے نیند کے سکول میں اونگھتے رہتے ہیں اور خواتین وحضرات ہمیشہ لیٹ۔ ہماری یہ بات لکھنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ ہم بھی ادارے دس بجے ہی لگائیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہماری کابینہ بھی ہر وہ فیصلہ ضرور کرے جو ہمارے مخصوص ملکی تناظر میں درست ہو ناکہ صرف گزشتہ حکومتوں کے اعدادوشمار کے خلاف نئے اعدادو شمار چونکہ اگر ہم نے بلا سوچے سمجھے محض مفروضوں کے اوپر گھڑیاں آگے کر لیں تو شاید گھڑیاں تو آگے ہو جائیں مگر قوم پیچھے رہ جائے اور ہم ایک ایسی قوم جو دنیا کے مقابلے میں پہلے سے ہی بہت پیچھے ہیں مزید تاخیر وتقسیر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
Daily Jinnah, 16-Apr-09
No related posts.








Recent Comments