کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو کھلانے پلانے اور دعوتیں دینے سے آپس میں پیار محبت بڑھتا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ پیار محبت کم اور وزن زیادہ بڑھتا ہے اور ان دنوں میرے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے ۔
لاہور کے پارکوں اور باغوں میں کھانے پینے کی رسم بے حد پرانی ہے مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی شدید گرمی کے بعد بادل امڈ امڈ کر آنے لگتے اور رم جھم پھوار پڑھنے لگتی تو میرے ماموں جان فوری طور پر اپنے دوست ابراہیم کو طلب کرتے کہ یار موسم بڑا ظالم ہورہا ہے کچھ کرو۔ ۔ ۔ ابراہیم صاحب فوری طور پر آموں کے دو ٹوکرے حاصل کرتے انہیں کپڑے دھونے والے ٹپ میں کم از کم ایک من برف میں دفن کرتے اور پھر اس ٹب کو کانوں سے پکڑ کر ایک ریڑھے پر رکھا جاتا اور ہم سب بھی ریڑھے پر سوار اور چل بھئی لارنس گارڈن۔ ۔ ۔
جن دنوں میں ان زمانوں کے لارنس گارڈن اور آج کے جناح باغ میں سیر کیا کرتا تھا تو وہاں ایک بہت گورا چٹے پہلوان آیا کرتے تھے وہ سیر تو کم ہی کرتے تھے البتہ اپنے پسندیدہ بنچ پر بیٹھ کر توندزیادہ کھجایا کرتے تھے ہر اتوار ان کی جانب سے دوستوں کے لئے ناشتے کا بندوبست ہوتا جس کا آغاز باداموں والے دودھ اور انجام بدہضمی پر ہوتا کہ یہ ایک خصوصی اور لاہوری ناشتہ ہوتا جس میں کلسٹرول کی مقدار خوراک سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کا ہماری صحت پر مضر اثر ہرگز نہ ہوتا کہ ان دنوں کلسٹرول دریافت نہیں ہوا تھا اور اگر دریافت ہی نہیں ہوا تھا تو بھلا وہ صحت کے لئے نقصان دہ کیسے ثابت ہوسکتا تھا یہ ایک سادہ فلسفہ ہے۔
ان دنوں ماڈل ٹاؤن پارک میں بھی ناشتے پہ ناشتے چل رہے ہیں اور ایسے پرتکلف کہ کھانے والے بعد میں چل ہی نہیں رہے ڈاکٹر کے بل البتہ چل رہے ہیں پارک میں سیر کرنے والوں کے مختلف گروپ ہیں جو عام طور پر ذرا الگ الگ رہتے ہیں اور بیٹھتے ہیں لیکن جس روز کہیں ناشتہ ہو تو باہم شیر وشکر ہو رہے ہوتے ہیں چاہے دعوت دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو بلکہ ایک دو حضرات بن بلائے آئیں گے آپ سے منہ چھپا کر متعدد پتھور ے کھائیں گے اور دبے پاؤں چلے جائیں گے۔
ہر گروپ کی اپنی اپنی ’’ آسامیاں‘‘ ہیں جن کے ساتھ ہر کوئی نہایت الفت سے پیش آتا ہے بلکہ اپنے شیخ ریاض جو اپنے آپ کو پارک کا تاحیات صدر ڈیکلئر کر چکے ہیں ناشتوں کے معاملوں میں اتنے فضول خرچ ہیں کہ ان کا شیخ ہونا مشکوک قرار دیا جارہا ہے شنید ہے کہ دوست احباب کہیں ناشتے کے لئے گئے جب بل ادا کرنے کا مرحلہ آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ صاحب ندارد چنانچہ انہیں گھر سے لایاگیا کہ شیخ صاحب آپ کے بغیر نہ ناشتے کو دل چاہتا ہے اور نہ بل ادا کرنے کو ۔ ۔ ۔ ذرا عنائت کیجئے۔ ۔ ۔
اتوار کے روز ناشتہ نہ بھی ہو تو تقریباً ہر کوئی کچھ نہ کچھ اٹھائے چلا آرہا ہے حاجی صاحب باقاعدگی سے پستے کی برفی کا ایک ڈبہ لارہے ہیں قریشی صاحب مٹھائی اور نمکین کچھ نہ کچھ پیش کر رہے ہیں ایک روز مسعود بھٹی صاحب نے ملازم کے ہاتھوں بازار حسن کا کوئی خاص تابڑ توڑ حلوہ منگوایا جسے کھانے کے بعد اکثر بابا حضرات’’ ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ گنگنانے لگے کوئی خاص ہی تاثیر تھی اس حلوے کی یہ بھٹی صاحب بھی کھلانے پلانے کے بے حد شوقین ہیں اگر چہ شوگر کے مریض ہیں لیکن میٹھا کھانے سے قطعی گریز نہیں کرتے کہتے ہیں کوئی بات نہیں انسولین کا ایک اور ٹیکہ لگالیں گے ایک روز ایک صاحب نے حلوے کی ایک پلیٹ ان کی خدمت میں پیش کی تو بھٹی صاحب نے معذرت کی کہ مجھے تو شوگر ہے جب وہ صاحب حلوے کی پلیٹ سمیت واپس ہونے لگے تو بھٹی صاحب پکارے میں نے صرف ایک بار انکار کیا تو آپ سچ مچ چلے گئے صرف کافر حلوے سے انکاری ہوتے ہیں مجھے کافر کرنا چاہتے ہو لاؤ حلوہ‘‘ ادھر سردار صاحب لسی اور پراٹھے اور حلیم سپلائی کررہے ہیں لیکن خوراک کی خوش ذوقی منیر شیخ پر ختم ہے جو متفقہ طور پر پارک کے محبوب ہیں اس عمر میں بھی سری پائے اور نہاری وغیرہ باقاعدگی سے کھاتے ہیں کشمیری ہونے کے ناتے گھر میں خود پکوان تیارکرتے ہیں اور دوستوں کے گھروں تک پہنچاتے ہیں یعنی ایں ہمہ خانہ آفتاب است۔ ۔ ۔ اور ہاں ڈاکٹر نسیم کی فخریہ پیش کش روسٹ چکن ہوتا ہے۔ ۔ ۔
یہاں تک تو خیریت گزری لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ پارک کے جس حصے میں سیر کے بعد خواتین بیٹھ کر گپ لگاتی ہیں ادھر دیگچے ،دیگیں دستر خوانوں میں پیک شدہ جانے کیا کیا جارہا ہے معلوم ہوا کہ خواتین بھی ناشتہ مقابلہ میں شریک ہو گئی ہیں اب تو یہ عالم ہے کہ سیر سے واپسی ہوتی ہے تو میری بیگم کہتی ہے میں تو قیمے والے نان کھا کر آتی ہوں اور تم ڈبل روٹی کے وہ دو ٹوسٹ جو ملازمہ لے کر نہیں گئی تھی ان کا ناشتہ کرلو صرف ناشتہ میں نہیں خواتین کولاہور سے باہر جاکر پکنک منانے کا بھی جنون ہوگیاہے چنانچہ ایک بس میں پیک ہو کر ہر ن مینار کبھی اپنی کسی سہیلی کی زمینوں پر دیپال پور جاکر تنور کے پراٹھے اور روسٹ بٹیرے نوش کررہی ہیں اور ابھی اس ہفتے قصور کا رخ کرلیا جہاں فالودہ کھانے کے بعد بلھے شاہ کے مزار پرحا ضری دی اور پھر گنڈاسنگھ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب میں شامل ہو کر بالآخر لاہور لوٹیں پارک کے خاوندوں کے لئے یہ صورت حال بے حد تشویش ناک ہے کہ بیگمات ہاتھ سے نکلی جارہی ہیں میں نے اپنی بیگم سے شکایت کی تو کہنے لگی کہ شادی کے پہلے دس برس تم نے شام کا کھانا ہمیشہ باہر کھایا اپنے دوستوں کے ہمراہ کھایا کبھی مجھے ساتھ لے کر گئے تھے تو اب میں بال بچوں کو بیاہ کر خود سیریں کر رہی ہوں تمہیں کیا اعتراض ہے یعنی ماضی کے بدلے چکائے جارہے تھے ایک روز وڑائچ صاحب نے بڑے تشویش ناک انداز میں کہا کہ تارڑ صاحب کچھ کریں آج میں نے ایک نہایت ہولناک خبر سنی ہے میری بیگم کہہ رہی تھیں کہ ہم لوگ ملائیشیا جانے کا پروگرام بنارہی ہیں اور اس کے بعد شاید ترکی کا دورہ بھی کریں تو ظاہر ہے وہاں شاپنگ بھی کریں گی صورت حال یقیناً قابو سے باہر ہوتی جارہی تھی چنانچہ خاوند حضرات نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پارک میں ناشتہ کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے ابھی اس فیصلے کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ شیخ ایوب صاحب سر کجھاتے ہوئے بولے کل تو میری بیگم بیسن کی روٹیاں لگوا کر لارہی ہے اور وہ ادھرمردانے بھی بھیجیں جائیں گی ایک اور صاحب کہنے لگے میں نے بھی حلوہ پوری کا آرڈر دے رکھا ہے اسے کینسل کروانا پڑے گا آصف صاحب پریشان ہو کر کہنے لگے میں نے شرق پور سے گلاب جامن منگوائے ہیں غرض کہ پورے مہینے کے ناشتے کا اہتمام ہوچکا تھا چنانچہ پھر سے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اس ماہ تو ناشتوں کو چلنے دیا جائے اگلے ماہ انشاء اللہ انہیں مکمل طور پر بین کردیا جائے گا یعنی اگر کسی صاحب نے پہلے سے ہی قیمے والے نان اور پٹھوروں کا انتظام نہ کرلیا ہوا تو یوں بھی لوگوں کا دل توڑنا مناسب نہیں چاہیے وزن میں پانچ دس پاؤنڈ کا اضافہ ہو جائے جیسے شیخ منیر کم از کم چھ مختلف نوعیتوں کے آپریشن کراچکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ناشتے نہیں چھوڑوں گا زیادہ سے زیادہ ایک اور آپریشن کروانا پڑجائے گا تو اسے کہتے ہیں آئین جواں مردی۔
روزنامۃ جناح
Recent Comments