برادرم نذیر ناجی۔ السلام علیکم۔ سویرے سویرے آپ کا محبت نامہ پڑھا۔ آپ نے میرے کندھے پر بندوق رکھ کر امریکن شہریت یافتہ پاکستان کے سفیر کی شان میں اپنے دو قیمتی کالم سیاہ کر دیئے جناب والا۔
1۔ آپ نے مجھ پر الزام لگایا ہے کہ نواز شریف کی دونوں دفعہ بے وقت رخصتی کا میں ذمہ دار ہوں، حالانکہ میں نے سابق صدر مشرف کی نہ تعیناتی کا مشورہ دیا اور نہ ان کی برطرفی کے احکامات میرے مشورے سے ہوئے۔
2۔ برصغیر کی سب سے مہنگی تقریر آپ نے دوبئی اور بہاولپور کے ہوائی سفر میں ان کو لکھ کر دی۔ اگر آپ کو نواز شریف نے کالم نگاروں کی میٹنگ میں نہیں بلایا، تو آپ اس کو خوش کرنے کے لئے مجھے ” جاتی امرا “ جانے کے جتن “ سے کیوں نواز رہے ہیں۔ خدا وہ وقت نہ لائے جب میں کسی کے در پر جانے کے لئے جتن کروں ، وہ چاہے جاتی امرا ( رائے ونڈ ) ہی کیوں نہ ہو۔
3۔ جہاں تک پرویز مشرف کے ہاتھ باندھ کر اقتدار سے نکالنے کا الزام مجھ پر لگایا ہے، تو گزارش یہ ہے کہ نواز شریف نے ٹکٹ نہ دے کر مجھے صدر مشرف کی طرف خود دھکا دیا۔ صدر مشرف کو اقتدار سے NRO اور لال مسجد نے نکالا اور لال مسجد پر میرے شدید اختلافات کی وجہ سے مجھے ریلوے میں بھیج دیا گیا، جس پر آپ نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ کبھی نیکی نہیں کی تھی اور آج NRO پر نواز شریف بھی خاموش ہیں اور کئی دوسرے اور بھی کیونکہ حقیقی حکمرانوں کا یہی حکم ہے اور سب مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ میں جلا وطنی اور جیل جانے والوں میں نہیں تھا، تو عرض ہے کہ یہ خودساختہ جلاوطنی اور تحریر زدہ روانگی سیاستدانوں کا شیوہ نہیں اور اس خودساختہ جلاوطنی پر جس طرح عمل کروایا گیا میں اس سے واقف ہوں۔
4۔ آپ نے میری آصف زرداری سے ملاقات اور مشورہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ آپ اس ملک کے اکلوتے کالم نگار ہیں جو اسلام آباد سے واپسی پر ان کے لئے ” سب اچھا “ لکھتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے انہیں پہلا اور آخری مشورہ یہی دیا تھا کہ شہباز شریف کو نا اہل قرار نہ دیا جائے، ورنہ انہیں سخت نقصان ہوگا اور وقت نے ثابت کیا کہ صدر آصف زرداری کو سخت نقصان پہنچا اور کچھ لوگ ملکی اور غیر ملکی طاقتوں کا فرمان مان کر ہیرو بن گئے۔

 
5۔ آپ نے مختلف چینلز پر میرے تبصروں کی ہنسی اڑائی ہے اور غیر پارلیمانی جملے بھی استعمال کئے ہیں، حالانکہ میں کوشش کرتا ہوں کہ میں چینل پر کم کم جاؤں، لیکن ان کو ناراض نہیں کرتا اور بہت ہی اصرار پر جاتا ہوں، لیکن چبھن آپ کو حسین حقانی صاحب کی برطرفی کے مطالبے پر ہوئی اور غصہ اینکرز (Anchors) پر بھی نکال دیا۔
میں حسین حقانی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ شاہراہ فیصل پر اسلامی جمعیت طلباء کیلئے چاکنگ کروایا کرتے تھے۔ جب شہید بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف نے کردار کشی کی مہم چلائی تو موصوف ہی اس کے روح رواں تھے اور ان کی انگریزی اچھی تھی اسی لئے ” پیٹر گلبرتھ “ (Peter Galbrith) کی جعلی دستاویزات ان کے جعلی دستخطوں سے سفیر صاحب نے ہی بنائی۔
6۔ آپ نے مجھ پر آبپارہ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب سے ملاقات کا بھونڈہ طعنہ دیا ہے جب کہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
مجھے احساس ہوگیا ہے کہ میرا حسین حقانی کی برطرفی کا مطالبہ صحیح نشانے پر لگا ہے۔ ورنہ ایک ایسا سفیر جس کو معاشی امداد دلانے کا کریڈٹ آپ نے دیا ہے، وہ آج خود کہہ رہا ہے کہ امریکی امداد نہیں لینی چاہیے۔
ناجی صاحب۔آپ کہتے ہیں اس نے ملک کو بچایا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اسنے ملک کو پھنسایا ہے۔ بحری جہاز پر امریکن جرنیل اور پاکستان چیف آف آرمی اسٹاف کی میٹنگ کے درمیان ایک نام نہاد کرنل کی گرفتاری کی جھوٹی خبر بھی امریکی میڈیا کو موصوف کی وجہ سے ملی۔موصوف اس انٹرنیشنل ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد پاک فوج کو توڑنا، اداروں کو بدنام کرنا، انڈیا کی بالادستی کو تسلیم کرنا اور ملک کے ایٹمی ہتھیاروں کو ناکارہ بنانا ہے۔
ناجی صاحب۔ آخر میں مجھے آپ جیسے اردو کے کالم نگار نے انگریزی سے نا واقفی کا طعنہ دیا ہے، یقیناً میرے والدین نے انگریزوں کی خدمت نہیں کی، لیکن میں ان کئی کالے انگریزوں کو جانتا ہوں، جو بی اے کی پابندی کی وجہ سے الیکشن نہ لڑسکے۔ اور جو باتیں مشرف سے سفیر کی لڑائی کی آپ نے لکھی ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جنرل راشد قریشی کی بیماری پر اسپتال میں ان کی ” وزیٹنگ بک “ کے اندراجوں کے نگران تھے۔ وہ سفیر کم اور پاکستان کی افواج اور اداروں کے خلاف لابی میں مصروف زیادہ ہیں، اس لئے اہم لوگوں کو اہم اعزاز دلواتے ہیں اور ملک سے باہر ان کی میٹنگیں کرواتے ہیں۔
ناجی صاحب۔مجھے بھی انہوں نے فون کروائے اور یہی جملے کہے تھے، جو آپ نے لکھے ہیں۔ قطب شمالی میں پڑھانا اور آئس کریم کا کارخانہ لگانا۔ لیکن خدا کیلئے ملک کے بد خواہوں اور ملک کے خیر خواہوں کیلئے ایک ہی پیمانہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے نہایت جلدی میں تحریر کیا۔ غلطی پر معذرت خواہ ہوں۔…

خیر اندیش شیخ رشیداحمد

Jang 13 April 2009

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. محبت، ”جانُو“ اور پیر و مرشد- عطاء ا لحق قاسمی
  2. مجھے امريکہ سے محبت ہے

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha