چند روز بیشتر میں نے اخبار میں کراچی کے چڑیا گھر کی ایک تصویر دیکھی جس میں ایک شاندار دھاریوں والا شیر اپنے پنجرے کے ایک کونے میں دبکا بیٹھا ہے اور پنجرے کے فرش پر پتھر، اینٹیں ، روڑے اورکنکر بکھرے ہوئے ہیں یہ کنکر اور پتھر پنجرے میں اس لئے نہیں بچھائے گئے کہ شیر فارغ اوقات میں ان کے ساتھ شٹاپو کھیلتاہے بلکہ یہ کنکر اور پتھر اسے مارے گئے ہیں تماشائیوں نے اسے اشتعال دلانے کیلئے یا چھیڑنے کی خاطر اس پر پھینکے ہیں ہر روز پتھروں اور اینٹوں کا ایک انبار جمع ہو جاتا ہے جسے خاکروب سمیٹ کر لے جاتا ہے اور پھر اگلے روز ایک مرتبہ پھر سنگساری کا عمل شروع ہو جاتا ہے پنجرے میں قید جانوروں کو تنگ کرنا ہم لوگوں کی ایک قبیح عادت ہے لیکن شائد یہ پہلی بار ہے کہ شیر کو سنگسار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی بے چارگی سے لطف اٹھایا جاتا ہے اس اذیت پسندی کا جواز تلاش کرنے کے لئے آپ کو ذہن پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا جس معاشرے میں ایک سترہ برس کی بچی کو سڑک پر اوندھا لٹا کر کوڑے مارے جاسکتے ہیں اور سنگساری کو جائز ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر نہائت ظالمانہ تبصرے ہوئے ہیں وہاں اس نوعیت کا رویہ جنم لیتا ہے یعنی لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے تو کیوں نہ ابھی سے سنگساری کی پریکٹس کرلی جائے اس کا ایک اور جواز بھی ممکن ہے کہ عوام الناس اپنے اپنے صوبوں کے سیاسی شیروں سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ اپنا غصہ سچ مچ کے اس شیر پر نکالتے ہیں۔ آج کے اخبار میں ایک ایسے گھوڑے کی تصویر ہے جس کا بدن زخموں سے بھرا پڑا ہے اس سے مشقت لینے والے نے جانے اسے کن کوڑوں سے مارا ہے کہ وہ اس قدر شدید زخمی ہو گیا ہے ۔
اس حقیقت میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے آقاؐ نے جہاں انسانی حقوق کا درس دیا ہے ۔وہاں انہوں نے دنیا میں پہلی بار جانوروں کے حقوق کا بھی چارٹر دیا ہے اس جدید معاشرے میں تو جانوروں کے حقوق کی بات کہیں اس صدی میں شروع ہوئی ہے جب کہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس کم ازکم ہم مسلمانوں کے لئے تو جانوروں سے حسن سلوک کا عملی مظاہرہ ہمارے پیغمبر کر چکے ہیں سنت رسول اللہؐ میں جانوروں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ بھی شامل ہے یعنی حج ایسا موقع ہو اور کچھ لوگ اپنے اونٹوں کو چھڑیوں سے اس لئے پیٹ رہے ہوں تاکہ ان کی رفتار تیز ہو اور وہ جلد ازجلد اس مقدس فریضے کو سرانجام دین کے لئے پہنچے تو انہیں بھی حکم ہوتا ہے کہ نہیں تم ان اونٹوں کو مت مارو، انہیں اذیت مت دو۔ ۔ ۔ اور پھر ایک بار جب رسول اللہؐ دربار رسالت میں قدرے تاخیر سے تشریف لاتے ہیں تو صحابہ کرام اس تاخیر کا سبب دریافت کرتے ہیں تو آنحضرتؐ فرماتے ہیں کہ مجھے اس لئے تاخیر ہو گئی کہ میں آج ایک مختلف راستے سے یہاں آیا ہوں۔ ۔ ۔ دراصل جس راستے پر چل کر میرا یہاں آنا ایک معمول ہے وہاں راستے کے کناروں پر ایک کتیا نے بچے جنے ہوئے ہیں میں جب قریب سے گزرتا تھا تو کتیا کو خدشہ ہوتا تھا کہ شائد میں اس کے بچوں کو کچھ گزند پہنچاؤں ۔ ۔ ۔ اور وہ پر تشویش ہو کر ڈرتی تھی چنانچہ آج میں نے اس راستے کی بجائے نسبتاً طویل راستہ یہاں آنے کے لئے چنا تاکہ وہ کتیا بے آرام نہ ہو اپنے بچوں کے لئے فکر مند نہ ہو کیا آپ کو دنیا بھر کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال مل سکتی ہے کہ جس شخص کے لئے یہ جہاں اور کل کائناتیں تخلیق کی گئیں وہ ایک طویل راستے کو صرف اس لئے اختیار کرے کہ ایک کتیا بے آرام نہ ہو یہاں تک کہ قربانی کے جانور کے بارے میں بھی حکم ہے کہ اسے دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح نہ کیا جائے تاکہ انہیں دوسرے جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھ کراذیت نہ ہو اور پھر بلیوں کے لئے تو آنحضرتؐ کی محبت کمال شفقت کے درجوں پر فائز ہے یہ تذکرہ بھی آیا ہے کہ حضورؐ تیار ہو کر اپنی چادر اوڑھنے لگے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بلی اس پر خوابیدہ ہے مزے سے سو رہی ہے نہ اسے دھتکارا ہے اور نہ جگایا ہے کہ یہ نیند میں ہے اسے بے آرام نہیں کرنا اس کے قریب ہو کر فرش پر تشریف فرما ہو کر انتظار کرنے لگتے ہیں اور جب وہ بلی اپنی نیند پوری کر کے چادر سے اٹھ کر چلی گئی ہے تب آنحضرتؐ اپنی چادر اٹھا کر اوڑھتے ہیں مسجد نبوی میں بلیاں نہایت اطمینان سے چلتی پھرتی تھی اور کسی کو یہ جرأت نہ تھی کہ انہیں تنگ کرے یا مسجد سے نکال دے کہ وہ اس صحابی کی لاڈلی تھیں جسے رسول اللہؐ نے پیار سے ابوہریرہؓ یعنی بلیوں کا باپ کہہ کر پکارا کرتے تھے ابوہریرہؓ جن سے ہزارہا حدیثیں منسوب ہیں بلکہ ایک مرتبہ حضورؐ کے اس اگرچہ نادر لیکن چہیتے صحابی سے جب پوچھا گیا کہ اے ابوہریرہؓ اس حقیقت میں کیا بھید ہے کہ سب سے زیادہ احادیث آپ کے حوالے سے ہم تک پہنچی ہیں جب کہ رسول اللہؐ کی قربت مبارکہ تو کئی اور نامور صحابہ کرام کو بھی حاصل تھی تو انہوں نے نام لے کر فرمایا کہ فلاں تو اپنے کاروبار میں مصروف رہتے تھے اور فلاں کے کاندھوں پر انتظامی ذمہ داریاں تھیں تو یہ صرف میں تھا جو کے چبوترے پر ہمہ وقت بیٹھا رہتا تھا اور کہیں آتا جاتا نہ تھا میرے سامنے حجرہ مبارک کا دروزہ تھا رسول اللہؐ جب صبح سویرے وہاں سے باہر آتے تو میری نظروں کے سامنے،مسجد نبوی میں ہوتے تو بھی میں ان کے قریب اکثر میرے پاس اس چبوترے پر آن بیٹھتے اور میرا حال احوال دریافت کرتے اور رات کے وقت اپنے حجرے میں تشریف لے جاتے تو بھی میری نظروں کے سامنے، تو میں دوسرے صحابہ کی نسبت ان کے زیادہ قریب رہا اس لئے جو کچھ ارشاد ہوا اس کا بڑا ذخیرہ میرے حصے میں آیا اور صرف وہی جان جاتے تھے کہ میں بھوکا ہوں اور کئی روز سے کچھ نہیں کھایا تو مجھے اپنے حجرے کے اندر لے جاتے کہ ابوہریرہؓ یہ کھجوریں اور دودھ کا یہ پیالہ تمہارے لئے ہے۔جب مجھے غار حرا میں ایک رات بسر کرنے کا شرف حاصل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جبل نور پر بندروں کی خاصی تعداد ہے جو اکثر غار حرا کی زیارت کے لئے آنے والوں کے کیمرے وغیرہ اٹھا کر لے جاتے ہیں وہاں بلیاں بھی گھومتی تھیں اور چوہے بھی بڑے نیولا نما جانور بھی تھے انہیں نہ تو کوئی ہلاک کرتا ہے اور نہ کوئی گزند پہنچاتا ہے کہ وہ حرم کے علاقے کے اندر زندگی بسر کرتے ہیں کسی جانور کو مارنا یا اسے گزند پہنچانا اسلام کے حوالے سے منع ہے۔
کیا ہم یہ سارے پیغام شفقت اور محبت کے بھول گئے ہیں۔
جانوروں کے لئے تو کیا انسانوں کے لئے بھی جو شفقت اور محبت کے پیغام تھے انہیں بھی فراموش کر کے ایک دوسرے کو ہلاک کرنے اور ذبح کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Courtesy: Daily Jinnah, 11-Apr-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha