پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی ایلچی رچرڈہالبروک کو دونوں ملکوں کے حالیہ دورے میں ملے جلے سلوک کا سامنا کرنا پڑا ۔ کابل میں صدر حامد کرزئی کی حکومت کو یہ رنج ہے کہ امریکہ نے کابل میں ناقص گورننس اور ایوان صدر میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کرکے اس کی شہرت خراب کی۔ ادھر واشنگٹن میں کرزئی کے مستقبل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں۔ افغانستان میں آئندہ عام انتخابات سر پر ہیں جس کیلئے بہت سے امریکہ نواز مہرے کرزئی کے مقابلے میں امریکی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
اسلام آباد میں صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ صدر آصف زرداری کی حکومت ناقابل مزاحم قوت ( امریکہ) اور غیر منقولہ شے ( پاک فوج ) کے درمیان لڑھک رہی ہے۔ زرداری چاہتے ہیں کہ مغرب امریکی قیادت میں کوئی ایسا مارشل پلان دے جس سے پاکستان کو آئندہ پانچ برسوں میں 30 ارب ڈالر مل جائیںتاکہ وہ اپنے موجودہ مالی بحران سے نکل سکے۔ زرداری القاعدہ‘ طالبان نیٹ ورک کو بھی اپنی حکومت کے استحکام اور ملکی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ لہٰذا وہ امریکیوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تاہم پاک فوج جو اگر آزاد نہیں تو خود مختار ضرور ہے، اس انداز میں نہیں سوچتی۔ قومی سکیورٹی کی حکمت عملی پر اس کا کنٹرول زیادہ ہے جس کا وہ تانا بانا اس طریقے سے بنتی ہے جس سے اس کے اپنے مفادات کا تحفظ ہو۔ اس کا لائحہ عمل طویل المیعاد جبکہ سویلین حکومت کا قلیل المیعاد ہے۔ اسے ملک میں امریکہ اور زرداری مخالف جذبات کے وسیع ذخیرے اور میڈیا اور اسٹبلشمنٹ کو بڑے موثر طریقے سے اپنے حق میں استعمال کر نے کی اہلیت اور صلاحیت بھی حاصل ہے۔
امریکہ نے آئی ایس آئی پر الزام لگایا ہے کہ وہ ڈبل گیم کررہی ہے۔ وہ اس امر پر بھی طعنہ زن ہے کہ فوج ایک جانب ملک کے شہری اور قبائلی علاقوں سے القاعدہ کے صفایا کیلئے نیٹو سے تعاون کا ڈھونگ رچاتی ہے اور دوسری جانب افغان طالبان اور ان کے لیڈروں کو تحفظ دے رہی ہے تاکہ افغانستان کے اندر کھل کھلا کر نیٹو افواج پر حملے اور نقل و حرکت کرسکیں۔ نتیجتاً
آئی ایس آئی کو کمزور اور مفلوج کرنے کی امریکی کوششیں آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کو پسند نہیں آئیں۔ موجودہ آئی ایس آئی پر ان کی چھاپ ہے اور فی الواقعہ ابھی تک ان کے کنٹرول میں ہے۔ وہ چیف آف آرمی سٹاف بننے سے پہلے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے جوکہ پاکستان کی فوجی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل شجاع پاشا کو ترقی دے کر ان کے ہاتھ باندھ دیئے۔ یہ بھی بالکل ایک نئی روایت ہے کیونکہ وہ بلحاظ عہدہ وزیراعظم کے سامنے جوابدہ ہیں ۔ یوں انہیں کسی حد تک خودمختاری حاصل ہے ۔ ان کا اصل کام جی ایچ کیو اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے درمیان رابطہ کا کردار ادا کرنا ہے لیکن اس مرتبہ حالات مختلف ہیں۔ اس سے پہلے جنرل پاشا ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل اور سوات اور قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے نگران تھے۔ ان کو میجرجنرل کی حیثیت سے ہی ریٹائرہو جانا تھا اور بعد ازاں اقوام متحدہ میں ذمہ داریاں سنبھالنا تھیں۔ تاہم انہیں ترقی اور آئی ایس آئی کی ذمہ داریاں دے کر جنرل کیانی نے ملٹری آپریشنز اور انٹیلی جنس دونوں پر اپنا براہ راست اور مضبوط کنٹرول قائم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ آئی ایس آئی پر جتنی زیادہ نکتہ چینی کرتا ہے جی ایچ کیو کا غصہ اور ناراضگی اتنی ہی بڑھتی ہے جس سے امریکہ جی ایچ کیو تعلقات پر برے اثرات پڑتے ہیں۔ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں مشترکہ پاک امریکہ آپریشن کی جو امریکی تجویز رد کی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ امریکہ کی آئی ایس آئی ‘ افغان انٹیلی جنس اور سی آئی اے کے مابین خفیہ معلومات کے تبادلے کیلئے کوششیں بھی اسی ضمن میں ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ کوششیں بارآور نہیں ہوں گی۔
جنرل کیانی پر اعلانیہ نکتہ چینی کرنا امریکہ کیلئے مناسب نہیں ہے۔ ملک میں اس وقت جو امریکہ مخالف جذبات سر اٹھا رہے ہیں ان کے پیش نظر جنرل کیانی ناقابل بھروسہ امریکیوں سے اتنی دوستی نہیں بڑھائیں گے کہ قومی سکیورٹی اسٹبلشمنٹ کی باج گزار بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈمرل مولن مسلسل جنرل کیانی کے خلاف ناگواری کا اظہار کرتے رہتے ہیں جس پر آرمی چیف بھی تلملا جاتے ہیں۔ اس سے بھی ناگوار بات یہ ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر جنرل کیانی کو مجبور کررہے ہیں کہ سویلین حکومت کے لتے لیں ،اندر کھاتے اس کے خلاف معاندانہ موقف اختیار کریں اور پاک افغان معاملات کے حوالے سے امریکی مخالفت کم کرانے کیلئے میڈیا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ ہالبروک کے دورے کے اختتام پرپاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان بڑا ہٹ کر اور معنی خیزہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار پر پاکستان اور امریکہ کے موقف میں بڑا فرق ہے۔ ان جراتمندانہ ریمارکس‘ فریقین کی باڈی لینگوئج اور ان کا یہ اصرار کہ کسی کو بلینک چیک نہیں دیں گے ،کوئی اچھے اور حوصلہ افزاء اشارے نہیں
ہیں۔
پاکستان کی نیشنل سکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو یہ بات بھی قابل قبول نہیں کہ امریکہ اگلے سال کانگرس کے انتخابات پراثر انداز ہونے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈال کر وقتی فائدے اٹھائے۔ وہ اپنی طویل المیعاد بھارت افغان حکمت عملی اور اثاثے امریکی قربان گاہ پر چڑھانے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ لہٰذا پاکستانی حکومت کیلئے اس کا پیغام ہے کہ اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے کی کوشش کرے اورمالی لالچ‘ فوجی اعانت اور سیاسی فائدوں کی خاطر امریکہ کے سامنے مت جھکے۔ سول فوجی تعلقات کی عجیب نوعیت کے حوالے سے کمزور زرداری حکومت اور فوج اور آئی ایس آئی کے ملٹری آپریشنز پر کنٹرول کے پیش نظر کوئی واضح نتیجہ نکالنا مشکل ہے۔
اگر امریکہ نے احتیاط سے کام نہ لیا اور اصل حقائق سے اپنی آنکھیں بند رکھیں تو پاک امریکہ تعلقات کی عمر زیادہ نہیں ہوگی۔ اب حال یہ ہے کہ امریکہ مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں‘ مختلف داخلی مسائل کے باعث زرداری حکومت دفاعی پوزیشن میں ہے‘ طالبان اور القاعدہ نیٹ ورک نے دہشتگردی کو ملک کے شہری علاقوں میں پھیلا دیا ہے جس سے سکیورٹی کے سول اداروں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اور عوام الجھن کا شکار ہے

Courtesy: Daily Jinnah, 10-Apr-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha