پالیسیاں تشکیل پاگئیں اور ان کے خدوخال بھی واضح ہونے لگے ہیں ۔ امریکہ کی نئی حکومت کی پالیسی بھی سامنے آنے لگی اور القاعدہ کی زیرقیادت مزاحمت کرنے والوں کی بھی دونوں اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ میدان جنگ پاکستان کو بناناہو گا ۔ امریکی ڈرونز کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے اور فدائین کے لشکر بھی پاکستانی شہروں کا رخ کررہے ہیں جنگ ہوگی امریکہ اور اس کے مخالف عربی اور عجمی مخالفین کی ،لیکن میدان بنے گا پاکستان اور مریں گے پاکستان کے ستم رسیدہ مظلوم پاکستانی ۔ گھر اجڑیں گے تو مسلمان پاکستانیوں کے اور جنازے اٹھیں گے تویہاں سے اٹھیں گے۔ القاعدہ کے تعاقب میں ڈرون حملوںکا نشانہ بھی اسلام کے شیدائی قبائلی ہوں گے اور اسلام آباد ، پشاور یا لاہور میں خودکش حملے کی صورت جو بدلہ لیا جائے گا،اس کا نشانہ بھی یہی لوگ ہوں گے (اسلام آباد میں ایف سی کیمپ پر حملے کے نتیجے میں مرنے والے تمام ایف سی کے سپاہی بیٹنی قبیلے کے پختون تھے) ۔ یہ ہے ہماری جرنیل صاحبان اور سیاسی و مذہبی قیادت کی پالیسیوں کا نتیجہ ۔یہی ہماری منافقتوں کا صلہ ہے بلکہ شاید یہ مکافات عمل ہے جس کا اب ہمیں سامنا کرنا پڑے گا۔ اب بھی کچھ لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ وہ اور ان کے گھر بچے رہیں گے لیکن میرا نہیں خیال کہ کوئی بچ سکے گا۔اب سب قومیتیوں ، سب طبقات اور سب شخصیات کو اپنا اپنا حصہ مل کے رہے گا۔
ہماری اسٹیبلشمنٹ اس غلط فہمی میں مبتلا رہی کہ وہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کو بے وقوف بنارہی ہے لیکن شاید وہ خود بے وقوف بن رہی تھی ۔ اوبامہ خود ذہین اور شاطر نہیں بلکہ ہیلری کلنٹن، ہالبروک اور اسی قماش کے بڑے تجربہ کار اورشاطر لوگوںکو بھی اپنے گرد جمع کیاہے ۔ میڈیا اور مختلف لابیوں کے ذریعے پہلے انہوںنے دنیاکے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی کہ مسئلے کی چابی پاکستان میں ہے اور اپنے اس کیس کو راسخ کرنے کے لئے انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ ہمارے بلنڈرز کو شواہد کے طور پر استعمال کیا۔ میڈیا مہم کے بعد پھر امریکی عہدیدار تواتر کے ساتھ کہنے لگے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ڈبل گیم کھیل رہی ہے ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ اس تسلسل میں امریکہ کے نیویارک ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبارات میں کوئی خبر یا تجزیہ شائع یا پھر کسی امریکی عہدیدار کا بیان جاری نہ ہو۔ اب امریکیوں نے مزید فوج افغانستان بھیج دی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایران ، روس اور ہندوستان کو بھی اپنا ہمنوا بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ بش کے دور میں روس اور ایران کا افغانستان کے اندر پالیسیوں کار خ مخالف سمت میں تھا لیکن اب ان کو بھی شاید رام کیاجارہا ہے۔ خطے کی سطح پر جس اتفاق کی بات کی جارہی تھی ، شاید وہ پہلی فرصت میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف پیدا کی گئی ۔ اب امریکہ ایک طرف ڈرون حملوں کا سلسلہ بڑھائے گا اور دوسری طرف پاکستان سے کہا جائے گا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ القاعدہ اور عسکریت پسندوں کے خلاف میدان میں آئے ۔پاکستانی تشویش اور احتجاج کے باوجود ڈرون حملوں کے سلسلے کو جاری رکھنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ امریکی ہنوز پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اسی لئے وہ ایسا میکنزم بنارہے ہیں کہ نہ صرف سکیورٹی فورسز کی تمام سرگرمیوں پر ان کی نظر ہوبلکہ پاکستان کو دی جانے والی رقم بھی ان کے زیرنگرانی خرچ ہو۔ مزید امریکی فوج کے افغانستان آنے سے اب پاکستان کے راستے سے امریکیوں کو سپلائی بھی بڑھ جائے گی اور وہ اس لئے بھی وہ دباؤ بڑھائیں گے کہ سپلائی روٹس کا محفوظ بنایا جاسکے ۔ اب تک کی صورت حال سے ثابت ہورہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستانی قیادت کے لئے یہ ایشو ترجیح نمبر ون نہیں بن رہی ۔ وژن کا بھی فقدان ہے ، ہم آہنگی کا بھی اور صلاحیت کا بھی ۔ شاہ محمود قریشی لاکھ کہتے پھریں کہ ’’امریکہ کو بلینک چیک نہیں دیں گے‘‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ قیادت امریکہ کی مزاحمت کی صلاحیت سے عاری ہے ۔ یوں شاید وہی ہوگا جو امریکی چاہیں گے ۔ گویا جنگ ان کی خواہش کے مطابق پاکستان میں لڑی جائے گی ۔ وہ صرف ڈرون حملے کرکے نگرانی کرتے رہیں گے اور خون پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عوام کا بہے گا۔
دوسری جانب القاعدہ، پاکستانی عسکریت پسندوں نے بھی پوری تیاری کررکھی ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں فدائین تیار ہوچکے ہیں ۔ پاکستان کے طول عرض میں اور مختلف مذہبی حلقوں میں پھیلے اپنے بندوں کو بھی متحرک کیا گیا ہے ۔ جس طرح امریکی افغانستان اور عالمی مقاصد کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو کلیدی سمجھ رہے ہیں ، اسی طرح القاعدہ کی قیادت اور طالبان کی نظروں میں بھی پاکستان کی حیثیت کلیدی ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگرپاکستان نے امریکہ کے حسب خواہش ان کے خلاف کام کیا تو پھر ان کی کامیابی مشکل ہوجاتی ہے اور اگر پاکستان ہاتھ ہولا رکھے تو وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ناکوں چھنے چبواسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ساری توجہ کا مرکز پاکستان کو بنارکھا ہے اور اب وہ نعرہ بلند کررہے ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان ۔ میرے نزدیک خودکش حملوں کی حالیہ لہر صرف ایک ٹریلر ہے ۔ وہ پاکستانی حکومت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ امریکہ کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلواور اگر پاکستان چل نکلا تو پھر یہ لوگ پوری قوت سے پاکستان کے خلاف میدان میں نکلیں گے ۔ جو کچھ ہورہا ہے ، وہ صرف ٹریلر ہے تو پھر آپ خود اندازہ لگالیجئے کہ پاکستان کے خلاف ان کی پوری قوت کے استعمال کی صورت میں کیا ہوگا۔
مذکورہ بالا تجزیہ کے تناظر میں آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ پاکستان دشمن خواہ وہ امریکہ ہے ، اسرائیل یا ہندوستان کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کا مقام اور کیا ہوسکتا ہے اور ہم اس سے بڑھ کر رونے کا مقام کیا دیکھ سکیں گے ۔پاکستان کی وہ سکیورٹی فورسز جو کشمیر کی آزادی اور پاکستانی عوام کے تحفظ کے لئے تھیں ، اب اپنے ہی ملک میں لڑتی اور مرتی رہیں گی دوسری طرف وہ مجاہدین جو کشمیر کی آزدی ، لال قلعے پھر جھنڈا لہرانے اور واشنگٹن کونیست و نابود کرنے گھروں سے نکلے تھے، اب اسلام کے قلعے پاکستان کے محافظین سے لڑتے اور مرتے رہیں گے ۔ امریکی فضا سے ڈرون حملے کرکے تماشہ دیکھتے رہے ہوں گے یا پھر افغانستان پر اپنا قبضہ مضبوط بناتے رہے ہوں گے ، ہندوستان تالیاں بجارہا ہوگا اور اسرائیل امریکی صدر اوبامہ کی حکمت و دانش کو شاباش دیتا رہا ہوگا۔ یقینا خوشی کا مقام ہے پاکستان دشمنوں کے لئے اور ماتم کا مقام ہے ہم پاکستانیوں کے لئے جبکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے ، ان پالیسی سازوں کے لئے جنہوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچا دیا اور پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔المیہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمران، پالیسی ساز اور سیاسی و مذہبی قائدین ہوش کے ناخن لے رہے ہیں اور نہ امریکہ و ہندوستان کو برباد کرنے کے لئے پر عزم عسکریت پسند غورکررہے ہیں کہ ان کی قربانیوں کا منطقی نتیجہ خود اسلام اور پاکستان دشمنوں کے مقاصد کی تکمیل کی صورت میں نکل رہا ہے۔اس لئے آئیے ہم رولیتے ہیں ، اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔ اپنی گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! تو ہی اس پاکستان کی حفاظت فرما ۔
Daily Jinnah, 9-Apr-09
Recent Comments