مایوسی اور بیزاری کے غلبے کے باوجود پچھلے ہفتے پاکستان میں امریکی عہدیداروں کی بھرپور سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ مولن،پیٹریاس،ہالبروک ایک ساتھ پاکستان آئے اور اپنے ساتھ دہشت گردی اور بربریت بھی ساتھ لائے۔ لاہور میں مناواں پولیس اکیڈمی کو نشانہ بنانے کے بعد دہشت گردوں نے اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چوکی پر ہلہ بولا۔ فاٹا میں امریکی ڈرون حملوں سے معصوم بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔چکوال میں ایک امام بارگاہ کو ہدف بنایا گیا۔ معاملہ اسی پر موقوف نہ رہا سوات میں ایک بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو ریلیز کی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام واقعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عورتوں سے زیادتی صرف طالبان ہی نہیں کرتے وہ لوگ جو اپنے آپ کو مہذب کہلاتے ہیں ان کے بس میں ہو توکچھ کم نہیں کرتے لیکن ہم سیاسی مصلحتوں کے باعث ان سے چشم پوشی کر لیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست جبر کے ان واقعات پر خاموش کیوں ہے؟ بلوچستان کے سردار ،سندھ کے وڈیرے ، پنجاب کے جاگیردار اور سرحد کے عمائدین عورتوں پر ظلم کرنا اپنا حق اور روایات کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے ظلم کا شکار ہونے والی عورتوں اور بچوں کی چیخیں ہم تک نہیں پہنچتیں جنہیں زندہ دفن کر دیا جاتا ہے،گولی مار دی جاتی ہے یا ان پر کتے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ تاہم حکومت ان سب واقعات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
حکمران جماعت کے بعض لیڈروں اور وزراء نے تو ان واقعات کی وکالت کرتے ہوئے ان کو اپنی روایت اور کلچر کا حصہ قرار دیا ہے جبکہ طالبان یہ کام مذہب کی شکل بگاڑ کر کرتے ہیں۔ اے این پی جیسی نام نہاد سیکولر جماعت نے بھی غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کی مذمت سے انکار کیا۔ اے این پی کے صوبائی وزیر اطلاعات افتخار حسین نے بڑے بزدلانہ انداز میں بچی کو کوڑے مارنے کی سزا پر تبصرہ کیا اور یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ صدر زرداری ابھی تک عدل آرڈیننس کو اپنے پاس لے کر بیٹھے ہیں جس کا اطلاق سوات اور مالاکنڈ پر ہو گا۔اس گومگو کی کیفیت میں ان سے کسی فیصلے کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں عورتوں کے تحفظ کے قوانین کی کمی نہیں لیکن کوئی ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ حکومت کو بھی اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ایک شہری کی حیثیت سے ہم بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور اس سلسلے میں کوئی آواز نہیں اٹھاتے۔ طالبان کا مسئلہ ہو تو ہم گلے پھاڑ پھاڑ کر انہیں برا کہتے ہیں لیکن اپنی اشرافیہ کے خلاف منہ کھولتے ہوئے ہماری زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کی کابینہ میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو عورتوں سے زیادتی کے جرم میں ملوث ہیں۔ان کی حرکات بھی سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کے واقعہ سے کم سنگین نہیں ہیں۔ نیویارک میں ڈاکٹر عافیہ کو جو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں اس پر بھی ہمارے حکمرانوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ان کے پاس ڈاکٹر عافیہ کو قید میں ڈالنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہ تھا ۔ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کے دفتر میں ایک مشہور کاروباری شخصیت نے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا لیکن کوئی قاتلوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کر سکا۔ ہم نے ان واقعات کو یوں نظر انداز کر دیا جیسے کچھ ہوا نہیں ۔عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر ہم صرف طالبان کو ہی مطعون نہیں کر سکتے۔
موجودہ تناظر میں معاملہ طالبان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ ریاست کی عملداری کے قیام کا ہے بدقسمتی سے ریاست کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی اور نہ حکمرانوں کی اس میں کوئی دلچسپی ہے۔ وہ پوری دنیا گھومتے ہیں لیکن سوات اور قبائلی علاقوں میں نہیں جاتے جہاں ان کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے وہ اسلام آباد میں امریکی حکام سے تباہ کن معاہدے کرتے ہیں جو کہ پاکستان کے خلاف ایک مزموم ایجنڈہ
رکھتے ہیں۔اوباما نے بیان دیا ہے کہ اس کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں ۔یہ بات اس حد تک درست ہے کہ وہ اسلام کے نہیں مسلمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور مختلف خطوں میں ان سے برسر پیکار ہیں۔ڈنمارک کے سابق وزیراعظم راس مسن جو نیٹو کے نئے چیف بنے ہیں اب ان پر آکر کھلا ہے کہ مسلمان برے لوگ نہیں ہیں وگرنہ اس سے پہلے وہ ہمارے نبی کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی وکالت کرتے رہے۔پاکستان کے خلاف تباہ کن امریکی ایجنڈے کے پیش نظر ہمیں امریکہ سے فاصلہ رکھنا چاہئے اور ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے جس میں ہم انتہاء پسندی اور عسکریت پسندی کے مسائل حل کر سکیں۔ ہمیں یہ بات یاد ہونی چاہئے کہ جنگ ویتنام کے دوران امریکہ نے تین ملکوں کو غٰیر مستحکم کیا جن میں ویتنام کے علاوہ لاؤس اور کمبوڈیا بھی شامل ہیں۔ یہ کام کرنے کے بعد امریکہ وہاں سے بھاگا۔ پاکستان کیلئے یہ خطرہ زیادہ تشویش ناک ہے کیونکہ انتہاء پسندی کی لہر بڑھنے سے امریکہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کی جانب مزید قدم بڑھائے گا۔
یہ بات درست ہے کہ اگر ہم امریکہ سے فاصلہ پیدا کر لیں،اس سے اپنے اڈے واپس لے لیں اور نیٹو کا مشقتی بننے سے انکار کر دیں تو اس سے فوری طور پر دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔ تاہم اس سے ماحول کی تبدیلی کا آغاز ہو گا اور ایسے سازگار حالات پیدا ہوں گے جن میں انتہاء پسندی اور عسکریت پسندی سے نمٹنا آسان ہو گا۔یہ ایک ایسا پہلو دار مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے کئی محاذوں پر لڑنے کی ضرورت ہو گی سب سے پہلے ہمیں مذاکرات کے ذریعے ریاست کی عملداری قائم کرنا ہو گی۔ وہ تمام سیاسی قوتیں جو پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن محسوس کرتی ہیں ،انہیں مفاہمتی عمل میں شامل کرنا ہو گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ فاٹا میں دور غلامی کے قوانین ختم کئے جائیں اور ان کی جگہ سیاسی جماعتوں کا ایکٹ نافذ کیا جائے۔
ہمیں فوری طور پر سوسائٹی کے بعض طبقات کو دہشت گردوں کے ایجنٹوںسے پاک کرنا ہو گا جو خودکش بمبار بھرتی کر رہے ہیں ۔ یہ عناصر کون ہیں ؟ ظاہر ہے ہمارے افلاس زدہ لوگ ہیں جن کے بچے مدرسوں میں پلتے ہیں ۔ دستیاب اعدادو شمار کے مطابق خودکش بمبار نوجوانوں کی عمریں پندرہ سے چھبیس سال کے درمیان ہوتی ہیں ۔ وہ کسی خاص نظریے کے پیروکار نہیں بلکہ ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور انہیں ان کے اہل خانہ سے خریدا جاتا ہے جیسا کے بھکر کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں مدرسوں پر توجہ دینی ہو گی اور ان کیلئے نئی حکمت عملی اپنانی پڑے گی۔ تمام مدرسے جہادی ٹائپ کے نہیں ہیں ۔ میں نے حالات جا ننے کیلئے جنوبی پنجاب میںڈیرہ غازی خان ،رحیم یار خان اور راجن پور کے اضلاع میں ایک فیلڈ ورکر کے ہمراہ سروے کیا۔ وہاں غربت عام ہے جس کے باعث غیر جہادی مدرسے بھی عسکریت پسند پیدا کر سکتے ہیں کیونکہ افلاس کے مارے لوگ اپنے جگر کے ٹکڑے بیچنے پر مجبور ہیں۔ جو قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ڈروں حملوں، خونریزی اور بمباری سے عسکریت پسندی پر قابو پا لیںگے، یہ ان کی خام خیالی ہے۔ جب تک عسکریت پسندی کی وجوہ ختم نہیں کی جائیں گی، کچھ بھی کرلیں اس میں اضافی ہی ہو گا کمی نہیں آئے گی
Daily Jinnah, 9-Apr-09
Recent Comments