اگلے روز لاہور میں ایک سیمینار ہوا جس میں ممتاز دانشوروں اور معتبر شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء اس موضوع پر رائے زنی فرما رہے تھے کہ پاکستان میں ایک نیاطوفان جنم لے رہا ہے۔شاید سیمینار کے منتظمین بھی نہ جانتے تھے کہ یہ طوفان کس نوعیت کا ہے جس کا اتنا ذکر ہو رہا ہے۔ہر کوئی اپنا نتیجہ اخذ کر رہا تھا۔ کسی کے خیالات واضح نہ تھے اور نہ کوئی یہ جانتا تھا کہ ملک کو درپیش اصل بحران اور چیلنج کیا ہیں۔
ان کی اکثریت اپنی ناک سے آگے نہ دیکھ سکتی تھی۔ طوفان سے ان کی مراد بھارت اور امریکہ اور ان کے تعلقات کے تناظر میں دہشت گردی تھی۔پچھلے دو دن کا احوال کسی کے ذہن میں نہ تھا کہ اس دوران رونما ہونے والے واقعات نے ہماری سیاسی اور اقتصادی حالت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔صرف چند لوگوں نے ہمارے حکمرانوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں اور فوجی حکومتوں کے تسلسل کی خرابیوں کی نشاندہی کی۔


سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور انجمن مدیران جرائد پاکستان کے سربراہ عارف نظامی کے سوا کسی کو موجودہ مسائل کا ادراک اور ان کے حل کا اندازہ نہ تھا۔ دونوں زعماؤںکا زور اس بات پر تھا کہ حکومت میں شال جماعتیں مل جل کر کام کریں ، ایسا نہ ہو کہ موقع ہا تھ سے نکل جائے اور سب ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ انہوںنے ورثہ میں ملنے والی ناقص پالیسیوں اور ترجیحات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جمہوری نظام کو چلتے رہنا چاہئے۔کم سے کم سیاستدان اس میںرخنہ نہ ڈالیں۔
ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ایک مضبوط جمہوری نظام ہی ملک میں بہتری لا سکتا ہے جس کیلئے ایک طاقتور اپوزیشن بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ عارف نظامی کا اصرار تھا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے سترھویں ترمیم کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کی رائے درست ہے ۔ جب تک ہم ایک فوجی ڈکٹیٹر کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے جمہوریت کی منزل ہم سے دور رہے گی۔
فوجی پس منظر رکھنے والے امن کے دو داعیوں نے بھی اپنی خطابت کے جو ہر دکھائے جو ٹریک ٹو سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے۔ ان میں ایک نے بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ بھارت کو قائل کرنے کی کوشش کی پاکستان کی نیت اچھی ہے اور وہ امن کا خواہاں ہے۔دوسرے نے بڑے شد و مد سے کہا کہ ممبئی واقعات میں بھارت خود ملوث ہے تاکہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس جرم میں ہمارے اپنے بچے بھی شامل ہیں۔ یہ نہ بتایا آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ دیگر لوگوں نے حسب روایت امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ہماری تمام ناکامیوں اور بربادیوں کا ذمہ دار ہے۔ ہم اپنا قصور کبھی نہیں مانتے۔ ایک اور شریک مجلس نے ہماری ضرورت سے زیادہ پھیلی ہوئی خارجہ پالیسی کو طوفان کا پیش خیمہ قرار دیا۔ ایک اور غلطی انہوں نے یہ گنوائی کہ ہم مذہبی بنیادوں پر عسکریت پسندی کو اپنا کل اثاثہ سمجھ بیٹھے ہیں۔شاید ان کے علم میں نہیں کہ انتہا پسندی ہمارا عقیدہ نہیں ۔ پاکستان ایک لبرل اعتدال پسند اسلامی ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔
ہمیں انتہا پسندی اور تشدد کے گڑھے میں ہمارے اپنے حکمرانون نے پھینکا تاکہ وہ اپنے اقتدار کو طوالت دے سکیں۔ان کا مفاد اسی میں تھا کہ عوام اسی طرح جاہل اور ناخواندہ رہیں۔ انہوں نے سرکاری سر پرستی میں جہادی کلچر کو فروغ دیا اور قوم کو مذہبی جنونی ہونے کا تشخص دیا۔
عالمی سطح پر ہمیں اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ پہلے ہم نے درندے کی رسی کھول کر اسے آزاد کر دیا اور اب اسے دوبارہ زنجیروں سے جکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہما ری حکومتوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ یہاں کرپشن عام ہے، انصاف کا نام و نشان نہیں، قانون کی حکمرانی سے ہمیں بیر ہے، امن و امان سرے سے موجود نہیں، معیشت کا برا حال ہے، عدلیہ سمیت تمام، اداروں سے ہما را اعتماد اٹھ چکا ہے۔
عام آدمی کو آج سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔اختیارات کا ناجا ئز استعمال وباء کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز سیاسی اور انتظامی عہدیداروں کے دامن صاف نہیں ہیں۔قاتلون اور لٹیروں کو جتنی امان یہاںملتی ہے کہیں اور نہیں ملتی۔قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو قابل رشک عزت اور تحفظ ملتا ہے۔
بطور ملک ہماری کوئی ساکھ نہیں۔ کوئی ہم پر ایک دھیلے کا اعتماد کرنے پر تیار نہیں ۔ ہم آزاد ی عمل سے محروم ہو چکے ہیں۔ ہماری خود مختاری چھن چکی ہے۔ جمہوریت اور گڈ گورننس کو ترس گئے ہیں۔ اب جو طوفان اٹھ رہا ہے وہ ہماری اپنی ناکامیوں کا پیدا کردہ ہے۔ خارجہ پالیسی کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ گورننس کے بحران نے ہر چیز کو ادھیڑ دیا ہے۔
ہم ایک ایسا ملک ہیں جنہیں بحرانوں نے پا مال کر رکھا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ایک ہی حملے میں آئین، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی دھجیاںاڑا دی تھیں جس سے ہم آج تک نہیں سنبھل پائے۔دہشت گردی، عسکریت پسندی، مہنگائی، خوراک اور بجلی کی قلت کے بحرانوں نے ہمیں ادھ موا کر رکھا ہے۔
ہمارا سب سے بڑا بحران قیادت کا فقدان ہے۔یہ وہ اصل طوفان ہے جس کی طرف سیمینار کے شرکاء کی توجہ نہیں گئی۔ ہمارے پاس منتخب سویلین صدر بھی ہے جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا شریک چئر پرسن ہے۔ لیکن اس کے باوجود جمہوریت کہیں نظر نہیں آتی۔ ہمارا نظام پالیمانی ہے نہ صدارتی بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس کی عصری تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ہماری منتخب حکومت نے ابھی تک سترھویں ترمیم کی شکل میںاپنے فوجی پیش رو کے جوتے پہن رکھے ہیں۔ حقیقی جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے بغیر اس ملک میں استحکام نہیں آسکتا۔داخلی طور پر کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار کوئی ملک کامیاب نہیں ہو تا۔سابق سوویت یونین سپر پاور ہونے کے باوجود اس لئے ٹوٹ گیا کہ سیاسی اور معاشی لحاظ سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔
ایک بات واضح ہے کہ میں نے جتنے بھی مسائل گنوائے ہیں ان میں ایک کا تعلق بھی خارجہ پالیسی سے نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ ہمارے مسائل داخلی ہیں خارجہ نوعیت کے نہیں جنکی جڑیں ہماری حکومتوں کی ناکا میوں میں پو شیدہ ہیں۔جب تک ہم اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے کسی طوفان کا مقابلہ نہیں کر سکتے! ۔

Source: Daily Jinnah

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha