پیر جنوری 5, 2009

آپ جانتے ہیں کہ اسرائیلی خاص طور پر غزہ کے باشندوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں ؟ یوں تو وہ ہر فلسطینی سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ جب تک ایک بھی فلسطینی زندہ ہے وہ ایک چلتا پھرتا اشتہار ہے اس حقیقت کا کہ میری طرف دیکھو میں وہ ہوں جس کی زمینوں اور باغوں پر دریاؤں اور صحراؤںپرآج کا اسرائیل آباد کیا گیا ہے۔ مجھے اپنے ہی وطن سے بے دخل کرکے وہاں دنیا بھر کے یہودیٗ امریکنٗروسیٗپویشٗجرمنٗاطالوی یہاں تک کہ افریقن اور ہندوستانی یہودی آباد کئے گئے۔ مجھے بے گھر کرکے انہیں میرا گھر دے دیا گیا۔ لیکن تمام فلسطینیوں میں سے اسرائیلی خاص طور پر غزہ کے باشندوں سے اسی لیے نفرت کرتے ہیں کہ اس علاقے میں آباد اسی فیصد لوگ وہ ہیں جنہیں 1948ء میں اخالان کے علاقے میں جو قصبے اور دیہات تھے وہاں سے یا تو انہیں زبردستی نکال دیا گیا یا وہ اپنی جان بچانے کی خاطر وہاں سے نکل آئے اور غزہ میں آباد ہوگئے۔ آج اسرائیل اپنے جن علاقوں کے بارے میں شور مچاتا ہے کہ غزہ سے فائر کئے گئے راکٹ ہماری سرزمین پر گرتے ہیں تو یہ وہی سرزمین ہے جو دراصل غزہ کے موجودہ باسیوں کی آبائی ملکیت ہے۔ تازہ ترین قتل عام میں جبالیا کے پناہ گزینوں کے کیمپ میں پانچ سگی بہنیں ہلاک ہوگئیں اور ان کے دادا اور دادی 1948ء میں اس علاقے سے نکال دیئے گئے تھے جو آج کا اسرائیل ہے۔ اسرائیل کے دو وزیراعظموں نے بیان دیا تھا کہ ’’غزہ کو سمندر میں ڈبودینا چاہیے‘‘ امریکہ اور یورپ میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ غزہ کے پاگل دہشت پسند امن پسند اسرائیلی شہریوں پر دن رات راکٹ برسا رہے ہیں اس لیے اسرائیل کا یہ حملہ درست ہے۔ یہ ایک جنگ ہے۔ لیکن کوئی بھی یہ تصور نہیں کرتا کہ جنگی محاذوں میزائلوں سے غزہ کی شہری آبادی کو ملیا میٹ کیا جارہا ہے اور نہ ہی ان کے پاس اینٹی ایئرکرافٹ گنزہیں نہ میزائل ہیں یعنی اسرائیلیوں کے ساتھ وہ مقابلہ نہیں کررہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہیں۔ ان حملوں کے دوران اسرائیلی جنگی محاذ پر امریکہ اور اسرائیل بار بار واویلا کررہا ہے کہ اس دوران غزہ سے فائر کئے جانے والے رکٹوں سے دو اسرائیلی ہلاک ہوگئے اور یورپی میڈیا پر بار بار ان دو اسرائیلیوں کے تابوت دکھائے جارہے ہیں ان کی تدفین کی تشہیر کی جارہی ہے اور ایک اسرائیل مذہبی رہنما کہہ رہے ہیں کہ دیکھئے یہ لوگ آج بھی یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور یہ اس قتل عام کا تسلسل ہے جسے ہٹلر نے شروع کیا تھا۔ ٹیلی ویژن سکرین پر ابھی تک کسی ایک فلسطینی کا تابوت نہیں دکھایا گیا شاید اس لیے کہ ساڑھے تین سو تابوت دکھانے کے لیے جتنی بڑی ٹیلی ویژن سکرین درکار ہے وہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی اور یوں بھی ان کی لاشیں ابھی دبی ہوئی ناقابلِ شناحت ہیںاور انہیںالگ الگ نہیںکیا گیا اگرچہ یہ نشاندہی ہوگئی ہے کہ ان میں سے ساٹھ عورتیں اور چھوٹے بچے ہیں اور وہ پانچ سگی بہنیں ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جن دنوں اسرائیلی بل ڈوزر جنین کا رفیوجی کیمپ ڈھا رہے تھے اس پر بمباری کرکے روزانہ درجنوں خاندانوں کو ہلاک کررہے تھے بلکہ انہوں نے کئی فلسطینیوں کو بل ڈوزوں سے کچل ڈالا تو ایک اسرائیلی اہلکار بیان دے رہا تھا کہ یہ تو ہم اپنے دفاع امن اور جمہوریت کی خاطر کررہے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ خودکش حملہ آور بھی ہوسکتے تھے ہم چاہتے ہیں کہ جب اسرائیلی بچے سکول جائیں تو وہ خوفزدہ نہ ہوں اوراگرایک پرامن اسرائیلی کافی ہاؤس میں بیٹھ کر کافی پینا چاہے تو اسے اپنی جان کاخطرہ نہ ہو۔ یہ کیسے دہشت پسند ہیں کہ کسی کو اطمینان سے کافی بھی نہیں پینے دیتے۔یہ ایک لاجواب شکایت تھی ادھر بچوں کے پرخچے اڑ رہے ہیں اور فلسطینی بل ڈوزوں سے کچلے جارہے ہیں اور ادھر کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک اسرائیلی اطمینان سے کافی بھی نہیں پی سکتا میں نے حالیہ قتل عام کے دوران اس نوعیت کا ایک لاجواب فقرہ ایک اسرائیلی ترجمان کی زبان سے سنا کہ غزہ کے باشندے ہمارے لیے خطرہ ہیں۔ ہمارے معصوم شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں میری بوڑھی پھوپھی جان کے گھر کے قریب کھیتوں میں غزہ سے فائر کیا ہوا ایک راکٹ گرا۔ یقین کیجئے وہ بہت خوفزدہ ہوئیں۔ ادھر ساڑھے تین سو فلسطینی بچے بوڑھے اور عورتیں ہلاک کردیئے گئے تاکہ ایک اسرائیلی پوپھی جان خوفزدہ نہ ہوں۔عرب دنیا اور ہم حسب معمول احتجاج کررہے ہیں۔ امارات والوں نے اس سلسلے میں سب سے بڑی قربانی دی ہے۔ انہوں نے دبئی وغیرہ میں نئے سال کی آمد کی خوشی میں جتنی تقریبات ہورہی تھیں انہیں منسوخ کردیا ہے۔ بقیہ عرب ملک بھی اسی طرح بہت سوگوار ہیں مصر جو امریکی امداد کا اتنا محتاج ہے کہ اس کے بغیر ایک دن نہیں چل سکتا۔ اردن جو امریکہ کی گود میںہمکتا سب سے لاڈلا بچہ ہے جس نے اپنی سرزمین پر ہزاروں فلسطینیوں کا خون بہایا تھا وہاں کی ملکہ رانیا نے امان میں غزہ کے زخمیوں کے لیے باقاعدہ خون دیا ہے اس اہتمام کے ساتھ کہ ایک مغربی ماڈل کی مانند سٹائل کے ساتھ ان کی متعدد تصاویر اتریں اور دنیا بھر میں شائع ہوئیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ایک ملکہ اپنے عرب بھائیوں کے لیے اپنا خون بہا سکتی ہیں۔ جانے وہ کونسا خوش نصیب زخمی ہوگا جس کی رگوں میں ملکہ عالیہ کا شاہین خون داخل ہوگا اور ہم پھر بھی شکایت کرتے ہیں کہ عربوں میں یک جہتی اور ایثار مفقود ہیں۔ہم نے پاکستان میں بھی مسلمانوں سے یک جہتی کے بے مثال مظاہرے کیے ہیں ایک تصویر میں ایک باریش نوجوان نہایت خوفناک غضب کی حالت میں اسرائیل کے خلاف نعرے لگارہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان نعروں کی گونج سے اسرائیل میں کم ازکم ایک پھوپھی جان تو خوفزدہ ہوجائیں گے۔ ایک مذہبی جماعت کے کارکن نعرے لگاتے ایک بینراٹھائے چلے آرہے ہیں جس پر درج ہے۔ اسرائیل کا ایک ہی علاج ہے۔ الجہاد الجہادان کے جس بھی سیانے نے علاج کے ساتھ الجہاد کا قافیہ جوڑا ہے ہم اس کے جذبے اور فہم کی داد دیتے ہیں۔ البتہ یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ جناب آپ کو جہاد کرنے سے روکا کس نے ہے۔ جائیے اسرائیل اور کیجئے اس کا علاج۔ اگر یہاں کچھ پاکستانیٗپاکستانیوں کے خلاف جہاد کرسکتے ہیں تو بھلا اسرائیل کون سا دور ہے۔ چلنا شروع کردیں ۔آپ مجھ سے بھی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ جناب اتنے تلخ ہورہے ہیں تو آپ نے فلسطینیوں کے لیے کیا کیا ہے۔ تو جناب میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں۔ ایک جذباتی مسلمان ہوں۔ میں نے فلسطینیوں کے قتل عام کے بارے میں کیسے آبدیدہ کرنے والے دو جذباتی کالم لکھے ہیں اور کیا کروں؟ یقین کیجئے میں نے بھی ان ساڑھے تین سو فلسطینیوں کی موت کے دکھ سے نئے سال کی خوشی نہیں منائی۔ اب اور کیا کروں؟

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha