صدر اوبامہ کے پاکستان اور افغانستان کیلئے نشانچی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں براجمان ہیں۔ ان کے ہمراہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن بھی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دونوں امریکی عہدیداروں کا پاکستان آنے کا مقصد دو منہ والے سانپ کو مارنا ہے جس کا ایک منہ عسکریت پسندی کا اور دوسرا امریکہ مخالف جذبات کا ہے۔ بظاہر یہ عفریت امریکی کی سرزمین کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان کی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر ہے۔ یونانی دیومالا کہانیوں کا کرداروں میں کوئی ہرکولیس آگے بڑھ کر اس عفریت کو ہلاک کرے گا۔ لہٰذا ہالبروک ‘ مولن یا جنرل پیٹریاس اس عفریت سے دنیا کو نجات دلائیں گے۔
ایک سابق پاکستانی سفارتکار کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے ابھی فلم کا ٹریلر دیکھا ہے اصل فلم ابھی چلنی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ امریکہ نے جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل نہ کیا تو مذہبی انتہا پسندی غالب آجائے گی۔ کوئی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ پچھلے ہفتے جو خودکش حملے ہوئے تحریک طالبان کے ایک لیڈرحکمت اللہ محسود نے ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آئندہ طالبان ہفتے میں دو خودکش حملے کریں گے اور یہ حملے امریکہ کو میزائل حملوں کی اجازت دینے پر پاکستان کے خلاف انتقاماً کئے جائیں گے۔
تاہم امریکی پھر بھی بچے رہیں گے۔


لندن میں جی۔20 ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس ہوا تاکہ دنیا کو بہتر جگہ بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیں۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے پاکستان کا کوئی ذکر نہ کیا۔ تاہم وعدہ کیا کہ عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے افسروں کی تعداد بڑھائی جائے گی جو پہلے ہی اچھی خاصی ہے۔ ان افسروں کے ذمہ کام یہ ہوگا کہ ہم جیسے ملکوں پر نظر رکھیں گے کہ کہیں غربت سے تنگ آکر دہشتگردی پر نہ اتر آئیں۔ تاہم سربراہ اجلاس نے پاکستان کے پچھواڑے میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے مکمل طور پر اپنی آنکھیں بند رکھیں۔ یہاںمعصوم لوگ مررہے ہیں‘ عورتوں پر ظلم توڑے جارہے ہیں‘ مافیا ہم پر حکم چلارہا ہے، نوجوان بھوک کے خوف سے طالبان بن رہے ہیںلیکن کسی کی بلا سے! اوبامہ انتظامیہ سب سے بڑی غلطی یہ کررہی ہے کہ افغان مسئلے کو دانشوروں اور متعلقہ فریقوں کو دور رکھ رہی ہے۔ نتیجتاً ہماری حکومت بغیر بحران در بحران کا شکار ہورہی ہے۔ ہمارے ٹی وی اینکر اور ان کے مہمان خاص طور پر مسلم لیگ (ق) جیسی سیاسی جماعتوں کے ترجمان شہروں میں خودکش حملوں کی مذمت کررہے ہیں۔ اصل میں وہ اس قومی المیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہر لیڈر ایک طے شدہ ایجنڈے کے مطابق نفرت اور دہشت پھیلارہا ہے۔
رحمن ملک کے منہ میں ایک ہی بات ہے جسے وہ ہر حملے کے بعد بار بار دہرا تے ہیں۔ اپنی قابلیت کے جوہر دکھاتے ہوئے یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ لندن یا دوبئی میں نہیں بلکہ اس مقام پر ہیں جہاں کچھ دیر پہلے تباہی ٹوٹی۔ وہ قوم کو دو مختصر نصیحتیں کرتے ہیں۔ اول یہ کہ خودکش حملے ایک حقیقت ہیں جن کا ہم سب کو حوصلے سے سامنا کرنا ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنا گھر کسی کو مختصر وقت کیلئے کرایہ پر نہ دیں اس کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوجاتے ہیں اور کہانی ختم ہوجاتی ہے۔ مرنے والوں کے ڈی این اے اور دوسرے ٹیسٹوں کی فائلیں وزارت داخلہ کے تہہ خانوں میں دفن کردی جاتی ہیں انہیںدوبارہ دن کی روشنی دیکھنی نصیب نہیں ہوتی۔ پھر جب کوئی نیا حملہ ہوتا ہے تو رحمن ملک دوبارہ نمودار ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو نصیحتیں شروع کردیتے ہیں۔
مشیر برائے داخلہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ اس مسئلے کا کوئی حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم انہیں اپنی چھٹی حس پر فخر ہے جس کے بل پر وہ بتا دیتے ہیں کہ دہشتگردوں کو شہروں میں گھر میسر نہیں ہیں۔ وہ تھوڑے عرصے کیلئے مکان کرائے پر لیتے ہیں اور پھر وہاں اپنا مہلک اسلحہ یعنی بم اور خودکش جیکٹیں وغیرہ اکٹھی کرنے لگتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دہشتگردوں کو کرائے پر گھر نہ ملے تو خودکش حملے بند ہوجائیں گے۔ اگر گھر کرائے پر نہ اٹھانے سے اتنی تباہیوں سے ہم بچ سکتے ہیں تو میں مالک مکانوں سے اپیل کروں گی کہ آئندہ وہ اپنے گھر کرایہ پر نہ دیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم پر جو آفت نازل ہوتی ہے وہ کرائے پر گھر دینے کی وجہ سے نہیں بلکہ پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے ٹوٹتی ہے۔ وہ 50 نوجوان افغان جن کی نیم برہنہ لاشیں ایک قطار میں پڑی تھیں، جانور نہیں انسان تھے اور کسی کے بھائی کسی کے بیٹے کسی کے باپ تھے۔ دم گھٹنے سے ہلاک ہونے والوں نے بند کنٹینر میں اس لئے سفر کیا کہ شاید انہیں کسی بیرونی سرزمین پر روز گار مل جائے۔ اس واقعہ کے سلسلے میں بہت سے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ کیا انہوں نے طالبان کی ہائی کمان کو خودکش بمبار بھرتی ہونے کیلئے درخواست دی تھی؟ یہ ایک ایسی ملازمت ہے جس میں ناخواندہ نوجوان زیادہ دلچسپی لیتے ہیںتاکہ ان کے پاس فوری اور آسانی سے پیسہ آسکے۔ اس سے انہیں جنت کا بھی فری ٹکٹ مل جاتا ہے۔ کسی کے پاس یہ اعدادوشمار نہیں کہ خودکش بمبار بھرتی کرنے والوں نے کتنے لوگوں کو روزگار دیا۔ لوگوں کو اس وقت موت سے زیادہ بھوک کا خوف ہے۔ جن کے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں اپنے بچے طالبان کوبیچ رہے ہیں۔
اس وقت پوری دنیا مالی بحران کا شکار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بغاوت کے شعبے میں بھی بیروزگاری بڑھ رہی ہو؟ طالبان کی معیشت بھی خسارے میں جارہی ہو جنہوں نے اپنی بھرتی کا معیار سخت کر دیا ہے؟ ذرا تصور کیجئے کہ طالبان جب خودکش بمباروں کی بھرتی کھولتے ہیں تو امیدوار زیادہ اور اسامیاں کم ہوتی ہیں۔ ادھر رحمن ملک کا دعویٰ ہے کہ بہت سے نوجوان جو خودکش بمبار بننے جارہے تھے ان کی جیب میں ہیں۔ اگر انہوں نے اتنے نوجوان پکڑ رکھے ہیں تو میڈیا کو اس کی تفصیلات کیوں نہیں بتاتے؟ ہمیں معلوم ہے کہ وزارت داخلہ غیر ملکی صحافیوں سے کچھ نہیں چھپاتی اور انہیں ہر بات فوری بتا دیتی ہے ہمیں تب پتہ چلتا ہے کہ جب اگلے دن نیویارک ٹائمز یا وال سٹریٹ جنرل پڑھتے ہیں۔
ہم ہالبروک اور مولن کو کچھ نئی باتوں کے متعلق دعوت فکر دینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ افغان جنگ کے عنوان بتاتے ہیں کہ طالبان اب امن مذاکرات شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی عہدیداروں کو چاہئے کہ اپنے صدر کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیں اور اس سے کچھ سیکھیں۔ اوبامہ کے استاد چارلس جے اوگلٹری کا اپنے شاگرد کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ اپنی کوئی تشویش کسی پر ظاہر کئے بغیر دوسروں کے دل ودماغ میں داخل ہوسکتا ہے اور ان کے خیالات متاثر کرسکتا ہے

Courtesy: Daily Jinnah, 8-Apr-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha