آفتابیاں – آفتاب اقبال
ٹریفک، لوڈ شیڈنگ اور لاقانونیت کے سبب ہماری زندگی پہلے ہی ذلتوں سے عبارت تھی کہ وقت بے وقت آنے والے بیکار ایس ایم ایس کی بھرمار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ہمارا بس چلے تو ہم ان تمام اداروں اور تنظیموں کو بین کرڈالیں جو ایس ایم ایس کو اپنی مارکیٹنگ کا وسیلہ بناتی ہیں۔
ایک احمق جو واٹر ٹینک سروس چلاتا ہے، نجانے کیوں یہ گمان کر بیٹھا ہے کہ ہمیں اس کی خدمات بڑی شدت کے ساتھ درکار ہیں۔ یہ شخص اپنے انتہائی مکارانہ ایس ایم ایس کے ذریعے ہر دوسرے تیسرے دن ہمیں ترغیب دیتانظر آتا ہے کہ ہم پہلی فرصت میں ہی اپنا پانی کا ٹینک صاف کروالیں کیونکہ شاید پھر زندگی بھر ہمیں اس کار خیر کا موقع نہ ملے۔ اس ادارے کی طرف کی موصول ہونے والے ایس ایم ایس اس قدر بے محل اور فضول لگتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ اگر اپنا واٹر ٹینک صاف نہ کروانے پر ہمیں سزائے موت بھی ہوگئی ہم تب بھی مذکورہ کمپنی سے رجوع نہیں کریں گے۔ اسی طرح ایک ادارہ ایسا بھی ہے جو یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ ہمیں چوبیس گھنٹے کسی اچھی سائنس ٹیچر اور انگریزی ٹیوٹر کی تلاش رہتی ہے جو گھر آکر ہمارے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرسکے۔ اس طرف سے ایس ایم ایس ہمیں عموماً اس وقت آتا ہے جب ہم کوئی انتہائی ضروری کام سر انجام دینے کی کوشش میں مصروف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس قماش کی چھچھوری ٹیویشن کمپنی کا پیغام بغیر پڑھے ہی ڈیلیٹ کرکے ثواب دارین حاصل کرتے رہیں گے۔
پھر ایک حضرت ایسے بھی ہیں کہ جنہیں ہمارے گھر اور دفتر کی فکر کھائے جارہی ہے۔ وہ دن میں کم از کم تین بار صرف یہ چیک کرنے کے لئے ہمیں ایس ایم ایس کرتے ہیں کہ اگر ہم نے کلوز سرکٹ ٹی وی اور سیکورٹی کیمرے نصب کرنے سے متعلق اپنے دقیانوسی خیالات میں کوئی ردو بدل کرلیا ہو تو وہ اپنا نمائندہ ہمارے پاس بھیج دیں۔ اب بندہ پوچھے کہ ہم دیہاتی اور مضافاتی علاقوں کے جم پل بھلا سیکورٹی کیمروں کو زیادہ سے زیادہ کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں تاہم ان صاحب کی واحد خوبی یہ ہے کہ ان کا پیغام تقریباً یک سطری ہوتا ہے اور اس میں گرامر وغیرہ کی محض پانچ چار غلطیاں ہی ہوتی ہیں۔ زیادہ نہیں۔
اور پھر یہ نئے اور پرانے سپلٹ اور ونڈو ٹائپ ائیر کنڈیشنرز کی خرید و فروخت کرنے والا کسی نہایت ڈھیٹ کباڑی کی اولاد تو ہمیں کچھ زیادہ ہی تنگ کرنے لگا ہے۔ یہ شخص آپ کی نہایت پرانی بلکہ قدیم اشیاء نئی چیزوں کے ساتھ تبدیل کرنے کے لئے آپ کو ایک جھانسہ نما پیغام دیتا ہے۔ جھانسہ اس قدر دلفریب ہوتا ہے کہ دینے والا مکار شخص اس یقین کامل کے ساتھ کہ آپ اس کے دام میں پھنسے کے پھنسے، آپ کو براہ راست فون کرکے نہایت اپنائیت کے ساتھ پہلے تو آپ کی صحت اور مزاج وغیرہ بارے معلومات حاصل کرتا ہے اور یہ جان کر پھولا نہیں سماتا کہ آپ ہنوز زندہ ہیں۔
چند قدرے نوجوان لوگ ایسے بھی ہیں جوآپ کا جینا محض یہ پوچھ پوچھ کر دو بھر کر دیتے ہیں کہ کیا آپ فلاں فلاں گولڈن سیریز سے کسی بھی موبائل نیٹ ورک کا کوئی نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں ،اس قسم کے نمبروں میں ایک ہی طرح کے پانچ چھ ہندسے شامل ہوتے ہیں جو کہ ایک طرح کا سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔
اسی سے ملتی جلتی ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ آپ کو تقریباً روزانہ ایک ایسا ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے کہ جس میں یہ بشارت موجود ہوتی ہے کہ آپ دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں کیونکہ آپ کا حالیہ موبائل نمبر اب فلاں فلاں نیٹ ورک کے کوڈ کے ساتھ بھی دستیاب ہے۔ اس حوالے سے عموماً کوئی تلنگی سی صاحبزادی آپ کو براہ راست فون بھی کر ڈالتی ہے اور سرگوشیوں میں قائل کرنے لگتی ہے کہ قدرت آپ پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مہربان ہوگئی ہے وغیرہ وغیرہ۔
ایک صاحب نے ادب کے حوالے سے ایک خصوصی سروس کھول رکھی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کہنے کو تو ادیبوں اور لکھاریوں کی سالگرہ، رونمائی اور پذیرائی وغیرہ سے متعلق تقریبات کے حالات اور تہنیتی پیغامات وغیرہ کی ترسیل ہے مگر جس دن سے یہ سروس قائم ہوئی ہے ادیبوں کی صحت کے حوالے سے مندے کا رجحان ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے ایس ایم ایس بالعموم اس طرح کے ہوتے ہیں ۔
فلاں صاحب مختصر علالت کے بعد گزشتہ شب اپنے خالق حقیقی سے جاملے یا پھر یہ کہ غسل خانے میں گرنے سے ایک عدد ٹانگ اور غالباً دو ایک پسلیاں تڑا بیٹھے یا یہ کہ کینسر کا موزی مرض تشخیص ہوا ہے۔
اب تو اکثر تقریبات میں بھی موصوف بزرگ اور بیمار ادیبوں کو نہایت للچائی نظروں سے دیکھا کرتے ہیں کہ شاید اللہ کسی نئی ” خبر “ سے سرفراز فرما دے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
Recent Comments