ڈاکٹر عطاء الرحمن
تحقیقی اشاعت میں یہ اضافہ آبادی کی شرح تناسب کی تحقیقی صلاحیت کے اعتبار سے نہیں، ہندوستان کے برابر لے آیا۔ جس پر ہمیں انٹرنیشنل فورم پر اور مختلف غیر ملکی اخبارات اور ماہرینِ تعلیم کی طرف سے سراہا گیا دیکھئے
http://en.wikipeida.org / wiki/Higher Education Commission of Pakistan
اس بے مثال کامیابی پر جہاں ہمیں غیر ملکی ماہرینِ تعلیم کی طرف سے پذیرائی اور دادِ تحسین ملی وہیں ہندوستان میں خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہو گئیں اور ہندوستانی ماہرین اور اخبارات نے اسے اپنے ملک کے لئے خطرہ قرار دیا اور اپنے وزیر اعظم کی توجہ اس طرف دلائی گئی…دیکھئے
http://www.hindustantimes.com/
News – feed / NM13 / Pakthreat -to Indian – science /
Article1-124925.aspx
مگر افسوس کہ اعلیٰ تعلیم کا یہ عہدِ زریں بے حد مختصر اور بہت غیر مستقل ثابت ہوا۔نئی جمہوری حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نہایت منظم طریقے سے برباد کرنا شروع کر دیا۔ وہ ادارے جو ملک کی معیشت اور دفاع کو ترقی میں معاونت اور انفرادی قوت کی فراہمی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کام دے سکتے تھے، انہیں ملک کے مستقبل کے لئے انتہائی غیر ضروری قرار دیا گیا، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقیاتی بجٹ جو2002ء میں6/ارب روپے تھا اس بجٹ کی بتدریج کٹوتی اس طرح کی گئی کہ 2010ء تک یہ فنڈ60کروڑ روپے رہ گیا اور اپنے اصل بجٹ کا محض10فی صد ہوگیا۔ Biotechnology اورNational Commissions on Nanotechnology جیسے ادارے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے تھے انہیں یک جنبش قلم یکسر ختم کر دیا گیا۔اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں پچاس فی صد کمی کر دی گئی۔ وہ تمام منصوبے جو فرانس، جرمنی، اٹلی، سوئیڈن، آسٹریلیا اور کوریا کے اشراک سے پایہٴ تکمیل کو پہنچے تھے، جن میں غیر ملکی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آنا تھا، انہیں غیر ملکی پارٹنروں کی شدید ناراضی کو خاطر میں لائے بغیر ایسے وقت میں ختم کیا گیا جب تعلیمی سال کے آغاز میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔آجHEC کا Executive Director جو ایک فیڈرل سیکریٹری کے برابر ہوتا تھا، اپنے اختیارات کھو چکا ہے۔ 4500 ذہین طالب علم جوHEC اسکالرشپ پر غیر ملکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم تھے اور جن کی اکثریت کا تعلق غریب یا اوسط درجے کے گھرانوں سے تھا، حکومت کی طرف سے وظائف روک دیئے جانے پر مسجدوں میں رہنے اور یورپ کی سڑکوں پر راہگیروں سے اپنے لئے مدد کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر میں احتجاج کرتے ہوئےHECکے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوا۔
غیر منطقی فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ان تباہ کن حالات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ تمام وجوہا ت میرےHECکے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ چھوڑنے کا سبب بھی بنیں۔جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر منتخب ہونے والے بدعنوان اور کرپٹ وزراء HECکی مخالفت پر کمر بستہ ہیں کیونکہHEC نے51 پارلیمنٹ کے نمائندوں کی ڈگریوں کو جعلی اور251منتخب نمائندوں کی ڈگریوں کو مشکوک قرار دیا تھا۔ اس بات پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے باوجود کرپٹ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے ان عوامی نمائندوں کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی اور نہ انہیں نااہل قرار دیا۔ البتہ 30نومبر2010کو ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ، جس میںHECکی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس کے تمام اختیارات سلب کر لئے گئے۔ میں نے اس معاملے پرسپریم کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا اور حکومت کے اس فیصلے کے خلاف میری درخواست کو سپریم کورٹ نے جائز قرار دیا اور حکومت کے30نومبر کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا۔
اس اقدام کی بدولت میںHEC کو بچانے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن اس کی فنڈنگ کو بحال نہ کر سکا۔ یہ ادارہ ہنوز وسائل کی کمی کا شکار ہے۔
قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان میں اس ادارے کی کامیاب پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستان نے حال ہی میں اسی طرز پر National Commission on Higher Education & Research بنانے کیلئے قانونی طور پر منظوری دیدی ہے۔
ہندوستان اپنی نظریاتی جنگ کے ذریعے پاکستان کو شاید اتنا نقصان نہیں پہنچاسکا جتنا”گھر کے چراغوں“نے اس ملک کو اپنی غلط پالیسیوں کے ذریعے پہنچایا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کے فوجی ڈکٹیٹر بھی ملک کو ترقی کے لئے منتخب نمائندوں کے مقابلے میں بدرجہا بہتر کارکردگی دکھا گئے جس کا بڑا ثبوت ان کے دور کے حاصل کردہ GDP ہیں۔ جمہوری حکومتوں نے اس ملک کو محض کرپٹ حکمران اور ملکی نمائندوں کی شکل میں صرف لٹیرے دےئے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
Recent Comments