ڈاکٹر عطاء الرحمن
اعلی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پسندی اپنی عملی حیثیت میں ملکی معیشت کی بقاء اور تعمیر و ترقی میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کی زندہ مثال آج کا ہندوستان ہے۔ ہندوستان نے معاشی اور معاشرتی تبدیلی کے لئے علم و ہنر، انجینئرنگ اور بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی(IT) کو کلیدی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کئی اعلی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آج وہاں 1,522 انجینئرنگ کالج ہیں جن سے سالانہ اوسطا582,000 طلبہ مستفیض ہو سکتے ہیں۔ ان کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے انجینئرز کا سالانہ تناسب تقریباً500,000 بنتا ہے جو کہ صنعت و دفاع کے شعبوں کو بھرپور افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا شمار دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔آج ہندوستان کی 60بلین ڈالر کیIT برآمدات اسی اچھی شہرت، بہترین افرادی قوت اور اعلی کارکردگی کی مرہون منت ہیں۔
پاکستان میں انجینئرنگ کا تعلیمی شعبہ شروع سے ہی نظر انداز ہوتا چلا آ رہا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت کی حیثیت سے اور پھر چیئرمینHECکی حیثیت سے میرے دورِ اختیار2001ء سے2008ئکے دوران ہر پبلک سیکٹر انجینئرنگ یونیورسٹی کے لئے10سے 20کروڑ روپے مختص کئے تاکہ انجینئرنگ کی تعلیم میں جدید تحقیق کو بھی شامل کیا جا سکے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس شعبے کی پسماندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ1947 ء سے2002 ء کے دوران ملک میں قائم تمام یونیورسٹیوں سے صرف3,321 پی ایچ ڈی نکلے۔ اگلے 9سالوں میں یعنی2003ء سے 2011ء کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 4,000 ہو گئی۔ 2010ء تک پی ایچ ڈی حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد2001ء کے مقابلے میں تقریباً 400 فی صد تک بڑھ چکی تھی۔ انجینئرنگ کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے انجینئرنگ یونیورسٹیوں کوکئی ارب روپے کی خطیر گرانٹ دی گئی اور انہی یونیورسٹیوں کے لئے2ہزار کے قریب ذہین ترین طالب علموں کاانتخاب کر کے انہیں پی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرونِ ملک بھیجا گیا۔ان خصوصی ترجیحات اور اقدامات کے نتیجے میں ملک کے کئی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اعلیٰ تعلیمی جامعات آج دنیا کی 500بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہیں۔ ان میںNUST، University of Eng. Lahore اورCOMSATS جیسے ادارے شامل ہیں۔ یونیورسٹیوں کا تعلیمی معیار بڑھانے کے لئے میری وزارت کے دوران جو اقدامات کئے گئے ان میں سر فہرست:
1۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تکنیکی مہارت رکھنے والے اساتذہ کی تقرری تھی۔ اس افرادی قوت میں اضافے کے لئے6 /ارب روپے کی رقم مختص کی گئی، جس سے5ہزار طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرونِ ملک بہترین یونیورسٹیوں میں بھیجا گیا۔ دنیا کا سب سے بڑاUSAID اورHECکے اشتراک سے فل برائٹ Scholarship کے پروگرام کا آغاز کیاگیا۔ جس میں 150ملین ڈالرکی رقم سے طلبہ میں وظائف تقسیم کیے گئے۔اس مشترکہ فنڈ کے قیام سے640طلبہ نے استفادہ کیا اور انہیں امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔
2۔ اساتذہ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ان کی تقرری اور ترقی (Promotion) کے قوانین کو سخت بنایا گیا۔
3۔ تعلیمی معیار کو بہتر اور جامع بنانے نیز بیرونِ ملک جدید یونیورسٹیوں کے ہم پلہ لانے کے لئے 4سالہUnder Graduate تعلیمی کورس متعارف کرائے گئے۔
4۔ نقل کے رجحان اور نقل شدہ مقالات کی روک تھام کے لئے ساری جامعات میںAntiplagiarism Software متعارف کرایا گیا۔
5۔ پی ایچ ڈی ڈگری کے معیار کو بلند کرنے کے لئےPh.D کے مقالات کو اعلیٰ ترقی یافتہ ملکوں کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم دو ماہرین سے توثیق کو لازمی قرار دیا گیا۔
6۔ تعلیمی معیار کی گارنٹی کے لئے یونیورسٹی میں Quality Assurance Cellکا قیام عمل میں لایا گیا۔
7۔ اساتذہ کے لئے ملک میں اور بیرونِ ملکTeacher Training Prog. متعارف کرائے گئے۔
8۔ملک میں رائج تمام تعلیمی کورسز کو ازسرِنو ترتیب دے کر انہیں بہتر اور جدید طرزِ تعلیم سے ہم آہنگ بنایا گیا۔
پاکستان کی سینیٹ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکناولوجی نے 2003ء سے2008ء کے دورانیے کو اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے بہترین سال قرار دیا۔ ملک کے ابتدائی55سالوں میں یعنی1947ئسے 2002ء تک یونیورسٹیوں میں داخلے کا تخمینہ اوسطاً 275,000سالانہ تھا۔ اگلے نو سالوں میں یعنی2003ء سے 2011ئکے دوران یہ شرح تین گنا اضافے کے ساتھ بڑھ کر800,000 ہو گئی۔ اس عہدِ زریں میں یونیورسٹیوں اور ان کے علاوہ ڈگری دینے والے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد71 سے بڑھ کر137 تک جا پہنچی، جو کہ دو گنااضافہ ہے۔ابتدائی سالوں میں Ph.Dکے لئے طلبہ کو دیئے جانے والے وظائف کی تعداد محض1500 تھی جو بعد کے سالوں میں بڑھ کر 12,000 ہو گئی۔طلبہ کے لئے لائبریری کا استعمال محدود تھا، ملک میں اچھی لائبریریوں کا فقدان تھا HECکیDigital Library کے قیام کے ساتھ ہی طلبہ کے لئے تدریسی کتابوں اور جدید انٹرنیشنل جریدے تک رسائی انتہائی آسان ہو گئی۔اب اس سہولت کے ذریعے تمام یونیورسٹیوں کے طلبہ بغیر کوئی فیس ادا کئے Internetکے ذریعے25,000 تحقیقی جرائد اور60,000 کتب بآسانی مطالعہ کر سکتے ہیں۔اس سہولت بہم پہنچانے کا براہ راست نتیجہ تحقیقاتی مقالات کی اشاعت میں کئی گنا اضافے کی صورت میں ہوا۔
ابتدائی56سالوں میں شائع شدہ تحقیقات کی سالانہ تعداد800 تھی جو 2003ء میں4500سے تجاوز کر چکی تھی۔ جاری ہے
بشکریہ روزنامہ جنگ
Recent Comments