آفتابیاں … آفتاب اقبال

بے پناہ مصروفیت نے کئی دن سے ہمیں روک رکھا تھا ورنہ ہم نئی فوڈ سٹریٹ کا ایک آدھ طواف آج سے دس دن پہلے ہی کرچکے ہوتے۔ بہرحال ہم کسی نہ کسی طرح گزشتہ شب نئی فوڈ سٹریٹ پہنچ ہی گئے۔ یاد رہے کہ لاہور میں فوڈ سٹریٹس دو طرح کی ہیں۔ ایک پرویز مشرف برانڈ اور دوسری حمزہ شہباز والی، مشرف برانڈ کی دیگر تمام اشیاء کی طرح اب فوڈ سٹریٹ بھی روبہ زوال ہے۔ ایک تو سرے سے بند ہی کردی گئی ہے جبکہ دوسری یعنی پرانی انارکلی والی بھی آخری سانسیں ہی لیتی نظر آتی ہے۔
حمزہ شہباز والی فوڈ سٹریٹ ہماری توقعات سے کہیں زیادہ شاندار نکلی۔ وہاں پہنچ کر ہم نے کیا کچھ دیکھا اور محسوس کیا، اس کا احوال ہم بعد میں بیان کریں گے پہلے ایک عمدہ اور اصل نسل کا شعر ملاحظہ کیجئے۔
ہم بھی گئے تھے گرمئی بازار دیکھنے
وہ بھیڑ تھی کہ چوک میں تانگہ الٹ گیا!
فوڈ سٹریٹ میں بھیڑ بھی بہت تھی اور عین ہمارے پہنچتے ہی ایک تانگہ بھی بیچ چوک کے الٹ گیا۔ یہ تانگہ ہمارا نہیں بلکہ کسی اور کا تھا۔ کوچوان نے پہلے تو دائیں ہاتھ میں چھانٹا لہراتے ہوئے چند دھمکی آمیز حرکتیں کیں مگر گھائل گھوڑے نے شاید اسے گھاس ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور نہایت اطمینان کے ساتھ سڑک پر لیٹا شاہی قلعے کے مشہور و معروف ٹیکسالی دروازے کی طرف دیکھتا رہا۔ اس دوران کوچوان اس کی گردن تھپتھپاتا ہوا اس کے کان میں کچھ بڑبڑایا۔ دفعتاً گھوڑا اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا۔ ہم بیحد حیران ہوئے اور سوچا کہ معلومات میں اضافہ ہی سہی کیوں نہ کوچوان سے پوچھا جائے یا حضرت آپ نے اس بے زبان کے کان میں کیا پھونک ماری کہ وہ بھلا چنگا ہو کر کام پر واپس آگیا مگر اس سے پہلے کہ ہم اس خیال کو عملی جامہ پہناتے تانگہ ہماری نظروں سے تقریباً اوجھل ہوچکا تھا۔ ہم نے بہت غور کیا مگر کچھ پلے نہ پڑا کہ گھوڑے کے کان میں کیا بات کی گئی کہ جس کا اس نے یوں اثر لے لیا؟ ایک واہیات سا لطیفہ یاد آیا کہ جس میں ایک شخص نے گھوڑے کے کان میں کچھ کہا مگر اس نے نفی میں سرہلا دیا جس کے سبب وہ شخص ایک شرط جیت گیا مگر پھر فوراً ہمیں یہ بھی یاد آگیا کہ مذکورہ لطیفے میں جس جانور کے کان میں سرگوشی کی گئی وہ گھوڑا نہیں بلکہ گدھا تھا۔
خیر ذکر ہورہا تھا پرویز مشرف کا تو اس کی فوڈ سٹریٹ نہایت برے حالوں میں ہے مگر حمزہ شہباز شریف نے نئی فوڈ سٹریٹ بنا کر پورے علاقے کو چار چاند لگادئیے ہیں۔ یہ علاقہ کسی زمانے میں بازار حسن ہوا کرتا تھا مگر ضیاء الحق کے ہاتھوں نیست و نابود ہونے والی بے شمار چیزوں کی طرح لاہور کا بازار حسن بھی اب محض گردو غبار حسن کی حد تک ہی باقی بچا ہے کہ ”حسن“ اب شہر کے پوش علاقوں میں منتقل ہوچکا ہے جبکہ یہاں صرف بازار ہی رہ گیا ہے۔ اس بازار میں آپ کو اب صرف نقلی تلے والی جوتیاں یا موٹی توند والی عبرتناک حد تک بے ہنگم بائیاں ہی نظر آئیں گی جو اپنی اپنی خستہ حال چوکھٹوں کے باہر بال کھولے بیٹھی ہر آتے جاتے کو دل ہی دل میں برا بھلا کہتی محسوس ہوتی ہیں۔
گٹار، ستار اور طبلے کے اچھے کاریگر اور مستری چونکہ آج بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں، اس لئے ہمارا سال میں دو ایک بار ادھر کا چکر لگ ہی جاتا تھا مگر اس نئی فوڈ سٹریٹ کو اچھی طرح دیکھ بھال کر ہمیں یقین ہوچلا کہ اب یہ چکر لگتے رہیں گے ۔مشرف والی فوڈ سٹریٹ کی سب سے بڑی قباحت وہاں پر ٹائلٹ کی عدم دستیابی تھی۔ ٹائلٹ اول تو تھے ہی بہت کم اور جو تھے وہ بیہودہ بھی تھے اور دور افتادہ بھی۔ یعنی”شدت غم“ میں مبتلا اکثر احباب کو ہم نے ٹائلٹ پر لعنت بھیج کر نالیوں اور تاریک گوشوں کا قصد کرتے کئی بار دیکھ رکھا ہے مگر حمزہ شہباز شریف والی فوڈ سٹریٹ کی دوسری بڑی خوبی اس کے کشادہ، صاف ستھرے اور خوشنما ٹائلٹ ہی ہیں، البتہ پہلی یعنی سب سے بڑی خوبی اس کا محل وقوع ہے جس مقام پر ہم نے سجی، پٹھورے اور کشمیری چائے کا لطف اٹھایا، وہ قلعے کی عظیم الشان دیوار سے محض چند فٹ کے فاصلے پر واقع تھی اور وہاں سے بادشاہی مسجد کے پرشکوہ گنبد اور مینار آپ کے ساتھ باقاعدہ باتیں کرتے محسوس ہوتے ہیں۔
البتہ پارکنگ کے معاملے میں یہ نئی فوڈ سٹریٹ پرانی سے کافی پیچھے ہے کیونکہ گوالمنڈی میں واقع پرانی سٹریٹ کو پارکنگ کے لئے اس کے ساتھ متصل نسبت روڈ کی دونوں اطراف فراہم کردی گئی تھیں اور وہاں پارکنگ کبھی پریشانی کا باعث نہیں تھی البتہ یہاں خوشنما ٹائلٹ والی کسر بدنما پارکنگ نے نکال رکھی ہے جو پارکنگ میسر ہے وہ نہایت خوبصورت مگر انتہائی قلیل ہے۔ اس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ فوڈ سٹریٹ کے اس خوشگوار اضافے سے پورے علاقے کی جون ہی بدل گئی ہے۔ ماسوائے ان موٹی بے ہنگم بائیوں کے پورا ماحول بیحد خوش ہے۔ بیچاری ازکار رفتہ بائیاں آج بھی پھٹی پھٹی ویران آنکھوں سے آپ کو گھورتی اور دل ہی دل میں برا بھلا کہتی محسوس ہوتی ہیں۔ نئی فوڈ سٹریٹ اپنی تمام تر رونق اور رنگینی کے باوجود ان کی آنکھوں سے پرانے منظر نہیں مٹا پائی۔ اسی شاعر کا ویسا ہی ایک اور شعر دیکھئے #
آنکھوں میں کیا ہنسے نئی تعمیر کی خوشی
دل میں ابھی تو غم ہے پرانے مکان کا

بشکریہ روزنامہ جنگ

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

 
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha