چوراہا – حسن نثار

دنیا آگ کی مانند ہے اور آگ اپنے پجاری کو بھی جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ اس شکارگاہ میں ہر کوئی شکار ہے کہ ملک الموت جیسا میر شکار کوئی دوسرا نہیں کہ اس کے نشانے سے نہ کوئی بچا نہ آئندہ بچ پائے گا۔ وہ کون ہے جو سرائے کو گھر سمجھ لیتا ہے اور گزرگاہ کو منزل؟ انسان دنیا جمع کرتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آخرکار یہ دنیا انہیں منتشر کرکے رکھ دے گی۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
دنیا… دنائیت سے ہے جس کا مطلب ہی ذلت اور کمینگی ہے۔ خواب کا علم آنکھ کھلنے پر ہوتا ہے اور زندگی کے خواب کا آنکھیں بند ہونے پر کہ یہ تو پانی پر عکس سے بھی زیادہ بے معنی ہے۔ سو یوں رہو جیسے پرندہ انڈے میں رہتا ہے یا سر بانسری میں سوئے ہوتے ہیں۔
خلیفہ واثق باللہ نے مرتے وقت جو شعر پڑھے ان کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ ”نہ بازاری لوگ بچیں گے نہ بادشاہ ہی زندہ رہیں گے۔ غریبوں کو ان کی قبرں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور امیروں کو ان کی قبریں کوئی راحت نہ پہنچا سکیں۔“
عبدالملک کو جب موت کا یقین ہوچلا تو اس نے کہا… ”زندگی بھر یہ آرزو رہی کہ خود کو زیادہ سے زیادہ مسرور کرسکوں لیکن کبھی سچی خوشی نصیب نہ ہوئی۔ میں نے حکومت کا بوجھ اس لئے اپنے سرلیا کہ بادشاہت انسانی ترقی کی معراج ہے لیکن مجھے دھوکہ ہوا۔ میں نے جو کچھ کیا اس پر سخت نادم اور متاسف ہوں لیکن افسوس ندامت اور تاسف کا وقت گزر چکا ہے اور میں ناکام و نامراد گناہوں کا بوجھ لئے دنیا سے جارہا ہوں۔ میں نے جو راستہ اپنے لئے منتخب کیا وہ سراسر غلط تھا۔ میرے حال سے عبرت حاصل کرو۔“ یہ ہیں آخری الفاظ اس خلیفہ عبدالملک کے جس کی خلافت میں حجاج بن یوسف نے خانہ کعبہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
ہارون الرشید طوس میں بستر مرگ پر تھا۔ جس محل میں ٹھہرا ہوا تھا اسی میں اپنی قبر کھدوانے کا حکم دیا۔ جب قبر تیار ہوگئی تو چند لوگوں نے قبر میں اتر کر قرآن مجید کی تلاوت کی۔ ہارون الرشید نے کہا ”لوگو! گواہ رہنا میں خدا پر ایمان رکھتا ہوں اور رسول اللہ کی رسالت کا سچے دل سے قائل ہوں۔ میں مصیبت اورگناہ کا ایک پیکر ہوں جس نے زندگی بھر غم غلط کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی غم غلط نہ ہوسکا۔ میں نے بے حد مغموم اور فکر کی زندگی گزاری ہے۔ حکومت کے کاموں اور اس کی لعنتوں نے مجھے اکثر خدا اور دین سے غافل رکھا۔ اللہ مجھے معاف کرے۔ مجھے زندگی کا کوئی دن ایسا یاد نہیں جو میں نے بے فکری کے ساتھ بسر کیا ہو۔ اب میں موت کے کنارے ہوں۔ موت تم سب سے مجھے جدا کردے گی اور یہ قبر جواس وقت منہ کھولے میرے سامنے ہے، میرے جسم کو نگل لے گی۔ یہی ہر انسان کا مال لیکن انسان اس سے غافل رہتا ہے۔“
قارئین! یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ مجھے ہو کیا گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ میں بیشتر وقت یہی کچھ سوچتارہتا ہوں لیکن آج ایسی سوچ کا غلبہ ضرورت سے کچھ زیادہ یوں ہوا کہ میں نے ابھی ابھی اپنے بہت ہی پیارے دوست راجہ انور کے بے مثال سفرنامہ کاآخری باب ختم کیا ہے جس کا عنوان ہے… ”گھر جاندی نے ڈرنا“ اس آخری باب میں راجہ انور اٹھارہ سال کی جلاوطنی کے بعداپنے گاؤں پہنچ کر اپنے بزرگوں کی قدم بوسی کے لئے آبائی قبرستان جاتا ہے۔ اس بیان نے جان نچوڑ کے رکھ دی ہے۔ مجھے تو پہلے ہی قرار نہیں کہ اس تحریر نے بے قراری کی انتہا کردی ہے۔
لوئے لوئے بھرلے کڑیئے جو توں بھانڈا بھرنا
شام پئی تے فیر محمد گھر جاندی نے ڈرنا
مجھے یقین ہے کہ اس ملک کے حکمران طبقات کو موت یاد نہیں… ایوان ہائے اقتدار نے انہیں قبرستان کے رستے بھلا دیئے ہیں حالانکہ عامیوں کی طرح ان کی قبریں بھی منہ پھاڑے ان کے انتظار میں ہیں لیکن ان جونکوں کو عوام کا خون پینے اور انہیں بیوقوف بنانے سے ہی فرصت نہیں لیکن کب تک؟
چلتے چلتے یہ بھی سن لیں کہ راجہ انور کے سفرنامہ کا ابھی نام فائنل نہیں ہوا لیکن میری فائنل رائے یہ ہے کہ اردو زبان میں ایسا کوئی سفرنامہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ ایک انگریزی سفرنامہ

… “EARTH MY FRIEND” میرا فیورٹ تھا۔ راجہ کا سفرنامہ اس کو بھی مات کرچکا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

 
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha