ذراہٹ کے…یاسر پیر زادہ
البرٹ پنٹو کو میں لڑکپن سے جانتا ہوں ،سراپا خلوص اور مجسم نحوست ۔اسکا اصل نام توعبد المجید عرف جیدا تھا لیکن پھر اوئل عمری میں ہی اس نے ایک فلم دیکھ لی جس کا نام تھا ”البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے ؟“ بس، تب سے اپنے آپکو البرٹ پنٹو کہلوانا شروع کر دیا حالانکہ اس فلم کا جیدے سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا جیدے کا کسی البرٹ سے ہو سکتا ہے۔ فلم دیکھ کرجیدے نے صرف نام ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ بلاوجہ غصے میں بھی رہنا شروع کر دیا اور پھر رفتہ رفتہ یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی کہ جس دن جیدے عرف البرٹ پنٹو کے غصیلے پن کی کوئی خبر نہ آتی ،اس روز لوگوں کو شک گذرتا کہ یا تو البرٹ فوت ہو گیا ہے یا پھر چھٹی منانے اپنے گاؤں بھوئے آصل گیا ہوا ہے۔
یوں تو البرٹ پنٹو نے غصے کی عادت کو شوقیہ اپنایا تھا تاہم جب اسے احساس ہوا کہ اس کا غصہ عوام میں ”ہٹ“ ہو چکا ہے تو اس نے شعوری طور پر غصے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور پھر اس غصے میں جدت پیدا کرنے کی غرض سے چند اچھوتی گالیاں بھی ایجاد کر ڈالیں جن کا ساؤنڈ ایفیکٹ بڑا جاندار تھا۔
ہمارے بعض دوستوں کے خیال میں البرٹ کے غصے رہنے کی وجہ کسی زمانے میں شوقیہ رہی ہو گی لیکن اب وہ حقیقتا ً غصے میں رہتا ہے کیونکہ وہ ملک و قوم کی حالت دیکھ کر کڑھتا ہے ۔میں اپنے ان دوستوں سے متفق نہیں ہوں کیونکہ میرے خیال میں البرٹ قوم کی نہیں بلکہ اپنی حالت دیکھ کر کڑھتا ہے جو قوم سے بھی زیادہ خراب ہے ۔موصوف کی مالی حالت کسی حسینہ کی کمر کی طرح خاصی پتلی ہے جبکہ خرچے ایسے بڑھا رکھے ہیں جیسے کسی زمانے میں نوجوان ایلویس پریسلے کی نقل میں اپنی قلمیں بڑھا لیتے تھے ۔اور پھر البرٹ نے زندگی میں کبھی غلطی سے بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھا،کامیابی اس سے یوں ناراض رہتی ہے جیسے پرانے وقتوں کی فلموں میں ساس اپنی بہوسے خواہ مخواہ ناراض رہتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب البرٹ کا بات بے بات غصہ کرنا ”کلک“ کر گیا تو اس نے اسی کو اپنی کامیابی جانا اور تاحال اسی پالیسی پر کاربند ہے۔اس کا موٹو ہے کہ ”جب غصہ آئے تو تھوک دو… دوسروں پر۔“ایک دفعہ ایسے ہی اپنی ترنگ میں غصہ تھوک رہے تھے کہ ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کواس سے بھی زیادہ غصہ آ گیا ،اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ،اپنا زیرو میٹر جوتا اتار کر ایسی تواضع کی کہ سات دن تک البرٹ پنٹو پلنگ سے نہ اٹھ سکا ،گالیوں کا حرج علیحدہ ہوا۔اس دن کے بعد سے البرٹ نے تہیہ کر لیا کہ آئیندہ کسی محفل میں غصہ کرنے سے پہلے ایسی جگہ بیٹھے گا جہاں سے قریب ترین جاندار کا فاصلہ کم از کم سات فٹ ہوتاکہ بوقت ضرورت بھاگ کر جان اور عزت بچائی جا سکے حالانکہ خدا جانتا ہے کہ آخر الذکر شے کا البرٹ کے ہاں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔تاہم اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ البرٹ نے غصے پر قابو پانے کی کوشش شروع کر دی ہے ۔جیسا کہ میں نے کہا ،البرٹ کا یہ سودا بکتا ہے ،لوگ اسے غصے میں دیکھ کرمحظوظ بھی ہوتے ہیں اور کسی قدر متاثر بھی لہذا اب البرٹ اپنا سٹائل نہیں بدل سکتا۔سٹائل سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ سلطان راہی کے اندازمیں گالیاں نکالتا ہے بلکہ اس سے مراد البرٹ پنٹو کا وہ انداز ہے جس میں غصے کے ساتھ مزید غصہ دلانے والی لاپرواہی جھلکتی ہے۔
البرٹ پنٹو چونکہ ایک مفلوک الحال آدمی ہے ،اس لئے اس کا زیادہ تر غصہ ان لوگوں پر نکلتا ہے جو اس کی طرح مفلس نہیں ہیں ۔وہ خود امیر نہیں ہونا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ باقی دنیا اس کی طرح غریب ہو جائے ۔مڈل کلاس لوگوں میں بیٹھ کر جب وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف زہر اگلتا ہے تو ہر طرف سے واہ واہ کے ڈونگڑے برسنے لگتے ہیں ۔اور جب وہ سرمایہ داروں کے درمیان بیٹھتا ہے تو غریب کے خلاف ایسی چارج شیٹ تیار کرتا ہے کہ امیر لوگ عش عش کر اٹھتے ہیں ۔ان باتوں سے آپ شائد یہ محسوس کریں کہ البرٹ منافق قسم کا انسان ہے یا اس کا تعلق ق لیگ نما کسی جماعت سے ہے ،نہیں ایسا نہیں ہے ،بنیادی طور پرالبرٹ پنٹو ایک شریف آدمی ہے ۔اسے بس غصے میں رہنے کا شوق ہے،اپنا یہ شوق وہ ہر قیمت پر پورا کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں البرٹ پنٹو اور غصہ اب ایک برینڈ نیم بن چکے ہیں۔تاہم اس برینڈڈ غصے کا کیا فائدہ ہے ،یہ شائد البرٹ کوبھی نہیں پتہ۔
آج کل البرٹ کے سر میں ٹی وی ٹاک شوز کا بھوت سمایا ہواہے ،اس کا خیال ہے کہ اس جیسی نابغہ روزگار شخصیت جس دن کسی ٹاک شو میں آ گئی ،اس دن سب کے چھکے چھوٹ جائیں گے، اس کا آئیدیل ،ایک ایسا شخص ہے جو ٹاک شو میں اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے مہمان کو بلاخوف و خطر چور کہہ دیتا ہے۔میری باتیں سن کر البرٹ کی یرقان زدہ آنکھوں میں مزید چمک آ گئی ،کچھ دیر سوچنے کے بعد البرٹ نے پوچھا ”پھر اب مجھے کیا کرنا چاہئے ؟“
”تمہیں فوری طور پر کوئی ایسی جماعت جوائن کر لینی چاہئے جس کا لیڈر تمہاری طرح زہریلا اور بد لحاظ ہو ،غصے میں اس کی آنکھیں شعلے برساتی ہوں ،منہ سے جھاگ نکلتی ہواور وہ جب بھی اپنے کسی مخالف کے بارے میں بات کرے تو لہجے میں فرعونیت جھلکتی ہو ،ایسا لیڈر تمہیں اپنی جماعت میں ہاتھوں ہاتھ لے گا۔“ میں نے گویا کوزے میں دریا بند کر دیا ۔میری بات سن کر البرٹ پنٹو کے چہرے پر وہی زچ کردینے والی مسکراہٹ ابھر آئی ،اس نے مجھے ایک ہو میو پیتھک قسم کی گالی نکالی اور بولا”مشورہ تم تمہارا بہت اچھا ہے ،مگرجس جماعت کی تم بات کر رہے ہو ،اس کا لیڈر اپنے آپ کو فرشتہ اور عقل کل سمجھتا ہے اور ایسے لوگوں کی میں …“ اس سے پہلے کہ البرٹ پنٹو کو غصہ آتا اور وہ کوئی فصیح و بلیغ گالی نکالتا ،میں نے جلدی سے البرٹ سے اجازت لے کر ہاتھ ملایا اور پتلی گلی سے نکل آیا
بشکریہ روزنامہ جنگ
Recent Comments