قاسم علی رضا
کتا ایک وفادار جانور ہے اور کتوں کی وفاداری اور جانثاری پر دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ وفاداری کی خوبی کے ساتھ ساتھ جانوروں کی یہ نسل نہ صرف بہت حسّاس طبیعت کی مالک ہے بلکہ اپنی عزّت اور آبرو پر کوئی حرف بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ آج کل جگہ جگہ دیواروں پر تحریر کئے گئے ایک نعرے نے اس وفادار جانور بالخصوص کتوں کی نوجوان نسل کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ نوشتہ دیوار پڑھو۔ آج کل دیواروں پر ایک نعرہ لکھا ہوا ہے اور اس نعرے نے کتوں کی وفاداری پر کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ ہر نسل کے کتے اس نعرے پر گہری تشویش اور شدید احتجاج پر آمادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام النّاس کو کتوں کے اس انوکھے احتجاج کے اسباب اور وجوہات سے آگاہ کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ راقم کتوں کی وفاداری کی اہمیت و افادیت سے اچھی طرح واقف ہے، لہٰذا ہماری دانست میں کتوں میں پائی جانے والی تشویش کو نظرانداز کرنا، وفا کی علامت کتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف اور ان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگا۔
کتا برادری کی نازک طبع پر کیا بات گراں گزری ہے، اس کے پس پردہ ایک کہانی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی بنا پر نکالے جانے والے یا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے افراد کھلے عام اپنی اپنی جماعتوں اور رہنماؤں کو ہدف تنقید بنانا شروع کردیتے ہیں تو ان جماعتوں کے وفادار اور چند جذباتی کارکنان بطور احتجاج دیواروں پر مختلف رنگوں سے نعرے لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور بے وفا فرد یا افراد کو کتا قرار دیتے ہوئے نعرے لکھتے ہیں کہ ”فلاں شخص کتا ہے، فلاں شخص بے وفا کتا ہے اور فلاں شخص غدار کتا ہے“ جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا کہ خوئے وفا کی مالک جانوروں کی یہ نسل بہت حسّاس ہے اور اس قسم کے نعرے پڑھ کر کتا برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز اور قوّت برداشت ختم ہوگئی اور بالآخر ان میں بھی اپنے ساتھ ”بے وفا اور غدار“ جیسے القابات کے استعمال پر احتجاج کی سوچ پیدا ہوئی اور یوں ایک وسیع و عریض مقام پر ہر نسل اور ہر رنگ کے کتوں نے جمع ہوکر نہ صرف اتحاد کا مظاہرہ کیا بلکہ احتجاجی جلسہ تک کر ڈالا۔ احتجاجی جلسے میں کتوں کے نمائندہ رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور پھر ایک قرارداد پیش کی گئی جسے تمام حاضر کتوں نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ قرارداد قارئین کی خدمت میں پیش ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”ہم کتے وفاداری اور جانثاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، ہم اپنی سونگھنے کی حس کی مدد سے منشیات پکڑتے ہیں، دھماکا خیز مواد دریافت کرتے ہیں، زلزلے کے باعث منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے انسانوں کا پتا بتاتے ہیں، انسانوں کے گھروں کی حفاظت تک کے فرائض انجام دیتے ہیں اور حیوان ہونے کے باوجود انسانیت کی خدمت کرتے ہیں لہٰذا انسانیت دشمن عناصر اور کسی بھی بے وفا فرد یا افراد کو کتا برادری سے تشبیہ دینا ہماری وفاداری کو گالی دینے کے برابر ہے۔“
احتجاجی جلسے میں شریک تمام کتوں نے یک زبان ہوکر سیاسی جماعتوں کے جذباتی کارکنان سے درخواست کی کہ وہ اپنے جذبات کے اظہار کا کوئی اور ذریعہ تلاش کریں اور خدارا ہماری برداری پر رحم کریں کیونکہ آخر ہماری بھی کوئی عزّت ہے لہٰذا بے وفائی کی صفت کے حامل فرد یا افراد کا تعلق ہماری نسل سے جوڑنے کے عمل پر نظرثانی کریں۔ احتجاجی جانوروں نے یہ بھی درخواست کی کہ اگر الّو برادری کے تحفظات نہ ہوں یا انہیں بہت زیادہ اعتراضات نہ ہوں تو بہتر ہوگا کہ بے وفائی یا احسان فراموشی کرنے والوں کو کتا قرار دینے کے بجائے ”الّو کا بچہ“ کہا جائے تو نہ صرف کتا برادری پر احسان عظیم ہوگا بلکہ اس سے ہماری برادری میں بڑے پیمانے پر پائی جانے والی تشویش اور بے چینی کا بھی ازالہ کیا جاسکے گا۔ بات دل کو لگتی ہے اور دلائل بھی بے وزن نہیں ہیں، بھلا جو کوئی بھی آدابِ وفاداری سے ناواقف ہو، احسان فراموش ہو، جو قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کی ترغیب نہ دے، جو اپنے مالک سے بے وفائی کرے اور اپنے ہی محسن پر بھونکنا شروع کرے، ایسے کسی بھی فرد یا افراد کا کتا برادری سے تعلق جوڑنا یقیناً کتوں کی وفاداری کی تذلیل کرنا ہو گا۔ کتے جانور ہی سہی لیکن اپنے مالک سے مخلص ہوتے ہیں، مالک سے پیار اور غذا پا کے خوشی میں اپنی دم ہلاتے ہیں اور ان کے پیروں سے لپٹتے ہیں۔ یہی نہیں اگر مالک کسی بات پر اپنے کتے سے ناراض ہوجائے، اس کا کھانا پینا بند کردے یا ڈانٹ دے تو بھی یہ وفادار جانور کبھی اپنے مالک پر نہیں بھونکتا، اس پر حملہ نہیں کرتا اور اس کے کردار پر کیچڑ نہیں اچھالتا۔ ایسا عمل کرنے والا فرد یا افراد جو آداب وفاداری اور جانثاری کا پاس نہ رکھیں اور جس کا کھائے اسی پر غرائے، اسے وفادار جانور سے تشبیہ نہیں دی جانی چاہئے۔ ہماری دانست میں کتوں کا احتجاج جائز اور مذکورہ بالا نعروں کے حوالے سے ان کے دلائل بہت وزنی ہیں جس کا ضرور نوٹس لیا جانا چاہئے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
Recent Comments