آفتابیاں – آفتاب اقبال
ویسے تو دنیا کے ہرحصے میں ہیرو پیدا ہوتے اور مرتے کھپتے رہتے ہیں مگر ان کے معاملے میں اہل مغرب سے بڑا بیوقوف شاید روئے زمین پر کوئی نہ ہوگا۔ یہ لوگ اپنے ہیروز کی قدر کچھ اس انداز اور فیاضی سے کرتے ہیں کہ ہم جیسے لوگ باقاعدہ جھلاہٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ چھچھور پنے کی انتہا دیکھیں کہ یہ لوگ اپنے ہیروز کے نہ صرف مجسمے بنا بنا کر اپنا اور پوری قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کرتے ہیں بلکہ ڈاک ٹکٹ جیسی مقدس شے پر بھی اپنے دو دوٹکے کے کھلاڑیوں، سائنسدانوں، شاعروں اور لکھاریوں کی تصاویر چھاپ ڈالتے ہیں۔
مختلف ممالک میں تعمیر و ترقی کی شرح ناپنے کے لئے مورخین اور تجزیہ کار بھی آج کل ایک عجیب سی حماقت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آپ کے شہریوں نے اب تک کتنے نوبل انعامات جیتے ہیں حالانکہ اس قماش کا لعنتی سوال کرنے کا کوئی جواز ہے بھلا۔ ہمارے خیال میں اس کے پیچھے بھی ہو نہ ہو کوئی گھناؤنی سازش ہے جس کے ڈانڈے واشنگٹن ڈی سی یا لندن سے جا ملتے ہوں گے۔ اس خیال کو تقویت اس وقت ملتی ہے جب آپ آج تک امریکی اور برطانوی شہریوں کو ملنے والے نوبل انعامات کی تعداد معلوم کرتے ہیں۔
آپ کو یہ جان کر قعطاً حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ تاحال 333نوبل انعامات حاصل کر چکا ہے۔ برطانیہ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے ہے تو نہایت مختصر سا مگر جس طرح اس نے ساری عمر دیگر معاملات میں ادھم مچائے رکھا ہے بالکل اسی طرح اس کے ہاں نوبل انعام پانے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ چنانچہ برطانیہ میں اس حرکت کا ارتکاب کرنے والوں کی تعداد 120ہے اور تو اور، سویڈن جس کی آبادی لاہور سے بھی کچھ کم ہی ہے، اب تک 29نوبل انعام حاصل کر چکا ہے۔
یہودی اس حوالے سے بڑے مکار نکلے ہیں کہ پوری دنیا میں ان کی آبادی تو محض ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے یعنی ایک ہزار افراد میں صرف دو یہودی ہوں گے، مگر نوبل انعام ان لوگوں نے 160حاصل کر رکھے ہیں۔
مسلم ممالک کے لکھاریوں، ادیبوں، سائنسدانوں اور شاعروں کو اس حوالے سے دو طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک تو یہ کہ حسد، کمینگی اور خباثت کی آگ میں جلتا ہوا مغربی میڈیا کبھی مسلم شخصیات کو وہ پذیرائی دیتا ہی نہیں کہ ان بیچاروں کا فن اور شخصیت کھل کر سامنے آسکے۔ چنانچہ یہ احباب زیادہ تر گمنامی کی موت ہی مارے جاتے ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسکین اپنی اپنی حکومتوں اور معاشروں کے سامنے معتوب ٹھہرتے ہیں۔
مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کو اب تک نوبل انعام مل چکا ہے مگر ان کی متعلقہ حکومتوں اور بھائی بندوں نے ان کم نصیبوں کی وہ درگت بنائی کہ ان آٹھوں کو بارہا یہ کہتے سنا گیا کہ خواہ اور کچھ بھی کرلو، مگر خدارا، کبھی نوبل انعام حاصل کرنے کی حماقت نہ کرنا، ذرا ایک ایک کرکے ان ساتوں کا احوال ملاحظہ کیجئے۔
نوبل انعام پانے والے مسلم ممالک کے شہریوں میں سے تین کا تعلق مصر سے، ایک کا فلسطین سے، ایک ایران سے ، ایک ترکی ، ایک پاکستان اور ایک بنگلہ دیش سے ہے۔ مصر کے احمد حسن زویل کو کیمسٹری میں نوبل انعام ملا۔ یہ حضرت جب تک امریکہ میں مقیم رہے، تب تک تو سب اچھا تھا مگر پھر جونہی ان کے پیٹ میں وطن کی محبت کا مروڑ اٹھا اور یہ واپس مصر آئے، تو انہیں فوج کا ایجنٹ قرار دے کر خاصا بے عزت کیا گیا۔
نجیب محفوظ نے ادھر ا دب کا نوبل انعام جیتا اور ادھر یار لوگوں نے اسے سلمان رشدی سے ملتی جلتی کوئی چیز قرار دے کر اس کی وہ مٹی پلید کی کہ پوچھئے ہی مت۔ ایک جوشیلے سیاسی کارکن نے تو خنجر کے ساتھ نجیب محفوظ کی خدمت بھی کر ڈالی اور یہ قسمت کا مارا تادم مر گ اس زخم کو ساتھ لئے پھرتا رہا۔ حکومت نے کافی تگ و دو کرکے اسے مسلمان قبرستان میں دفن کروایا۔
انوارالسادات ویسے تو ایک دور میں کافی مقبول سیاسی لیڈر اور صدر مملکت رہے مگر امن کا نوبل انعام ملتے ہی ان پر بھی برا وقت آگیا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور نوبل انعام برائے امن حاصل کرنے کی پاداش میں سادات کو فوجی پریڈ سے سلامی لیتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
ایران کی شیریں عبادی کو ادب کا نوبل انعام ملا تو ایرانی حکومت نے اس عمل کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے اس خاتون کو ”غدار ملت“ قرار دیا۔ اسی طرح یاسر عرفات جنہیں امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ خود فلسطینیوں کی نظروں میں ایک متنازعہ شخصیت رہے اور ان کے انعام کو کبھی اہمیت نہ دی گئی۔ پاکستان کے ڈاکٹر عبد السلام نے فزکس میں نوبل ا نعام حاصل کیا مگر بعض حساس و جوہات کی بنا پر انہیں ”ہیرو“ تسلیم نہیں کیا گیا۔ بنگلہ دیشی ماہر اقتصادیات محمد یونس نے جونہی نوبل انعام پانے کا ارتکاب کیا، حکومت نے سیاسی مخالفت کی وجہ سے ان پر مقدمہ قائم کر دیا۔ ملازمت سے ہاتھ الگ دھونے پڑے۔ حالانکہ لگ بھگ ایک کروڑ گھروں کا چولہا اسی شخص کی وجہ سے جلتا ہے۔ ترکی کے اورہان پاک کو ادب کا نوبل انعام ملا مگر جب انہوں نے کردوں اور آرمینیا کے باشندوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کا ذکر اپنی تحریروں اور تقریروں میں شروع کیا، تو یہ حضرت بھی فوری طور پر ہیرو سے زیرو بن گئے۔ چنانچہ یہی وہ سلوک ہے جو زندہ اور بہادر قومیں اپنے ہیروز کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے لوگ اب اپنا دھیان علم و فضل اور امن و آشتی جیسی بیہودہ چیزوں پر مرکوز کرنے کی بجائے پراپرٹی ڈیلنگ و دیگر مفید کاموں کی طرف لگاتے ہیں تاکہ قومی ا ور معاشرتی ”لتریشن “سے محفو ظ رہ سکیں۔ تاہم جو بیچارے یہ انعام پہلے پا چکے ہیں، ان سے ہماری گزارش فقط یہی ہے کہ ”ہور چوپو!“۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
Recent Comments