ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ابوظبی میں منعقد ہونے والی سالانہ سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت میں حکمت و دانش کا مرکز ثابت ہوئی جب بڑھتے ہوئے عالمی چیلنج نئے اور اختراعی حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نوّے ممالک کے مندوبین نے اس دو روزہ کانفرنس کے دوران جس کا اہتمام متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کیا تھا مختلف مسائل کے حوالے سے اپنے اپنے دماغوں کا سارا زور صرف کر دیا۔ ان سوچنے والوں کا تعلق علمی اداروں، حکومت، تاجر اور سول سوسائٹی سے تھا اور انہیں انّاسی کونسلوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا تاکہ وہ عالمی ایجنڈے پر مسائل کی ایک وسیع سطح پر گفت و شنید کر سکیں۔ ان کے تحقیقاتی نتائج ایسی سفارشات مرتب کرنے میں مدد دیں گے جو کلیدی فیصلہ سازوں کے لئے 2012ء میں ڈیووس میں منعقد ہونے والی سالانہ میٹنگ میں ضروری ہوں گی جس کا موضوع ہوگا ”عظیم تبدیلی : نئے ماڈلوں کی صورت گری“۔
متحدہ عرب امارات میں ہونے والی اس سربراہی کانفرنس نے اس جانب بھرپور توجہ دی کہ عالمی فیصلہ سازی کے لئے نئے ماڈلز کیسے سامنے لائے جائیں۔ موجودہ ماڈلز یا نمونے وقت کے تقاضوں اور تبدیلیوں کے عین مطابق نہیں ہیں جو گلوبلائزیشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں اور جن کی وجہ سے پوری دنیا میں وسائل کی ضرورت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس قسم کی ورلڈ اکنامک فورم کی میٹنگز میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے ایک ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جو اس بات پر مبنی ہوتا ہے کہ جب تک باہم متعلقہ عالمی مسائل مربوط طریقے سے حل نہ کر لئے جائیں اس وقت تک تمام اقدامات بے ثمر رہیں گے۔
اس سال منعقد ہونے والی یہ سربراہی کانفرنس بڑھتی ہوئی بے یقینی کے بین الاقوامی ماحول اور پیچیدگیوں کے درمیان منعقد ہوئی ہے جسے ان خطرات نے مزید بڑھا دیا تھا جو مغرب کے جاری معاشی بحران سے درپیش ہیں۔ چنانچہ یہ دیکھ کر قطعاً کوئی تعجب نہیں ہوا کہ ایک چینی مندوب نے مطالبہ کر دیا کہ عالمی شراکت داری کی کسی نئی قسم کو متعارف کرایا جائے جو موجودہ عہد کی روح اور چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو۔ اس چینی مندوب کے اعتماد اور خود یقینی میں اس کے ملک کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سفارت کاری کا غلبہ بے حد نمایاں طور پر محسوس ہوا۔
ہی یا فائی نے جو جنیوا میں چین کے سفیر ہیں کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ موجودہ مسائل کو حل کرنے کی غرض سے ہمیں ABC سے کام شروع کرنا ہوگا۔ ان کے بقول ”اے“ سے ایکشن ”بی“ سے بولڈنیس اور سی سے ”تعاون“ مراد ہے۔ جب تک عالمی اقوام مل جل کر اس فارمولے پر عملدرآمد نہیں کریں گی اور دوسروں کو اپنی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے سے احتراز نہیں کریں گی اس وقت تک ان چیلنجز کا حل تلاش نہیں کیا جا سکے گا۔ ان کے بقول عالمی معاشی بحران کو ممکنہ طور پر تین خطرات کا سامنا ہے جس کے لئے آپس میں مل جل کر ایک مشترکہ رویہ اپنانا ہوگا۔ ایک غیرحل شدہ اسٹرکچرل مسائل جو دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں موجود ہیں اور بڑھتی ہوئی مارکیٹوں کے ظہور میں سست روی جیسے حقیقی خدشات ایسے ہیں جو مغرب کی معیشت کو لاحق ہیں اور عالمی معیشت کو بھی شدت کے ساتھ متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسرا خطرہ وہ سماجی اور معاشرتی بے چینی اور اضطراب ہے جو یہ معاشی بحران جنم دے رہا ہے اور جو ان دنوں مختلف ممالک کے گلی کوچوں اور سڑکوں پر پھیل چکا ہے۔ وال اسٹریٹ میں کئے جانے والے احتجاجی مظاہروں نے اس آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے اور یہ بے چینی اور اضطراب اب ہر جگہ پھیل رہی ہے۔ تیسرا خطرہ عوام کے اعتماد کا وہ فقدان ہے جو حکومتوں سے وابستہ ہوتا ہے کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کریں گی۔ ان تمام خطرات اور خدشات سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ نئے تعاون کے ماڈلز پر مبنی عالمی گورننس کی اصلاح کی جائے۔
یورپ سے تعلق رکھنے والے مندوبین اس بے چینی اور اضطراب کا اظہار کر رہے تھے جو یورو زون کے قرضوں کے بحران سے پیدا ہوا ہے جس نے پورے براعظم یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کے فقدان کا بھی ذکر کیا جس نے ممالک کے باہمی اعتماد کو کلی طور سے ختم کر کے رکھ دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر بل رچرڈسن کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کی معیشت چاروں طرف سے ایسی پھنس کر رہ گئی ہے جس کے نتیجے میں ایسی مایوسی اور قنوطیت جنم لے رہی ہے جس کے باعث پورا مستقبل تاریک نظر آتا ہے لہٰذا امریکہ کے لئے یہ بیحد ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کر لے۔ ان کا ماننا تھا کہ عالمی استحکام کو سب سے بڑا خطرہ امریکی قیادت کے فقدان سے لاحق ہے جسے اس کے اندرونی داخلی مسائل نے پیدا کر دیا ہے کیونکہ وہاں صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔
قیادت کے اس فقدان کا تذکرہ عالمی علاقائی اور قومی سطح پر برابر جاری رہا جس کی بازگشت اس کانفرنس کی کارروائی کے دوران سنی جاتی رہی۔ بعض مندوبین کے نزدیک یہ ایک ایسا خطرناک رجحان ہے جو اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے اداروں کی اہمیت میں کمی کا سبب ہو سکتا ہے۔ مندوبین میں سے متعدد کا یہ خیال تھا کہ گروپ آف 20صنعتی ممالک دراصل ”تصادم کا اتحاد“ ہے۔ انہوں نے اس کی قانونی حیثیت اور نمائندگی کو بھی چیلنج کیا۔ ایک مندوب کا کہنا تھا کہ آپ کیسے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ دیگر ممالک جی 20ممالک کے فیصلوں کی پابندی کریں گے کیونکہ انہیں تو سرے سے ان فیصلوں میں شریک ہی نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں ان فیصلوں کی بابت اطلاع تک نہیں دی جاتی۔ ایک عرب مندوب نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جی 20ممالک میں مسلم دنیا کی کوئی نمائندگی موجود نہیں ہے۔ اس بات سے تقویت پاتے ہوئے یہ مان لیا گیا کہ وسیع تر نمائندگی اور قریب تر تعاون کو عالمی شہریوں کی گلوبلائزڈ دنیا میں ایک نئے اصول کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔ ذہنوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔ پائیداری کے لئے ترجیح بہت ضروری ہے۔
تاہم اس کانفرنس میں جو موضوع شرکاء اور مندوبین کی توجہ کا مرکز بنا اور جس پر کافی بحث و مباحثہ ہوا وہ درحقیقت عرب ممالک کی بیداری تھا اور مستقبل پر یہ بیداری کیسے اثر انداز ہوگی؟ بہرحال یہ سوال بھی اپنی جگہ بدستور موجود ہے کہ اگر یہ عرب بیداری وابستہ توقعات کو پوری کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوسری قوتیں اسے ہائی جیک کر لیں گی؟ اگر اس عرب بیداری کی لہر کے پیچھے کار فرما قوتیں متحد نہیں رہ پائیں تو کیا مذہبی انتہا پسندی کے خطرات بڑھ جائیں گے؟ بہرنوع یہ بات بڑی واضح ہے کہ عرب ممالک میں ہونے والی یہ سیاسی تبدیلی بعض غیریقینی قوتوں اور کشیدگیوں کو بھی آزاد کر رہی ہے۔ اس نے تبدیلی کے اس ماڈل کے فقدان کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو اس پورے خطے میں ناپائیدار اور غیرمتوقع نتائج کا حامل ہو سکتا تھا۔ ان خطرات میں خانہ جنگیاں، فرقہ وارانہ اختلافات اور معاشی بدحالی اور سیاسی انتشار کے اس دور میں معاشرتی روابط میں کمی بھی شامل ہے۔ ایک طرف تو پرانا نظام سسک سسک کر دم توڑ رہا ہے لیکن دوسری جانب اب تک کوئی روڈ میپ یا مستقبل کا کوئی ایسا وژن موجود نہیں ہے جو اس بے قیادت عرب تحریک کے اندر سے ظہور کرتا ہوا دکھائی دے۔
ممکن ہے مطلق العنان ریاستوں میں موروثی طور پر ایسی تبدیلیاں پوشیدہ ہوتی ہوں تاہم اس پورے خطے میں قیادت اور رہنمائی کا فقدان جو عرب دنیا کے کسی مرکزی ادارے کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے اور عرب لیگ کا غیرموثر ہو جانا ان تبدیلیوں کو نہ صرف پیچیدہ بنا رہا ہے بلکہ انکے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بہرکیف یہ تبدیلیاں اور واقعات اس حقیقت کو ثابت کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے خطے سے امریکی اثرات کا بالکل اسی طرح خاتمہ ہونے والا ہے جس طرح 1950ء کی دہائی میں اس خطے سے برطانیہ کا اثرونفوذ ختم ہوا تھا۔ اب اس تبدیلی کا انتظام اس خطے ہی کو کرنا ہوگا خواہ اس میں سمت کا فقدان ہی کیوں نہ ہو۔
بہرنوع کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکاء اور مندوبین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ جب تک اداروں کو مضبوط اور مستحکم نہیں کیا جاتا اس وقت تک کوئی پائیداری نہیں آئے گی اور قیادت کے بغیر آپ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ اس کانفرنس میں مرحوم اسٹیو جابس کے اس پیغام کی بازگشت بھی سنائی دی کہ ”اگر آپ مستقبل کی پیش بینی کرنا چاہتے ہیں تو آپ خود اسے ایجاد کریں“۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha