چوراہا- حسن نثار

باہر ڈرون
اندر ڈینگی
کیا یہ لیتھل قسم کا مقامی اور غیر ملکی کومبینیشن بھی ہمیں مجبور کرنے کے لئے کافی نہیں کہ ہمیں اپنے کرتوتوں پر ازسرنو غور کرنا چاہئے کیونکہ اگر اوپر اللہ اور نیچے دنیا ہم سے خفا ہے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
بغیر عمل کے دعا قدرت کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے سو یہ جان لینا ہو گا کہ اعمال تبدیل کئے بغیر حال تبدیل نہیں ہو گا اور اگر حالات میں تبدیلی کی خواہش ہے تو پہلے اپنی عادات تبدیل کرو لیکن یہ المیہ بھی اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ عادتیں سروں کے ساتھ ہی جاتی ہیں۔ ڈینگی ہی دیکھ لو کہ جب تک اس نے پھٹے نہیں اکھاڑ دیئے… کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور اب بھی چند دنوں میں یہ چتکبرا مچھر فیڈ آؤٹ ہو گا تو صرف موسم کی وجہ سے جس پر خوش ہو کر بغلیں بجانے کی بجائے اس کے دوسرے حملہ کا سامنا کرنے کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور یہ صرف حکومت کا ہی کام نہیں، عوام کو بھی اپنے حصہ کا کام کرنا ہو گا حکومت سے غیر ضروری توقعات وابستہ کرنا آفات کے آگے ڈھیر ہونے والی بات ہے کہ یہاں کون سا شہزادہ کریم حکمران ہے۔
ولی عہد ایران شہزادہ اول کریم اک روز ہجوم داد خواہاں اور مقدمات کے فیصلوں سے بری طرح تھک چکا تو عدالت برخواست کرنے کا قصد کیا۔ جب اٹھ چکا تو اک نئے فریادی نے دہائی دی کہ … ”میرا مال چوری ہو گیا، مجھے انصاف دیا جائے“۔ منصف شہزادے نے پوچھا کہ ”جب چوری ہوئی تو تو اس وقت کیا کر رہا تھا؟“
”میں گہری نیند سو رہا تھا“ فریادی نے جواب دیا تو شہزادے نے غصیلے لہجے میں جواباً پوچھا
”تو کیوں سو رہا تھا؟“
”میں اس غلط فہمی کے باعث سو گیا تھا کہ میرا محافظ یعنی میرا حکمران جاگ رہا ہو گا“
شہزادہ کریم پر فریادی کا یہ جواب سن کر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ کچھ دیر بعد سنبھلا تو فریادی کے نقصان کے ازالہ کا حکم دیتے ہوئے کوتوال سے کہا … ”چور پکڑو اور چوری کا مال برآمد کر کے خزانہ میں جمع کراؤ“
یہ سب بادشاہتوں کے قصے ہیں۔ ہم جیسی فراڈ جمہوریتوں میں جو کچھ کرنا ہے لوگوں نے خود کرنا ہے۔ یہاں تو جینوئین ایف آئی آر درج کرانے کے لئے بھی سفارش کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جسے یقین نہ آئے وہ مجھ سے رابطہ کرے تو میں بتاؤں کہ نام نہاد ”گڈ گورننس“ کے گڑھ اور گھر ماڈل ٹاؤن لاہور میں دن دیہاڑے لاکھوں کی واردات ہو گئی لیکن ایف آئی آر تب تک درج نہ ہوئی جب تک … ہاں جب تک کہ اس صوبہ کی بھی اصل اوقات یہی ہے کہ ماڈل ٹاؤن جیسی بستی میں بھی ایف آئی آر تب تک درج نہیں ہوتی جب تک؟؟؟ وہی لعنتی سفارش
جس پھنے خان کا جی چاہے مجھے چیلنج کرے تو میں یہ ثابت کر دوں گا کہ سب جھوٹ ہے۔ وفاقی حکومت بہت نالائق، گھٹیا، ناکام اور بری ہے تو صوبائی نے کون سی توپ چلائی ہے؟ تھانہ کلچر کی تبدیلی بھی کیا وفاقی مسئلہ ہے؟ شاید یہاں کوئی بھی کچھ بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔ گڈ گورننس ہو بھی تو کیا کر لے گی؟ جہاں ”بنیادی کیریکٹر“ ہی قصہٴ پارینہ بن چکا ہو، وہاں کیسی تبدیلی کہ دنیا بھر کی محنت اور صلاحیت مل کر بھی پیتل کو سونا اور ایلمنیم کو یورینیم نہیں بنا سکتی۔
کالم یہیں تک پہنچا تھا کہ میرے اور ماضی کے درمیان اک خوبصورت پل کے انہدام کی خبر ملی۔ حمید اختر صاحب بھی رخصت ہو گئے۔ یہ شہر بلکہ ملک مزید کنگال اور ویران ہو گیا۔ جس رات وہ رخصت ہوئے اسی شام میں نے جواں سال اور مقبول شاعر وصی شاہ کو فون کیا کہ تم بھی ڈیفنس کے رہائشی ہو، حمید اختر صاحب کے گھر کا پتہ لگاؤ اور اہل خانہ سے وقت طے کر لو میں ان کی عیادت کے لئے حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ کچھ دیر بعد وصی شاہ کا فون آیا کہ ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ دواؤں کے زیر اثر ہیں، جونہی طبیعت سنبھلتی ہے مطلع کر دیں گے آپ آ جانا۔ شام کو یہ بات ہوئی اسی رات میرے فیورٹ دوسرے حمید یعنی اے حمید کے بعد حمید اختر بھی رخصت ہو گئے۔
میں اور مجھ جیسے بیشمار لوگ دکھی اور سوگوار ہوں گے لیکن دور کہیں جنت کے کسی باغ میں ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، سجاد ظہیر، سبط حسن، عبداللہ ملک، صفدر میر، احمد بشیر، احمد ندیم قاسمی، ابن انشاء، ظہور نظر، احمد ریاض، سید انور اور اعجاز اکرم بہت خوش ہوں گے کہ ہمدم دیرینہ بھی ان کے پاس پہنچ گیا۔ جنت مزید مالدار ہو گئی… جہنم اور اجڑ گیا۔
یہ میری زندگی کا پہلا کالم ہے جس کا بنیادی موضوع ادھورا چھوڑ کر میں خود سے تعزیت کرنے بیٹھ گیا کہ حمید اختر صاحب کی موت کے بعد اس موت کے علاوہ کسی اور موضوع پر لکھنا بدتمیزی اور بد ذوقی ہوتی محاورتاً نہیں حقیقتاً اک فرد نہیں… اک عہد اپنی تمام تر کہانیوں کے ساتھ رخصت ہو گیا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha