سب جھوٹـ امر جلیل

آج ہم بات کریں گے ان عناصر کے بارے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک جیسے ہیں۔ ہم ان عناصر کے بارے میں بات نہیں کریں گے جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کامن یعنی مشترکہ نہیں ہیں۔ مثلاً ہم دونوں ممالک میں رائج ریلوے نظام کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔ کیونکہ اگر بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی۔ ہم دونوں ممالک کے تعلیمی نظام کا بھی موازنہ نہیں کریں گے۔ ہم دونوں ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور ترویج کے بارے میں بھی بات نہیں کریں گے۔ہم دونوں ممالک میں فلم انڈسٹری کے بارے میں بھی بات نہیں کریں گے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ انکے پاس پانچ ہزار سے زیادہ فائن آرٹ اور پرفارمنگ آرٹس یعنی پینٹنگ، سنگتراشی، موسیقی، اداکاری، صداکاری، رقص، تھیٹر آرٹس،سینو موٹو گرافی، اسکرپٹ، ڈائیلاگ اور اسکرین پلے سکھانے کے ادارے ہیں۔ آج ہمیں بات کرنی ہے ۔ صرف اور صرف ان عناصر، رویوں اور رجحانات کے بارے میں جو دونوں ممالک میں ایک جیسے ہیں۔اپنے رویوں اور سوچ کے مطابق دونوں ممالک کے سیاست دان اپنی اپنی ذات میں راجے، مہاراجے، نواب، راجکمار اور بادشاہ ہیں۔ دونوں ممالک کی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ممبران اپنی اپنی سیٹ کو اپنا تخت، اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی اس کو شش کی نذر کر دیتے ہیں کہ ان کے بعد ان کی جاگیر، ان کے تخت یعنی اسمبلی سیٹ پر کون براجمان ہوگا۔ اس منصب کے لئے وہ اپنے بیٹے، پوتوں اور پڑ پوتوں کو تیار کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ممبران کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعدان کی اولاد موروثی اسمبلی سیٹ پر تشریف فرماں ہوتی ہے اور اسمبلی اور لوک سبھا کو رونق بخشتی ہے۔ ان کی موجودگی اسمبلیوں اور لوک سبھاؤں کو چار پانچ چاند لگا دیتی ہے۔
پرانے دور کے نوابوں اور راجاؤں کی طرح پاکستان اور ہندوستان کی اسمبلیوں اور لوک سبھا کے ممبران اپنی طاقت بڑھانے اور مستحکم کرنے کے لئے آپس میں رشتے داریاں بڑھاتے ہیں۔ اپنے بیٹے، بیٹیوں کو شادی کے بندھنوں میں باندھتے ہیں۔ ایک ممبر کا بیٹا دوسرے ممبر کا داماد بن جاتا ہے اور کسی ممبر کی بیٹی کسی دوسرے ممبر کی بہو بن جاتی ہے۔ ممبر آپس میں سمدھی بن جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ممبران آپس میں ہم زلف ہو جاتے ہیں۔کئی ممبر ایک دوسرے کے چاچے، مامے، بھانجے، بھتیجے، کزن اور سالے لگتے ہیں۔ یہ رجحان دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان میں ایک جیسا ہے ۔ تل بھر کا فرق نہیں ہے۔
اسمبلیوں کے حوالے سے دونوں ممالک میں ایک رویہ مشترکہ نہیں ہے۔ ایک جیسا نہیں ہے۔ اس رجحان کے بارے میں ہم بات نہیں کریں گے۔ ہم اس بات کو زیر غور نہیں لائیں گے کہ دونوں ممالک میں اسمبلی اجلاس کے دوران ہماری خواتین ممبر اس قدر بن ٹھن کر اور سولہ سنگھار کر کے کیوں آتی ہیں اور ہندوستان میں خواتین اسمبلی ممبر اس قدر سادہ کیوں ہوتی ہیں حالانکہ ان میں کچھ اپنے دور کی نامور ہیروئن ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہم کوئی بات نہیں کریں گے ہمیں بات کرنی ہے ان رویوں کے بارے میں جو کہ دونوں ممالک میں ایک جیسے ہیں۔ اس طرح کے رویّے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے ہم باسی کبھی ایک ہی ملک کے باسی ہوا کرتے تھے اور یہ عرصہ صدیوں پر محیط ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ، ہوئے یہی کوئی ساٹھ پینسٹھ برس گزرے ہیں۔ صدیوں کی عادتیں، اطوار، طور طریقے، رویے رجحان ساٹھ پینسٹھ برس میں تبدیل نہیں ہوتے، آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے ہیں۔ کچھ چیزوں میں دونوں ممالک الگ الگ نظر آتے ہیں۔ مثلاً تعلیم و تربیت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ ریلوے نظام میں ایک ملک نے دوسرے ملک کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ادب، آرٹ، پرفارمنگ آرٹس، فنون لطیفہ کے شعبے اب دونوں ممالک میں ایک جیسے نہیں رہے۔ دونوں ممالک میں لائبریریاں، ریڈنگ روم اور کتاب پڑھنے کے رجحان مخالف سمت میں ایک دوسرے سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ ان عناصر کے بارے میں بات کرنی فضول ہے۔
ہمیں تو بات کرنی ہے ان عادتیں اور رویوں کے بارے میں جو دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان میں ایک جیسے ہیں اور شاید لمبے عرصے تک ایک جیسے رہیں گے۔ مثلاً سیاست دان گالم گلوچ اور دہینگامشتی کے علاوہ ایک دوسرے کے پول کھول دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ننگا کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں رشوت خوری عروج پر ہے۔ دونوں ممالک میں اللہ کے آدمیوں کا یعنی غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے پولیس والے اپنے رویوں میں ایک دوسرے کے سگے بھائی لگتے ہیں۔ وہ تفتیش کے نام پر ملزم کی کھال ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ مار مار کر ادھ موا کر دیتے ہیں اور اکثر مار دیتے ہیں۔ ناخن گوشت سے الگ کر دیتے ہیں۔ ان کی کارکردگی کی وجہ سے گنہگار چھوٹ جاتے ہیں اور بے گناہ پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ نے چاہا تو ان رویوں میں بھی خاطرہ خواہ فرق پڑ جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha