جرگہ- سلیم صافی

کاش ایسا نہ ہوتا لیکن لگتا ہے کہ اب کچھ نہ کچھ ہوکر رہے گا۔ پشتو کے ایک مقولے کا مفہوم ہے کہ ہوشیار پرندہ شکاری کی جال میں مشکل سے پھنستا ہے لیکن جب ایک باربھی پھنستا ہے تو پھر ایک نہیں دونوں ٹانگوں کو پھنسواکر چھوڑتا ہے۔پاکستانی سیاست کا ہوشیار ترین پرندہ بے حد ہوشیار ثابت ہوا ۔ انہوں نے ہر طرف کے شکاریوں کو یوں رام کرلیا تھا کہ وہ گزشتہ سالوں میں اپنے اپنے دام تک کو سمیٹ کر ایک طرف رکھ چکے تھے۔ اس پرندے نے الٹا ہر شکاری کو شکار کرلیا تھا اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ ان کے داموں میں پھنس کر رہ گیا تھالیکن لگتا ہے کہ اب ہر شکاری اپنے آپ کو سنبھال چکا ہے ۔ وہ نہ صرف ہوشیار پرندے کے دام سے نکل گئے ہیں بلکہ اب انہوں نے اس کے شکار کے لئے اپنے اپنے دام بھی پھیلادیئے ہیں ۔
محترم آصف علی زرداری صاحب پاکستان کے کامیاب ترین سیاستدان مگر ناکام ترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔ کامیاب سیاست کے ثمرات وہ استحقاق سے زیادہ وصول کرچکے اور لگتا ہے کہ اب انہیں ناکام حکمرانی کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔اپنی کامیاب سیاست کے زعم میں وہ ملکی مسائل سے یوں لاتعلق ہوگئے کہ غربت، مہنگائی، بدامنی،بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ وغیرہ نے عوام کا جینا یوں حرام کرکے رکھ دیا کہ شہری ہوں کہ دیہاتی ، بچے ہوں کہ بوڑھے، سب ان کی حکومت کو بددعاوٴں سے نواز رہے ہیں۔ صحافت و سیاست میں جو ان کے ساتھ ہیں وہ بھی کسی خیر کی توقع کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی حکومت کے شر کے خوف سے ایسا کررہے ہیں اور شر کے خوف سے عزت دینے والے موقع ملتے ہی بے عزت کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔اسی طرح سندھ کارڈ اب ان کے خلاف تو استعمال ہوسکتا ہے لیکن وہ خودشاید اسے مزید استعمال نہ کرسکیں۔ میاں نوازشریف کا مزید ان کی چالوں میں آنا ممکن نظر نہیں آتا، لیکن سب سے بڑی تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ پاکستانی سیاست کی بساط بچھانے اور لپیٹنے کی طاقت رکھنے والی اندرونی اور بیرونی قوتیں ان سے جو فائدہ لے سکتی تھیں لے چکیں اور اب دونوں کے لئے اسی طرح بوجھ بنتے جارہے ہیں جس طرح ذوالفقار مرزااستعمال ہونے کے بعد ان کے لئے بن گئے ہیں۔
بظاہر خطرہ کوئی نہیں، پارلیمنٹ میں عددی اکثریت برقرار ہے۔ ایم کیوایم جاتی ہے تو قاف لیگ آجاتی ہے اور وہ جانے کا نام لیتی ہے تو ایم کیوایم واپس لوٹ آتی ہے ۔ جمہوریت کے ختم ہوجانے کے خوف سے میاں نوازشریف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔دہشت گردی کا خطرہ بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ فوج مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پہلے سے الجھی ہوئی تھی اور اب امریکہ کے ساتھ بھی الجھ گئی ہے ۔ پھر چونکہ فوج امریکہ سے الجھ گئی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں تابعدار سیاسی قیادت کو بچاکر رکھے گی۔ عدلیہ کے عقاب بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرچکے ہیں اور میڈیا کے مجاہدبھی حکومت کی رخصتی کی تاریخیں دے دے کر تائب ہوگئے ہیں لیکن شاید یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ تابعداری کے باوجود موجودہ سیاسی سیٹ اپ امریکہ اور پاکستانی فوج دونوں کے لئے بوجھ بن گیا ہے ۔ بدترین طرز حکمرانی دونوں کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے ۔ امریکہ اس نتیجے تک آگیا ہے کہ اس بدانتظامی اور بدعنوانی کے ہوتے ہوئے وہ کتنے بھی ڈالر پھینک دیں ، وہ اس ملک کو مطلوبہ کردار کے قابل نہیں بناسکتا۔ واشنگٹن پوسٹ کی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کی سیاسی قیادت سے صدراوباما کی مایوسی کا واضح الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ۔ تبھی تو امریکی میاں نوازشریف سے رجوع کرنے لگے ہیں اور بعض ذرائع تو ان کی بات کے بن جانے کی خبر بھی دے رہے ہیں ۔پاکستان میں ہر منتخب حکمران کو یہ خوش فہمی رہتی ہے کہ امریکہ ان کی حکومت کو تحفظ دیتا رہے گا لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ جب بھی پاکستانی فوج امریکہ کی راہ میں مزاحم بن جاتی ہے یا پھر خطے کے کسی ایجنڈے کی وجہ سے اسے پاکستانی فوج کا زیادہ سے زیادہ تعاون درکار ہوتو وہ اسے اقتدار میں ملوث کرنے کا متمنی ہوجاتا ہے ۔ بھٹو دور میں پاکستان امریکہ کی راہ پر چلنے سے گریزاں تھا تو جنرل ضیاء کو لایا گیا۔ نوازشریف نے امریکہ کی مرضی کے خلاف ایٹمی دھماکے کئے تو جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کی سرپرستی شروع کی گئی اور اب بھی امریکیوں کی یہ خواہش ہوگی کہ فوج سیاست میں دخیل ہوجائے تاکہ امریکہ کے لئے اس کو بلیک میل کرنا آسان ہوجائے ۔ رہا پاکستانی فوج کا معاملہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے ڈھائی سال کے دوران سیاسی قیادت نے اس کی تابعداری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ۔ فوج کی دلچپسی کے معاملات یعنی پاک امریکہ تعلقات، افغانستان اور ہندوستان کی پالیسیاں اس کے سپرد کی گئی تھیں اور حکومت ان حوالوں سے اس کی بنائی ہوئی پالیسیوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتی اور اپنے زیرتسلط اداروں کی بندربانٹ میں مصروف رہی لیکن اب عسکری حلقوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ آخر کب تک ۔ عسکری قیادت پر اپنے اداروں کے اندر سے بھی دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ وہاں یہ فضا بن رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں جب تاریخ مرتب ہوگی تو پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانے والی تاریخ کی بدترین حکومت کے معاون کے طور پر فوج کا بھی ذکر ہوگا۔ فوج کی یہ سوچ صدر محترم تک بھی پہنچی ہے لیکن رخ بدلنے کی بجائے ان کی طرف سے روایتی حربوں کو آزمانے کی کوشش کی گئی ۔ فنانشل ٹائمز کی وہ خبر جس کی رو سے زرداری صاحب نے امریکہ کو پاکستانی فوج کی شکایت لگائی ہے ، پہلے تو درست ہے لیکن اگر درست نہ ہو تو بھی فوجی حلقوں میں یہ تاثر عا م ہے کہ زرداری صاحب پاکستان کی وکالت کی بجائے اپنے خاص بندوں کے ذریعے واشنگٹن میں فوج کی شکایتیں لگاتے رہتے ہیں اور امریکہ کی طرف سے پاکستان پر جو دباؤ بڑھ رہا ہے ، اس کی ایک وجہ ان کا یہ رویہ بھی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ فوج کچھ بھی برداشت کرتی ہے لیکن منتخب لوگوں کی یہ حرکت اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔ بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی بغاوت سے چند روز قبل میاں شہباز شریف صاحب واشنگٹن گئے تھے ۔ تب فنانشل ٹائمز کی طرز کی کوئی اسٹوری بھی سامنے نہیں آئی تھی لیکن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے نواز شریف حکومت کے حق میں بیان جاری کیا گیا ، جس سے پرویز مشرف صاحب اور ان کے ساتھیوں نے یہ تاثر لیا کہ شہباز صاحب فوج کی شکایت لگانے وہاں گئے تھے۔باخبر لوگ بتاتے ہیں کہ رضا پہلے سے بن گئی تھی لیکن اسی ایک خبر نے اس وقت کی عسکری قیادت کو نوازشریف کی رخصتی کے لئے یکسو کردیاحالانکہ تب امریکی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مابین تناؤ کی بھی یہ کیفیت نہیں تھی جو اس وقت موجود ہے۔
کاش ایسا نہ ہولیکن ہونے جارہا ہے ۔ ہوشیار پرندہ دام میں پھنستا (وہ بھی بیک وقت دونوں پاؤں سے) نظر آرہا ہے ۔ طاقتور اور متحرک ریاستی ادارے کا اتفاق ہوگیا تو بنگلہ دیش ماڈل سامنے آسکتا ہے ۔ میاں نوازشریف اور طاقتور ادارے کی بات بن گئی تو نئے انتخابات کے آپشن کو آزمایا جاسکتا ہے لیکن دونوں میں سے ایک کے لئے بھی ڈیل نہ ہوسکی تو پھر وہی ہوگا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے ۔تمنا یہی ہے کہ ایسا نہ ہو لیکن جب حکمران اور وہ بھی سیاسی حکمران، بدلنے کو تیار نہ ہوں تو پھر تبدیلی آکر ہی رہتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha