آخر کیوں؟…رؤف کلاسرا
ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہاء پر آپ غور فرمائیں کہ پورا ملک کرکٹر یاسر حمید پر ناراض ہے کہ اس نے کیونکر یہ انکشاف کیا ہے کہ تقریباً پاکستان کا ہر میچ فکس ہوتا ہے۔ سب کھلاڑی ایک خوفناک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سڈنی ٹیسٹ کو بھی اٹھارہ لاکھ پاؤنڈ میں ان کھلاڑیوں نے بیچ ڈالا تھا۔ میں یاسر حمید کو داد دیتا ہوں۔ ایک ایماندار اور کھرے انسان کو یہی باتیں کرنی چاہئیں جو اس نے کی ہیں۔ سچ وقتی طور پر سب کو برا لگتا ہے لیکن آخر عزت و توقیر اسی بندے کے حصے میں آتی ہے جو محض تالیاں پیٹنے والوں کو خوش کرنے کیلئے اپنی ایمانداری کا سودا نہ کرے۔ غیرت لابی اب اس بات پر خفا ہے کہ یہ سب کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی کہ کیسے ہمارے یہ کھلاڑی پورے ملک اور قوم کی عزت کا سودا محض اٹھارہ لاکھ پاؤنڈ لیکر کر رہے تھے۔ یاسر حمید پر ہونے والی تنقید سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم مالی کے علاوہ اخلاقی اور ذہنی طور پر بھی گر چکے ہیں۔ یاسر حمید کو گالیاں دے کر ہم مستقبل میں کسی بھی کھلاڑی کو کرکٹ ٹیم کے ان جواریوں کے خلاف کوئی بھی انکشاف کرنے سے روک رہے ہیں۔ ہم ایک ایسا بیمار معاشرہ بن کر رہ گئے ہیں جو سارا دن خون کی الٹیاں کرتا رہتا ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس جا کر اس سے علاج کرانے کا حوصلہ اس میں نہیں ہے۔ خوفناک ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود ہم غیرت اور عزت کے نام پر ہر شے ماننے سے انکاری ہو چکے ہیں۔ ان دس لڑکوں نے ہمیں پوری دنیا کے سامنے ایسے ذلیل کیا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی مہذب قوموں کے سامنے نظر اٹھا سکیں گی۔ آج سے سو سال بعد بھی یہ کالک ہمارے منہ پر کرکٹ کی تاریخ میں زندہ رہے گی۔ دنیا ہمیں فراڈی سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔ بریڈ فورڈ میں پہلے ہی تین سو گوروں نے مظاہرہ کرکے وہاں سے پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کی تحریک شروع کر دی ہے۔ آپ لوگ تسلی رکھیں اگلے آنے والے سالوں میں سارے یورپی ملک وہاں رہنے والے پاکستانیوں کے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ آپ بڑے بڑے اخبارات کے سروے اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یورپی اقوام میں اب مسلمانوں اور پاکستانیوں کے خلاف نیگٹیو جذبات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہمیں لندن کے اخبار کا یہ سروے انتہائی بوگس محسوس ہو کہ یورپ میں 63% عوام اب مسلمانوں اور پاکستانیوں کو شہریت دینے کے حق میں نہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں لندن میں ہی نقاب کے حوالے سے ہونے والے سروے میں بھی حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی عوام جو یورپ میں نسبتاً زیادہ لبرل اور فراخدل سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور وہاں بھی نقاب پر پابندی کے حق میں لوگوں کا دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ ہم یورپین اقوام کو تنگ نظر یا اسلام دشمن کہہ کر مسترد کر سکتے ہیں لیکن کیا اس سے حقائق بدل جائیں گے۔ ہر بات میں سازش کرنے کے شوقین عوام آج دنیا کے سامنے اتنے خوفناک طریقے سے ان جواری کھلاڑیوں کی وجہ سے ایکسپوز ہوئے ہیں کہ مجھے تو ابھی سے شرم محسوس ہو رہی ہے کہ کس منہ سے جا کر ہیتھرو ایئر پورٹ پر اپنا سبز پاسپورٹ نکال کر امیگریشن افسر کو دکھاوٴں۔ اب کی دفعہ گوروں نے بڑا پکا ہاتھ ڈالا ہے کیونکہ انہیں علم تھا کہ پاکستانی ہمیشہ Self state of denial میں زندہ رہتے ہیں۔ آپ پھر بھی ہمیں داد دیں کہ اتنے ویڈیو ثبوتوں کے باوجود بھی ہم لوگوں نے دنیا کرکٹ سے سوری کرنے کے بجائے بڑی ڈھٹائی سے نہ صرف اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ اس میں سے تن من دھن کی بازی لگا کر بھارتی سازش تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم میں سے کسی کو شرم نہیں آتی کہ محض ان دس کھلاڑیوں کی وجہ سے اس ملک کا امیج آنے والے کتنے برے طریقے سے تباہ ہوا ہے۔ وہی برطانوی میڈیا اور عوام جو سیلاب میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کیلئے پچھلے ایک ماہ سے بڑے جوش و خروش سے عطیات اکٹھے کر رہے تھے آج وہ ہر وقت ہمارے ان دس شیروں کی شرمناک داستانیں چھاپ اور پڑھ رہے ہیں۔ وہ کیونکر اپنی محنت کی کمائی سے ہمارے دو کروڑ کسانوں اور غریب دیہاتیوں کیلئے عطیات دیں جب انہیں یہ پتہ ہے کہ اسی قوم کے کھلاڑی محض دو نو بالز پھینک کر ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ کما سکتے ہیں یا محض ایک ٹیسٹ ہار کر اٹھارہ لاکھ پاؤنڈ جیبوں میں بھر لیتے ہیں۔ اب پاکستان کے اسّی کرکٹ میچوں کی تفتیش ہو رہی تھی جن کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے کہ وہ سب بُک تھے۔ ہم اور ہمارے بچے احمقوں کی طرح ٹی وی اسکرین پر بیٹھے دعائیں مانگ رہے ہوتے تھے اور ہمارے یہ کرپٹ شیر جوان اس میچ کا فیصلہ پہلے ہی لاکھوں پاؤنڈ لیکر کر چکے ہوتے تھے۔ اب شاہد آفریدی قوم سے معافی مانگ رہے ہیں جبکہ وہ خود اس قوم کا امیج مٹی سے لتھڑی ہوئی گیند کو کیمروں کے سامنے چبا کر پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں۔ کیا ان کی معذرت کو سیریس لیا جانا چاہیے۔ یہ سب ڈرامے ہیں۔ ان سب نے مل کر اس ملک اور اس کے عوام کا بہت گھٹیا انداز میں سودا کیا ہے۔ انہوں نے ہمارے بچوں اور آنے والی نسلوں پر وہ داغ لگایا ہے جو اتنی آسانی سے نہیں دھل سکے گا اور نہ ہی ”میں نہ مانوں“ کی لابی سے حب الوطنی کے نام پر مارے جانے والے نعروں سے دنیا متاثر ہوگی۔
لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں کہ آصف زرداری صاحب اب کی دفعہ احمد مختار کے کے سالے صاحب سے جان چھڑائیں گے۔ اس قوم نے زرداری صاحب کو کیا کچھ نہیں دیا۔ اس کے بدلے میں کرکٹ کی جنون سے حد تک محبت کرنے والی یہ قوم ڈاکٹر ظفر الطاف جیسا کرکٹ بورڈ کا چیئرمین چاہتی تھی جس نے حفیظ کاردار کے ساتھ مل کر تین دہائیوں تک پاکستان کی عزت دنیا میں پیدا کی تھی۔محض احمد مختار کو خوش کرنے کیلئے زرداری صاحب نے ہمیں پچھتر سال کا ایک بوڑھا اعجاز بٹ دیا اور سنیٹر رضا ربانی کا ستّر سالہ سسر یاور سعید ٹیم منیجر دیا جنہیں نہ اب کچھ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی سنائی۔ کیا زرداری صاحب کو اتنا کچھ دینے کے بعد یہ قوم ان سے ڈاکٹر ظفر الطاف جیسے پروفیشنل چیئرمین کی حقدار بھی نہیں تھی۔ یہ کہانی پھر سہی کہ اس کے پیچھے کیا راز تھا کہ سندھ سے لیکر بلوچستان تک کیسے وہ لوگ وزراء اعلی بنائے گئے جن کی عمریں ستّر اور اسّی کے قریب ہیں لہذا چلنے سے معذور اعجاز بٹ اور بوڑھے یاور سعید کی تقرریاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہئیں۔ پتہ نہیں اس ملک اور قوم سے کون کون اپنے کس کس جنم کا بدلہ لے رہا ہے
Recent Comments