ڈاکٹر اشفاق حسن خان
آئی ایم ایف نے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی، بحالی اور تعمیر نو کیلئے فوری امداد کے تحت، پاکستان کو 450 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک بھی بالترتیب 1بلین ڈالر اور 2بلین ڈالر کی پیشکش کرچکے ہیں۔ اسی طرح تین بین الاقوامی مالیاتی ادارے ممکنہ مختصر وقت میں، مشترکہ طور پر، پاکستان کو 3.5 بلین ڈالر، بطور قرض فراہم کریں گے۔ بین الاقوامی حلقوں نے بھی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کیلئے، بلین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ نقد رقم کی صورت میں زیادہ تر نرم شرائط پر یہ قرضہ دئیے جائیں گے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ، سابق وزیر خزانہ کی، ملک کو قرض میں ڈبونے کی، دوڑ میں اب موجودہ وزیر خزانہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ 16ماہ، تک اپنے عہدے پر برقرار رہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ 11 بلین ڈالر کے امدادی پیکج پر دستخط کئے، جن میں سے 8.7 بلین ڈالر ادا کئے جاچکے ہیں۔ موجودہ وزیر خزانہ کو اپنی مختصر مدت ملازمت کے دوران محض 4ماہ کے عرصے میں 3.5 بلین ڈالر قرض حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔ اس تیزی کے ساتھ یہ یقیناً غیرملکی قرض حاصل کرنے میں، اپنے پیشرو سے مقابلتاً تیز رفتار ثابت ہوں گے۔
میں غیر ملکی بیرونی قرضوں، کے حوالے سے کچھ حقائق پیش کرنا چاہوں گا۔ جون 1999ء کے اختتام پر پاکستان کے بیرونی قرضے اور مالی واجبات (ای ڈی ایل) 38.9 بلین ڈالر تھے جو جون 2007ء کے اختتام پر بڑھ کر 40.3 بلین ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ آٹھ برس میں صرف 1.4 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا جب کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران (2007-10) ای ڈی ایل 40.3 بلین ڈالر سے بڑھ کر 55.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ آٹھ برسوں میں 1.4 بلین ڈالر اضافے کے مقابلے میں 15.3 بلین ڈالر کے اضافے سے معاشی ٹیم کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔ کیا ہمیں مزید قرض لینے کے عمل کو جاری رکھنا چاہئے؟؟
ای ڈی ایل میں، اضافے کے نتائج، معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، ای ڈی ایل میں بہت زیادہ اضافے کے نتیجے کے طور پر بیرونی قرض کے سود میں 2006-07 میں 2.87 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2009-10 میں 5.64 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا یعنی محض تین برس میں دوگنا اضافہ ہوا۔ 2006-07 میں، قرض پر ادا کیا گیا وہ سود، برآمدات سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی کا صرف 166 فیصد تھی۔ تاہم 2009-10 میں بڑھ کر تقریباً 29 فیصد تک ہوگیا۔ بہ الفاظ دیگر 2009-10 میں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 30 فیصد قرض پر سود کی ادائیگی میں صرف ہوگیا تھا، اس لئے ملک کی درآمدگی گنجائش کم ہورہی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں معاشی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار درآمد شدہ خام مال، مالی اثاثوں اور توانائی پر ہوتا ہے۔ کسی ملک کی درآمدات کی لاحیت میں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں سست رفتاری کے ساتھ بیروزگاری او غربت میں اضافہ یقینی ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح، آج پاکستان کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیا ہمیں بلا لحاظ قرض لینے کے عمل کو جاری رکھنا چاہئے؟ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو ہماری طرح قرض کے وسائل پر زندہ رہتے ہوئے مشکل صورتحال سے باہر نکل آئے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال گذشتہ عشروں میں کبھی اتنی بری نہیں رہی۔ نیز یہ کہ حالیہ عشروں میں معاشی انتظامیہ کی ایسی قابل رحم صورتحال بھی نہیں رہی۔ ڈھائی برس کے مختصر عرصے میں اس کے چار وزرائے خزانہ اور چار سیکرٹری خزانہ بن چکے ہیں۔ ملک میں کبھی وزیر خزانہ کا عہدہ 6ماہ (اپریل تا اکتوبر 2008) اور مرکزی بنم کے گورنر کا عہدہ تین ماہ (جون تا ستمبر 2010ء) کیلئے خالی نہیں رہا۔ پاکستان کے سیکورٹیز اور ایکسچینج کمیشن دو سے تین اہم کمشنروں کے بغیر کام کررہے ہیں۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین کے انتخاب پر ریگولیٹر (ایس ای سی پی) اور بروکروں کے مابین سخت مقابلہ جاری ہے۔ نتیجے کے طور پر کیپٹل گین ٹیکس کیلئے منفی اثرات کے ساتھ (کے ایس ای) کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تجارتی حجم انحطاط پذیر ہوچکا ہے۔
وزارت خزانہ، ملک کی معاشی انتظامیہ کا، اعصابی مرکز ہوتا ہے جو آج کل بدنظمی کا شکار نظر آرہا ہے۔ پست، ہمتی، نظم و ضبط کا فقدان، ہم آہنگی کی عدم موجودگی اور کچھ غیر فعال شعبوں کے سربراہ اور اعصابی مرکز میں کچھ عناصر، کوئی کام کئے بغیر، مسلسل بھاری بھرکم تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خود وزیراعظم اپنی معاشی ٹیم کو مسلسل شرمندہ کررہے ہیں۔
وزارت خزانہ کے معاشی مشیروں نے سیلاب کے معیشت پر اثرات کے حوالے سے نوٹ تیار کیا جس میں جی ڈی پی کی شرح نمو صفر اور 25 فیصد افراط زر تجویز کیا۔ اور وزارت خزانہ کے اعداد و شمار سرکاری موقف کے طور پر افادات میں شائع ہوئے۔ تاہم کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اس سال بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کی 6 تا 7 فیصد کی، حد میں رہے گا۔
جب پرنٹ میڈیا میں، یہ اعداد و شمار منظر عام پر آئے تو اس وقت، وزیر خزانہ کی سربراہی میں، پاکستان کی 17 رکنی معاشی ٹیم واشنگٹن میں پروگرام کے پانچویں جائزے کی تفصیلات کیلئے آئی ایم ایف کے اہلکاروں نے وزرات خزانہ اور وزیر اعظم کی جانب سے آنے والی متنازعہ اعداد و شمار کا ایشو اٹھایا تھا جو معاشی ٹیم کیلئے یقیناً شرمندگی کا باعث تھا۔ پاکستان کی معاشی ٹیم کو آئی ایم ایف کی جانب سے، جوش و خروش سے عاری روئیے کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ نومبر، دسمبر 2010ء تک آئی ایم ایف کا پانچواں جائزہ التوا کا شکار ہوگیا۔
وزارت خزانہ نے کبھی اس کی وضاحت کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ وہ اعداد و شمار، حکومت پاکستان کا سرکاری موقف نہیں تھا اور اس طرح ملک 2 وزارت میں نظم و ضبط کے فقدان کی قیمت ادا کی۔ معاشی مشیروں کا محکمہ اور قرض کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل غیر فعال ہوچکے ہیں اور ابھی تک ان کے سربراہوں کو، قومی خزانے سے بھاری معاوضہ ادا کیا جارہا ہے۔ وزیر سمیت، وزارت میں کسی کو کبھی یہ فکر نہیں ہوئی کہ ان دو اہم محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے۔
اپنی گیارہ سالہ مدت ملازمت کے، دوران میں نے ایسی وزارت خزانہ نہیں دیکھی۔ میں نے وہاں کے عملے کو اپنے کام سے مخلص، نظم و ضبط کا پابند اور مقاصد کے حصول میں حددرجہ کوشاں پایا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ، مذکورہ بالا تینوں خصوصیات اب ختم ہوچکی ہیں۔ انتظامی مرکز، ان کے بغیر ہی، اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ تباہی، مایوسی اور افسردگی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ معاشی ٹیم، بلا امتیاز قرضے تو لے رہی ہے، لیکن وہ معاشی نظم و ضبط لانے میں ناکام رہی ہے۔ وہ پی ایس ڈی پی اور تعلیم خصوصاً اعلٰی تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کرنا تو پسند کریں گے تاہم ”ملتان پیکج“ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ صدر پاکستان ”امداد نہیں تجارت“ پر یقین رکھتے ہیں جبکہ ان کی معاشی ٹیم ”تجارت نہیں قرض“ پر یقین رکھتی ہے۔ خدا پاکستان کی حفاظت کرے… آمین
khuda ka leya hamin in sayasat daano najat chaya ba cehay iss ka leya hamin jo be kurbani daney paday . hamin inqlab caheya .apne anna wali neslown ka leya …………….?????????????????? new genration.