گریبان … منوبھائی
بتایا گیا ہے کہ مذہبی اور قومی اہمیت اور تقدس کے اسلامی اور انگریزی کیلنڈر کے مہینے رمضان شریف اور اگست مبارک کے دوران پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں ڈاکوؤں اورچوروں نے جہاں لوگوں سے 24کروڑ روپے کی مالیت کی نقد رقم لوٹی وہاں ان کو 145 کاروں، 230 موٹر سائیکلوں اور 250 موبائل فونز سے بھی محروم کردیا اور مزاحمت کرنے پر سات لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اٹھارہ کو شدید زخمی کر دیا۔
بتایا جاتا ہے کہ لاہور شہر میں جرائم کے ارتکاب میں ماہ ِ اپریل کے جرائم کے مقابلہ میں ماہ ِ مئی کے جرائم پندرہ فیصدزیادہ تھے اور جولائی کے جرائم اس سے دس فیصد زیادہ اور اگست کے جرائم بیس فیصد زیادہ تھے جبکہ اس دوران پولیس کی اعلیٰ قیادت میں جرائم کی سرکوبی کے مفاد میں کچھ اہم تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں جوکچھ زیادہ بارآور ثابت نہیں ہورہیں اور یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر بھیانک انداز میں سامنے آئی ہے کہ چہرے بدلنے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ تبدیلی لانے کے لئے نظام کو بدلنا پڑتا ہے۔
جون 2010 کے دوران لاہور کے شہریوں سے بیس کروڑ اسی لاکھ روپے لوٹے گئے، مئی کے مہینے میں 18کروڑ روپے کی مالیت کی چوریاں ہوئیں اورڈاکے ڈالے گئے۔ جولائی 2010 کے دوران کم ازکم 22 کروڑ 80لاکھ روپے لوٹے گئے۔ مزاحمت پر دو لوگوں کو قتل کیا گیا اور 14شدید زخمی ہوگئے۔ ڈاکوؤں اور چوروں کی کارکردگی میں بے خوفی اور اعتماد کا عنصر بڑھتا جارہا ہے۔ بعض وارداتوں میں جرائم پیشہ عناصر باقاعدہ منصوبہ بندی سے جرائم کا ارتکاب کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے 23 اگست کو لٹن روڈ لاہور کو مکمل طور پر بلاک کرکے لوگوں کو لوٹا گیا۔
لاہور پولیس کے ترجمان یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ پولیس کا زیادہ تر عملہ دہشت گردی کی وارداتوں کے تدارک کی کارروائیوں میں یا اعلیٰ افسران اور سیاست دانوں یا سرکاری عمارتوں کی حفاظت پر مامور اور مصروف ہے چنانچہ جرائم کے انسداد پرتوجہ قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران جرائم کی تعداد اور رفتار میں دیگر تمام مہینوں کے مقابلے میں اضافہ ہو جاتا ہے مگر پولیس کے ترجمان اس اضافے کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کرسکے۔ اس کی ایک وجہ جو اپنی سمجھ میں آسکتی ہے یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ماہ ِ رمضان کے دوران لوگوں کی زیادہ تر توجہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی طرف چلی جاتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر لوگوں کوعدم توجہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی وارداتیں تیز تر کردیتے ہیں اور یوں ماہ ِ رمضان کے دوران چوری اور ڈاکے کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں۔
اگست 2010 کے دوران اگرچوری اور ڈاکے کی وارداتوں میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے تو اس میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ لوگوں کی زیادہ ترتوجہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی جانب چلی گئی تھی جس کا چوروں اور ڈاکوؤں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہوگا۔
پولیس کے تھانوں اورابلاغ عامہ کے ذرائع تک پہنچنے والی خبروں سے غیر مہذب چوروں اورلٹیروں کی وارداتوں کی زد میں آنے والی رقوم کی مالیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر مہذب اور متمدن چوروں اورڈاکوؤں کی وارداتوں کی زد میں آنے والے قومی وسائل اس سے بہت زیادہ ہیں اور ان کی مالیت کا کچھ اندازہ ہمارے ایک سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم نے لگایا تھا مگر ان کے وفات پاجانے کے بعد کے زمانہ میں مہذب چوروں اور متمدن ڈاکوؤں کی وارداتوں کی زد میں آنے والے قومی وسائل میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے جن کی اصل مالیت ہمارے احتساب بیورو کو بھی معلوم نہیں ہوگی۔ معلوم ہو بھی نہیں سکتی کہ مہذب چوروں اور متمدن ڈاکوؤں کی تمام وارداتیں قانون اور آئین کے تقاضوں اور اصولوں کی پابندی کرتے دکھائی دے رہی ہوتی ہیں
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=465590
Recent Comments