صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ذہنوں میں تو انقلاب کی آرزو جنم لے چکی اب اسے ذہنوں سے نکل کر گلی کوچوں میں آنا ہے۔ آسمانوں پر تبدیلی کا فیصلہ ہوچکا ،اب اسے زمین پر اترنا اور اپنا رنگ دکھانا اور جمانا ہے۔ انقلاب کی صدائے بازگشت فضا میں پھیل چکی اور اب اس آواز خلق کو نقارہ خدا بن کر استحصال ،ظلم، بے انصافی ا ور ہوس زر کے بت توڑنے ہیں۔ روساء ،دولت کے انباروں پر بیٹھے ہوئے اہل زر، پاکستان اور دنیا بھرکے خوبصورت ممالک میں عالی شان محلات کے مالک انقلاب کی چاپ سن کر اندر ہی اندر کانپ رہے ہیں۔کوئی دولت مندوں ،منافع خوروں اور عوام کی جیبوں سے رقم لوٹ کر دولت اکٹھی کرنے والوں کو انتباہ کررہا ہے کہ خدارا اپنی تجوریوں کے منہ کھولو، بھوکوں کوکھانا کھلاؤ اور ننگوں کو کپڑے پہنائے، ورنہ ایک دم یہ سب اکٹھے ہو کر تمہارے محلات ،تمہارے خزانوں اور تمہارے کارخانوں کو لوٹ لیں گے۔ میں جب اخبارات میں دولت مندوں کی جانب سے دولت مندوں کو خونین انقلاب کی وارننگ پڑھتا ہوں اور خطرے کے الارم بجتے سنتا ہوں تو میرے مرشد علامہ اقبال ہولے سے میرے کانوں میں زبان خدا کی سرگوشی کرتے ہیں ۔فرمان خدا علامہ کی مشہور نظم ہے۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخے امراء کے درو دیوار ہلا دو
جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے کھیتوں اور کارخانوں سے د ہقان اور مزدور کوویسے بھی پیٹ بھر کرروٹی میسر نہیں تھی اب تو رہی سہی کسر سیلاب نے نکال دی ہے، چنانچہ یہی سیلاب انقلاب کی آرزو کو پر لگائے گااور تبدیلی کے گھوڑوں کو مہیمز لگائے گا۔
کہتے تو سبھی ہیں لیکن کرتا کوئی کوئی ہے۔ میں نے ہمیشہ لیڈروں، حکمرانوں اور دولت مندوں کی زبانی دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان بحیرہ عرب جیسا سمندر حائل دیکھا ہے کیونکہ اپنی دولت، وسائل اور جواہرات کی تقسیم کوئی آسان کام نہیں، اس کیلئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے، پھر آپ کا خدا پر اتنا پکا ایمان ہو اور آپ کو یقین ہو کہ راہ حق میں لگائی گئی رقوم ستر گنا ہو کر واپس ملیں گی۔ راہ حق میں سب کچھ لٹانے والے صرف ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں اپنے رب کی خوشنودی درکارہوتی ہے اور انکے لئے رضائے الٰہی ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ راہ حق کے مقامات میں اعلیٰ ترین مقام خلق خدا کی خدمت کا ہے۔میرے نزدیک اللہ کی رضا حاصل کرنے کا شارٹ کٹ مخلوق خداکی خدمت ہے۔ یہ راستہ سب کو معلوم ہے اور میں حکمرانوں ،سیاستدانوں اور دولت مندوں کو یہی باتیں کہتے سنتا اور پڑھتا ہوں لیکن سوال یہ ہے اس کا عملی ثبوت نے کس دیا ہے؟ملک و قوم زندگی کی شدید ترین ابتلاء سے گزررہے ہیں ،حکمران کشکول پکڑے پھررہے ہیں، لاکھوں لوگ بے چھت اور کروڑوں اپنے وسائل سے محروم ہوچکے ہیں۔ یہ وہ موقع تھا کہ پاکستان کے ارب پتی خونین انقلاب سے ڈر کر نہیں بلکہ رضائے الٰہی کیلئے اپنے اثاثوں کا معتدد بہ حصہ مفلوک الحال پاکستانیوں کیلئے وقف کرنے کا اعلان کرتے۔ سیلاب زدگان ا ور محروم طبقوں کو اپنی محبت کا پیغام دیتے اور ان کے دلوں میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرکے انقلاب کاراستہ روکتے لیکن ریاض ملک کے علاوہ یہ توفیق کسی کو نہیں ہوئی۔سیاستدان و حکمران بات بات پر قائد اعظم کے نقش قدم پر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ قائد اعظم نے اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی ساری دولت اپنی بہن اور بیٹی کا حصہ رکھ کر قوم پر نچھاور کردی تھی۔ کیا ان میں اتنا ہمت و حوصلہ ہے؟ یہ ہوس زر کے مارے ہوئے صرف مال بنانا جانتے ہیں قوم پر خرچ کرنا نہیں جانتے۔ میں ریاض ملک سے نہ کبھی ملا اور نہ ہی ذاتی طور پرجانتا ہوں لیکن مجھے اتنا ضرور علم ہے کہ وہ شخص اپنے دسترخوانوں پر لاکھوں لوگوں کو روٹی کھلاتا اور سینکڑوں ہزاروں مریضوں کے علاج معالجے کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی انہیں کسی مستحق مریض کی درخواست بذریعہ ڈاک بھیجی انہوں نے ہمیشہ انکی مدد کی اور ان میں اکثریت کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے تھا۔ بلا شبہ بحریہ ٹاؤن ہمارے ملک کا عظیم منصوبہ ہے لیکن ریاض ملک نے اپنے اثاثوں کا ستر فیصد جن کی مالیت دو ارب ڈالر کی بنتی ہے، قوم کو دینے کا اعلان کرکے جنت میں عالیشان محل بنوالیا ہے ،کیونکہ رضائے الٰہی کے حصول کا شارٹ کٹ مخلوق خدا کی خدمت ہے۔ پاکستان میں114ارب اور کھرب پتی خاندان ہیں اگر وہ بھی ریاض ملک کی روشن مثال کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اثاثوں کا ستر فیصد سیلاب زدگان اور مفلوک الحال و محروم طبقوں کے لئے وقف کردیں تو مجھے یقین ہے کہ انکی دیکھا دیکھی ہر شخص اپنی اپنی جیب الٹ دے گا اور ملک و قوم کا مقدر بدل جائے گا۔ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائینگے اور مصیبت زدگان ایک نئے جذبے سے زندگی کا دوبارہ آغاز کرکے نئے خوددار اورخوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ دینگے۔ انگلستان، امریکہ،سپین،دبئی، ترکی اور جدہ میں اربوں روپوں کی جائیدادوں کے مالک پاکستانیوں کیلئے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ ریاض ملک کی مانند اپنے اثاثوں کا ستر فیصد قوم کو دے کر خونین انقلاب کی راہ روکیں ورنہ ان کے دامن ہوں اورکروڑوں لو گوں کے ہاتھ کیونکہ انقلاب کی آرزو ذہنوں میں جنم لے چکی اور اب اس آواز خلق کو نقارہ خدا بن کراستحصال ،ظلم، بے انصافی اور ہوس زر کے بت توڑنے ہیں او وہ وقت دور نہیں سننے والے مستقبل کی چاپ سن رہے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=465552

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha