لندن (جنگ نیوز) وزیر امیگریشن ڈیمین گرین نے برطانیہ میں حصول علم کی غرض سے آنے والے غیر یورپی طلبہ کے لئے قوانین مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبہ اس ریسرچ کے بعد کیا گیا جس میں سامنے آیا کہ ملک میں ہر پانچواں طالب علم ویزہ ملنے کے پانچ سال کے بعد بھی ملک میں موجود ہے۔ اس مطالبے کے تناظر میں نان یورپی طلبہ کے لئے ویزہ سسٹم میں تبدیلی کے امکانات میں مخلوط حکومت بھی امیگریشن میں کمی کا اعلان کرچکی ہے۔ اس تناظر میں ڈیمین گرین اپنی تقریر میں یہ کہیں گے برطانیہ میں موجودہ غیرملکی طلبہ کی تعداد ناپائیدار ہے۔ توقع ہے کہ اپنی امیگریشن تقریر میں وہ نئے اقدامات کا اعلان کریں گے جس کے نتیجے میں بہترین انتہائی باصلاحیت مائیگرنٹس ہی برطانیہ میں تعلیم اور کام کے لئے آسکیں گے۔ مخلوط حکومت انتہائی سخت کنٹرولز کے ذریعے مائیگریشن کے اعداد و شمار کو کم کرنا چاہتی ہے جو لیبر دور حکومت میں بہت زیادہ بڑھ گئے تھے۔ موجودہ حکومت یقین رکھی ہے کہ سٹوڈنٹ ویزا سسٹم کا بھی کھلم کھلا غلط استعمال ہورہا ہے جیسا کہ ملک میں داخلے کے دوسرے روٹس بشمول ایمپلائمنٹ ڈیمین گرین اپنی تقریر میں کہیں گے کہ ہمیں اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے سمارٹ امیگریشن کنٹرولز کی ضرورت ہے اور صرف حقیقی ضرورت کے حامل افراد کو ملک میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ تصور نہیں کرسکتے کہ ملک میں آنے والا ہر فرد وہ سکلڈ رکھتا ہے جو برطانوی ورک فورس کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک برطانوی ورک فورس کو خوش حال نہیں رکھ سکتے جب تک انہیں نئے سکلز نہ سکھائے جائیں۔ ہوم آفس ترجمان نے کہا کہ ویزا سسٹم میں اصلاحات کا فوکس ان نکات پر ہے کہ کس طرح سے لوگ عارضی قیام کے لئے برطانیہ میں آتے ہیں اور پھر وہ آسانی سے اسے مستقل قیام میں بدل لیتے ہیں۔ گرین اپنی تقریر میں کہیں گے کہ برطانیہ میں داخلے کے تمام روٹس کا بغور جائزہ لیا جائے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نصف ویزے یونیورسٹی کورسز کے لئے طلبہ کو جاری کئے گئے۔ ہوم آفس ریسرچ پیر کو جاری کی گئی جس میں 2004ء میں برطانیہ آنے والے طلبہ کو ٹریک کیا گیا اس سال سب سے زیادہ 186000 ویزے جاری کئے گئے جن میں سے ہر پانچواں فرد پانچ سال بعد بھی برطانیہ میں قیام پذیر ہے۔ ریسرچ میں سامنے آیا کہ جون 2010ء تک طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو ویزوں کے اجراء کی تعداد بڑھ کر 307000 ہوگئی۔ برطانیہ میں داخلے کے دوسرے روٹس کی بھی سکروٹنی کی جارہی ہے۔ 2004ء میں 106000 ورک ویزے جاری کئے گئے جن میں سے 40 فیصد 2009ء میں بھی برطانیہ میں مقیم تھے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=465593

  One Response to “برطانيہ ميں غیر یورپی طلبہ کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کیے جانے کا امکان”

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha