چوراہا …حسن نثار
معاف کیجئے کہ خونی انقلاب کی باتیں کرنے والے انقلاب کی الف بے سے بھی واقف نہیں۔ انقلاب کوئی کباب نہیں ہوتا جسے سیخ یا توے سے اتار کر ڈکار لیا جائے۔ ہر انقلاب کا ایک مرکزی خیال یا یوں کہہ لیجئے کہ کوئی نظریہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کوئی باقاعدہ قسم کی قیادت بھی ہوتی ہے جو اس مرکزی خیال اور نظریہ کے ساتھ سو فیصد کمٹمنٹ رکھتی اور اپنے نظریہ کو عقیدہ سے کم نہیں سمجھتی۔ صرف اعلیٰ ترین قیادت ہی بری طرح کمٹڈ نہیں ہوتی بلکہ نچلی ترین سطح تک کے ورکرز بھی اس ”کاز“ کو اپنا سیاسی ایمان سمجھ کر اس کے لئے جی جان کی بازی لگانے پر تیار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی ایسی قیادت جو انقلاب کا خواب دیکھ سکے یا ڈول ڈال سکے۔ پاکستان کی سیاسی فضاء سے تو جینوئن سیاسی ورکر بھی ختم ہو چکا … ”انقلابی“ تو بہت دور کی بات ہے۔ یہاں سے تو وہ زمانے بھی کب کے رخصت ہو گئے جب ایسے سیاسی ورکر موجود ہوتے تھے جو ”دیہاڑیاں“ لگانے کی بجائے پوری زندگی گھر پھونک تماشہ دیکھتے تھے۔ ان کی وابستگیاں ہر قسم کے خوف اور لالچ سے ماورا اور بالاتر ہوتی تھیں جبکہ آج کل کا تو ورکر بھی اپنے لیڈر جیسا ہی ہے۔ فرق ہے تو صرف ”حصہ بقدر جثہ“ کا۔ لیڈر کا ”جبڑا“ ہوتا ہے ورکر کی ”چونچ“ ہوتی ہے یعنی صرف سائز کے فرق کے ساتھ کام دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے کہ اقتدار کے کیک سے شیئر کتنا ملتا ہے۔ اک اور تاریخی سچائی یہ بھی ہے کہ ہر انقلاب بالآخر اس بات پر ہی ختم ہوتا ہے کہ پرانے ظالموں کی جگہ نئے ظالم آ جاتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ نئے بدمعاش پرانے بدمعاشوں کو ری پلیس (REPLACE) کر دیتے ہیں۔
میں نے تقریباً 16 سال قبل لکھا اور پھر کئی بار اسے دوہرایا بھی تھا کہ پاکستان کے حکمران طبقات آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھے پکنک منا رہے ہیں۔ یہ کسی ”انقلاب“ کی نہیں بلکہ بدترین قسم کی انارکی کا پیغام یا پیش گوئی تھی اور آج ملک کو اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ سینئر ترین جنرل کا داماد غائب ہے اور ابھی تک کوئی خبر نہیں … تو دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ کے جج کے قریبی ترین عزیز کو سڑک پر گولیاں مار دی گئیں۔ جگہ جگہ سے ”ہجوم کے انصاف“ کی دل دہلا دینے والی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ حکومتی رٹ کی اوقات یہ ہے کہ ریڑھی والا بھی ان کے کنٹرول میں نہیں … نہ روٹی نہ بجلی نہ لاء اینڈ آرڈر تو بھائی! یہ انارکی نہیں تو اور کیا ہے؟
عرض کرنے کا مقصد یہ کہ خونی انقلاب کو گولی مارو کہ اس کا یہاں کوئی خدشہ و خطرہ … یہاں مسئلہ ہے ”خونی انارکی“ کا جو شروع ہو چکی اور اس کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ممکن ہو تو اسے روکنے کی کوشش کرو کہ جس آتش فشاں پر حکمران پکنک منا رہے ہیں، اس سے دھواں نکلنا شروع ہو چکا جو کسی بھی وقت لاوے میں بدل جائے گا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=465304
Recent Comments