کس سے منصفی چاہیں … انصار عباسی

پاکستان کو ہم نے بیرونی طاقتوں کے حوالے کر دیا ہے۔ کوئی دوسرا ملک یہاں طالبانائزیشن اور عسکریت پسندی کو ہوا دے رہا ہے تو کوئی دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کے پیچھے ہے۔ ایک طرف شیعہ سنّی فسادات کرائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف دیوبندی اور بریلوی طبقہ فکر کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اگر بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے تو افغانستان کے راستے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے ذریعے پورے ملک میں دہشت گردی کے ایک ایسے فتنے کا بیج بویا جا رہا ہے جس نے پہلے یہاں ہر شخص کا سکون تباہ کر دیا ہے اور ہر طرف آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ بیرونی طاقتیں جہاں نان اسٹیٹ ایکٹرز (Non-state Actors) کے ذریعے پاکستان کے اندر اپنا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں، وہیں حکومتی سطح پر بھی ہمارے فیصلوں پر وہ اس قدر اثر انداز ہو رہے ہیں کہ اب تو ہماری معیشت، سیاست اور داخلہ و خارجہ پالیسی کے فیصلے بھی باہر ہونے لگے ہیں۔ ہماری حالت زار یہ ہے کہ اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ہم نے امریکی ڈرونزکو پاکستان کی حدود کے اندر حملے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ مشرف دور میں یہ ڈرون حملے کبھی کبھار ہوتے تھے مگر اب تو روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ہم نے اپنی سالمیت اور خودمختاری کا سودا اس حد تک کر لیا ہے کہ آج امریکی فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں کون ”دہشت گرد“ ہے اور کس کو ڈرون حملہ سے مارا جانا ہے۔ امریکہ کی اس ریاستی دہشت گردی پر کوئی بولنے والا نہیں مگر ان ڈرون حملوں اور امریکہ نواز پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدت پسندی کو کچلنے کے لیے امریکہ کے ہی تجویز کردہ ملٹری آپریشن پر سارا زور دیا جاتا ہے جو دہشتگردی میں مزید اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، بھارت اور اسرائیل تو چلیں جو ہمارے ساتھ کر رہے ہیں، اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایک مسلمان ملک جس کے پاس ایٹمی طاقت بھی ہو، کیسے برداشت کر سکتے ہیں مگر یہاں تو کچھ ہمارے برادر اسلامی ممالک بھی شیعہ سنّی فسادات کو ہوا دینے میں لگے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کون کیا کھیل کھیل رہا ہے مگر یہ سب کچھ روکنے کی کوئی تدبیر ہے نہ سوچ۔ سارا زور ہر دھماکہ کے بعد خودکش بمبار کے سر کو ڈھونڈنے پر ہوتا ہے۔ مرض کو جڑ سے پکڑنے کی کوئی سوچ ہی نہیں۔ ہماری پارلیمنٹ ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ڈرون حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ اور جنرل پرویز مشرف دور میں اپنائی جانے والی پالیسیوں کو ملک میں دہشتگردی ،طالبانائزیشن اور عسکریت پسندی میں اضافہ کا سبب جانتے ہوئے ازسرنو پالیسی بنانے پر زور دیتی ہے مگر حکومت بیرونی دباؤ پر بالکل اس کے برعکس عمل درآمد کرتی ہے، جس سے آگ اور خون کے اس کھیل میں مزید شدت آ جاتی ہے۔ پاکستان کو بیرونی طاقتوں نے ایک ایسی شطرنج کی بساط بنا دیا ہے جس پر چلنے والے تمام مہروں کو باہر سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان تیزی سے ہمارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ اپنی نا اہلیوں اور بیرونی سازشوں کی وجہ سے بحیثیت قوم آج ہم انتہائی نااتفاقی کا شکار ہو چکے ہیں اور ہمارا اتحاد ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اس ملک کی تباہی کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔ بربادی اور رسوائی کی تمام نشانیاں نمایاں ہیں اور سب پر خطرہ واضح ہے۔ خواہ سیاستدانوں سے بات کریں یا دانش وروں سے، فوج کے اعلیٰ افسران سے اس ملک کے مستقبل کے متعلق پوچھیں یا وزیروں و مشیروں سے اس پر ان کا نکتہ نظر جاننے کی کوشش کریں، ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ حکمران انتہائی درجہ کی سردمہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ باقی سب بھی تماشائیوں کی طرز کا رویّہ اپنائے ہوئے ہیں۔ سب اپنے ہی گھر میں لگی آگ کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ایسے لوگ جو واقعتاً ان سنگین حالات سے فکر مند ہیں، وہ بھی کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ یقیناً یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جیسے غیر سنجیدہ افراد ایک ایسے وقت میں ہمارے حکمران ہیں جب ہمیں انتہائی مدبر، مخلص اور سنجیدہ لیڈر شپ کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے وطن کو اس دلدل سے نکال سکیں، جس میں ہم تیزی سے دھنستے جا رہے ہیں۔ یہ بات نوازشریف بھی کرتے ہیں یہی خیال الطاف حسین، سید منوّر حسن اور عمران خان کا بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد بھی ان حالات سے انتہائی پریشان ہے۔ مگر اس پریشانی اور فکر کا پاکستان کو کیا فائدہ، اگر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جاتا۔ یہ وقت ہے سرجوڑ کر بیٹھنے کا اور ان مسائل کو حل کرنے کا جو پاکستان کی بنیادوں کو دیمک کی طرح تیزی سے چاٹ رہے ہیں۔ اگر زرداری اور گیلانی ان مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں تو باقی سب مل کر کیوں نہیں بیٹھتے اور ایک ایسا لائحہ عمل طے کرتے، جس سے اس قوم کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یقین رکھیں کہ تباہی ہمارا مقدّر ہو گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کے لئے کوشش نہ کرے۔ اگر ہم سب تماش بین بنے رہے تو پھر خودکش دھماکے، فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ بڑھتی رہے گی اور بیرونی طاقتیں اپنا گھناؤنا کھیل کھیلتی رہیں گی ۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر اس ملک کو بچانے کی کوشش کریں، چاہے اس کی خاطر ہمیں اپنی جانوں کی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ دی نیوز کے رپورٹر عمر چیمہ نے جس انداز میں مبینہ ریاستی غنڈہ گردی کا سامنا کیا اور تمام تر تشدّد اور بے حرمتی کے باوجود وہ جس طرح اب بھی پرعزم ہے کہ وہ اپنے ملک اور قوم کے مستقبل کے لئے دیانت داری اور نڈر طریقے سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا، یہ پیغام ہے تمام سیاسی رہنماؤں، دانش وروں اور اہل فکر کے لئے وہ بھی سب اٹھ کھڑے ہوں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=465303

  One Response to “اُٹھیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے”

  1. A personal appeal to all Pakistanis:
    Dear Pakistani Businessmen:
    World is changing fast and new economic opportunities are opening very near to our borders. But we are so much aloof to the situation that we are failing to take advantage of the opportunities and then blame the others for our misfortunes. Unless we will take situation in our own hands we will remain slaves of our destiny. Recent 2nd meeting of 4 Presidents in Sochi Russia (Russia, Pakistan, Afghanistan, Tajikistan) is the greatest event in last 100 years and opens the Economic opportunities for Pakistani Businessmen to the 280 Million Soviet Republics through Afghanistan & Tajikistan.
    • Afghanistan against widely held perceptions is a much safer country than even Pakistan and is offering great business opportunities but we are failing to take advantage.
    • Today one Afghani is equal to 2 Pakistani Rupees.
    • Afghanistan is the 2nd biggest Export Market of Pakistani Products after only to USA.
    • Every day and Night Thousands of Pakistanis travel to Afghanistan and Afghan Embassy issues daily more than 500 Visas and 90% people getting Afghan Visa belong to Punjab.
    • At Bagram Base Near Kabul Thousands of Pakistanis belonging to Punjab are employed.
    • In Afghanistan Road conditions are much better than our GT Road.
    • During late night Kabul is full of street Lights and traffic flows the whole night.
    Do not be influenced from the Opinions of those who have never visited Afghanistan but are writing about the internal situation.
    Just Visit Afghan Embassy in Islamabad and see with your own eyes thousands of Punjabis standing in lines waiting for Afghan Visa.
    Just Visit Torkham and see with your own eyes Thousands of Trucks Loaded with Export Goods waiting for Custom Clearance.

    Harley Tourism Pvt Limited has its own offices in Pakistan, Afghanistan, Tajikistan, and Uzbekistan and ready to help you to take advantage of the new opportunities in Afghanistan, Central Asia, and Russian Republics

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha