انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان

یہ پچیس تیس سال پہلے کی بات ہے‘ہم اپنے ایک سول انجینئر دوست کی جیپ میں سندھ کے ایک دور دراز علاقے سے گزررہے تھے اور ہمارے پرانے دوست‘ ٹی وی آرٹسٹ محمد قومی خاں بھی ساتھ ہی تھے کہ ایک پل کے بعد ہماری جیپ ایک ایسی پتلی سڑک پر آگئی جسے سڑک کہنا بھی سڑک کی توہین ہی تھی‘ وہ نہ صرف بُری طرح ٹوٹی پھوٹی تھی بلکہ اُس میں ہر دو قدم کے بعد ایک گہرا گڑھا بھی آتا تھا اور غاروں جیسے اُن گڑھوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہم زمین پر نہیں بلکہ چاند کی سطح پر محو سفر ہیں!!… رات کو ایک دعوت میں قومی خان نے کچھ زیادہ ہی کھالیا تھا اور کھانے کے بعد پانچ چھ کلو آم بھی ڈکار گئے تھے اس لئے اُس شکم پروری کے نتائج اب سامنے آرہے تھے اور اُن کے پیٹ میں شدید گڑبڑ، اُن کے چہرے سے ظاہر تھی‘ وہ ”گیسٹرو“ کا شکار ہوگئے تھے اور پیٹ پکڑے اردگرد اُگی ہوئی جھاڑیوں کو حُسن طلب جیسے انداز میں نہایت محبت اور حسرت سے دیکھ رہے تھے!… جیپ خاصی پرانی تھی اور ہارن کے علاوہ اُس کے تمام پُرزے بڑے زور شور سے بج رہے تھے‘ جب سامنے سڑک پر بھیڑبکریاں سڑک پارکرتیں تو فوری طور پر جیپ کو بریک لگانا ضروری ہوجاتا تھا اور اس اچانک دھچکے سے قوی خان کی حالت غیر ہوجاتی!
جیپ اچھلتی کودتی چلی جارہی تھی اور قومی خان چاہتے تھے کہ ہم جلد از جلد اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائیں کیوں کہ اُن پر ایک ایک لمحہ بھاری تھا‘ ہم اُس علاقے میں ایک اسٹیج شو کے سلسلے میں آئے تھے اور ہمیں اپنے ایک میزبان وڈیرے کے بنگلے پر ٹھہرنا تھا جہاں پہنچتے ہی قوی خان کی مشکل آسان ہوسکتی تھی لیکن راستہ تھا کہ طویل تر ہوتاجارہا تھا‘ اچانک سڑک پر کچھ بھینسیں سامنے آگئیں‘ جیپ کو زبردست بریک لگے‘ وہ کئی فٹ اچھلی اور قوی خاں بھی اپنے معدے سمیت اچھلے ‘ جب جیپ اور اُن کا معدہ اپنی جگہ واپس آئے تو وہ بھینسوں کو دیکھ کر زور سے چیخے…
”ارے اندھی ہوگئی ہوکیا؟ دیکھ نہیں رہی ہو کہ ہماری گاڑی آرہی ہے!“…مگر وہ بھینسیں اردو سے ناواقف تھیں اور وہیں سڑک پررک کر پلٹ پلٹ کے اپنے گوالے کا انتظار کررہی تھیں جو اُن کے پیچھے آرہا تھا‘ خدا خدا کرکے بھینسیں سڑک سے ہٹیں اور جیپ خوفناک گڑھوں میں ہچکولے کھاتی آگے بڑھی‘ ہر بڑے جھٹکے پر ہماری نظریں غیر ارادی طور پر قوی خان کے سرخ اور زرد ہوتے چہرے کی طرف اٹھ جاتیں جس پر ظاہری طور پر صبر ورضا اور ضبط نفس اور داخلی محاذ پر شکست و ریخت کا ایک عجب عالم نظر آتا… ہر چھوٹے جھٹکے پر وہ کہتے…”اف“ ! اور بڑے جھٹکے پر اُن کے معدے سے فریاد ابھرتی …”اوووف!“
ہم نے سڑک کے گڑھوں پر اچھلتی جیپ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا… ” ایسا لگتا ہے کہ یہ سڑک کئی سو سال پہلے بنائی گئی تھی اوراُس زمانے کے سول انجینئر بھی ٹھیکے دار کی بغیر محنت کی کمائی میں شریک ہوا کرتے تھے!“ … یہ سن کر قوی خاں نے ٹھیکے داروں کو سڑک کی ”معیاری “ تعمیر کا سرٹیفکیٹ دینے والے سول انجینئرز کے لئے کچھ ایسے جملے ادا کئے جن میں سے خوف فساد خلق کے تحت مرکزی الفاظ نکال دیئے جائیں تو باقی کچھ نہی بچتا… ہم نے جیپ ڈرائیو کرتے ہوئے سول انجینئر سے کہا …”آپ بھی تعمیر کے محکمے میں ہیں‘ ذرا افسران بالاسے یہ ضرور پوچھئے گا کہ ایسی بدحال ‘ ناکارہ سڑک کس انجینئر کی نگرانی میں تعمیر ہوئی تھی؟“…وہ مسکرا کر بولے …”کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے‘ اس ٹھیکے دار کا بل پاس کرنے والا انجینئر میں ہی ہوں!“
ہم یہ سن کر ہونّق سے ہوگئے اور آہستہ سے بولے… تو گویا آپ نے بھی اس سڑک کے کنٹریکٹر سے رشوت لی تھی؟“
وہ ڈھٹائی سے بولے… ” رشوت کیوں کہہ رہے ہیں آپ؟ ٹھیکے دار کی آمدنی میں سے 20 فی صد تو ویسے بھی انجینئر کا حق ہوتا ہے!!“… ہم دم بخود ہوکر رہ گئے‘ یہ پوچھنے کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں تھے کہ آخر یہ ”حق“ پاکستان کے آئین کی کس شق میں لکھا ہے۔
ہماری جیپ آہستہ ہوتے ہوئے رک گئی کیوں کہ ہمارے میزبان وڈیرے کا بنگلہ آگیا تھا‘ وہ ہمارے استقبال کے لئے گیٹ پر ہی کھڑا تھا‘ قوی خان چھلانگ لگا کر جیپ سے اترے ‘ میزبان نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر انہوں نے ایک اور طویل چھلانگ لگائی اور بنگلے کی طرف اس تیز رفتاری سے دوڑے جیسے چھ فرلانگ کی ریس میں حصہ لے رہے ہوں‘ میزبان پہلے حیران‘ پھر پریشان ہوا اور آخری میں یوں مسکرایا جیسے اس کیفیت کو بقول شاعر اچھی طرح سمجھ گیا ہو کہ ”کیفیت پیٹ اُس کی مجھے یاد ہے سودا!“…اُس خوفناک سڑک سے گزرے ہمیں کئی برس ہوگئے لیکن اُس جیسی سڑکیں اب بھی سیلاب زدہ علاقوں میں نظر آتی ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=464973

  One Response to “سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج”

  1. plz sir accept my request.

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha