صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
میں نے اسی کالم میں اسی جگہ پر لکھا تھا کہ یہ سیلاب موجودہ حکومت کی نااہلیت، نالائقی اور بے بصیرتی کا راز فاش کرکے موجودہ سیاسی ڈھانچے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گا۔ تاریخ کا ایک اہم سبق ہے کہ جب تک کسی ملک کے سیاسی نظام کی جڑیں بہت گہری اورمضبوط نہ ہوں، جنگ، آسمانی آفت اور طویل سیاسی بحران حکمرانوں اور نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتاہے۔ فیلڈمارشل ایوب خان نے بڑے سلیقے اورطریقے سے اپنے آپ کو نہایت مضبوط بنا کر ایشیا کے ڈیگال کا خطاب حاصل کرلیا تھا۔ تمام مورخین متفق ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ 17یوم کی جنگ نے ایوب خان اور اس کے نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دیں او ر ایوب خان کی رخصتی کی بنیاد رکھ دی حتیٰ کہ وہ اپنی صدارتی ٹرم ادھوری چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ یحییٰ خان کم از کم دس برس حکومت کا پلان لے کر آیا تھا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہندوستان سے جنگ نے اسے مستعفی ہونے پرمجبور کر دیا۔ ضیا الحق افغان وار کا نشانہ بنا اور مشرف شدید سیاسی و عدالتی بحران کے سیلاب میں بہہ گیا۔ اس وقت ڈیڑھ کروڑ متاثرین سیلاب خیموں، سڑکوں یا اونچی جگہوں پر کھلے آسمان تلے پڑے جسم وجان کا رشتہ قائم رکھنے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ان کی آنکھوں میں مایوسی اور غصے کے انگارے دہک رہے ہیں۔ان کے گھر، مویشی ، فصلیں سب کچھ سیلاب کی نذر ہو گیا اور پھر اس سیلاب کا رخ موڑنے میں مقامی جاگیرداروں، وڈیروں اور سیاسی بااثر شخصیات نے بھی کردار سرانجام دیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں مشہور فلسفی روسو نے کہا تھا They have nothing to lose but chains ان کے پاس اب کھونے کو مزید کچھ نہیں ہے ماسوائے غلامی کی زنجیروں کے… آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا ان کا غصہ سیلاب میں بہہ جائے گا؟ اس آسمانی آفت کے آغاز میں حکومت نے جس سردمہری اور ”تغافل بے نیازانہ“ کا مظاہرہ کیا اورپھرجس طرح موجودہ سیاسی ڈھانچے کی نااہلی ایکسپوز ہوئی اس کا نقش ضائع جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ لکھ لیجئے سیاسی حکمرانوں اور موجودہ نظام کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی اور اس ادائیگی کے دو طریقے ہوتے ہیں یا کوئی مضبوط گروہ، نااہل اور کرپٹ لوگوں کواٹھا کر گندے انڈو ں کی مانند باہر پھینک دیتا ہے یا اگر سیاسی سسٹم بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائے توان لوگوں کو سٹم کے ذریعے شکست دے کر مقام عبرت پر پہنچا دیاجاتا ہے۔
اسی نوشتہ ٴ دیوار کو پڑھ کر اور لوگوں کی آنکھوں میں نفرت کے دہکتے انگارے دیکھ کر میاں شہباز شریف خونیں انقلاب کی نوید سنا رہے ہیں اور الطاف حسین اس انقلاب کی لہر پر سوار ہو کراقتدار کے گنبد پرقابض ہونا چاہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کے گلی محلوں گھروں دیہاتوں شہروں غرض کہ ہر جگہ انقلاب انقلاب کی آرزو کے نعرے لگ رہے ہیں۔ لوگ سیاستدانوں کی نااہلی، کرپشن اور سردمہری، جاگیرداروں، روایتی سیاستدانوں اور امرا کی خودغرضی وبے حسی سے نالاں ہیں اور ملک کے روشن مستقبل کے خواب کو شرمندہ تعبیرکرنے کیلئے ایماندار،اہل، ہمدرد اورباکردار قیادت کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں او ر اب کہ یہ خواب بہرحال اپنا رنگ دکھائے گا۔ کس طرح؟ دیکھئے اور انتظارکیجئے کہ ہر بحران اور ہر تحریک اپنی قیادت خود پیدا کرتی ہے۔اس مطالبے سے کسی کوبھی اختلاف نہیں کہ جن بااثر جاگیرداروں اور سیاسی شخصیات نے اپنی جائیدادیں بچانے کیلئے سیلاب کا رخ موڑا، ان کو انسانی جانوں اور املاک سے کھیلنے کی سزا کے طورپرپھانسی چڑھاؤ، روایتی سیاسی خانوادوں، وڈیروں، جاگیرداروں، گدی نشینوں اور کرپٹ عناصر، ملک کاخزانہ اور وسائل… لوٹنے والوں کو عبرتناک سزائیں دو، ٹیکس چوروں، خودغرض اورناجائز منافع کمانے والوں، ملاوٹ کرنے والوں اور دوسرے قومی جرائم میں ملوث افراد کو عبرت کا نشان بناؤ۔ گویا اس پر قوم کا اجماع اور اتفاق ہے اور اس اتفاق کے شعورکوموجودہ آسمانی آفت غربت، کرپشن، دوہرے منافقانہ قوانین او رانصاف کے فقدان کے ساتھ ساتھ منتخب نمائندوں کی بے حسی اورکرپشن اور ڈگری سکینڈل نے بھی مہمیز لگا کر باقاعدہ تحریک کی صورت دے دی ہے چنانچہ یہ احساس ہر پاکستانی کے ہونٹوں سے اظہار بن کر ٹپک رہاہے اور ہر پاکستانی کی نگاہوں میں جھلک رہا ہے۔ گویا انقلاب کی پہلی منزل توطے ہوچکی کیونکہ انقلاب کی پہلی سیڑھی احساس، شعور اورشدید خواہش ہوتی ہے، جو تحریک کاروپ دھار کر راستہ بناتی اور عملی جدوجہد کا پیغام دیتی ہے۔ سیلاب کی آفت کے ٹلتے ہی مایوسیاں بڑھیں گی، آباد کاری کے مسائل، وبائیں اور محرومیاں مل کر تحریکوں کوجنم دیں گی اور یہ خطرناک مرحلہ کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
الطاف حسین نے جب شدیدردعمل اور غصے میں مارشل لا کی مانند کسی محب وطن جرنیل کے ذریعے جاگیرداروں، لٹیروں اور سیلاب کا رخ موڑنے والوں کو پھانسی کا مطالبہ کیا تو یہ ردعمل ایک عام سیاسی کارکن کا تھا، کسی قائد کا نہیں ۔ جرنیل محب وطن ہی ہوتے ہیں لیکن ان عناصر کو پھانسی چڑھانے کے لئے اقتدار پر قبضہ ضروری ہے۔ اقتدار پر قبضہ کمانڈرانچیف کرے تو وہ انقلاب کہلاتا ہے لیکن دو چار جرنیل مل کر کریں تو بغاوت کہلاتی ہے۔ اسی کو مارشل لا کی دعوت کہا جاتا ہے اور اسی لئے سیاستدانوں اوردانشوروں نے کہا کہ لاقانونیت اور آئین کو پامال کرنے کی بات نہ کریں، اس سے ملک میں انارکی پھیلے گی۔ تمام قسم کے لٹیروں اور استحصالی گروہوں کا احتساب کرو لیکن قانون کی مدد سے… انارکی خود ایک سیلاب ہے جو سب کو بہا کر لے جائے گی۔ انسانیت کے مجرموں، لٹیروں اور لوگوں کا خون چوسنے والوں کا احتساب موجودہ سیاسی نظام کے تحت ممکن نہیں توقانون اور نظام کو بدلو۔ عامر جلیل سے جواب لکھوانے کے بعد الطاف حسین کو میری بات سمجھ میں آگئی چنانچہ اب ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نظام بدلے گی، لٹیروں اور انسانیت دشمنوں کو عبرت کا نشان بنائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایم کیو ایم کا ماضی اس دعوے کی صداقت کی حمایت کرتا ہے؟ ایم کیو ایم پر خود الزامات کے خوفناک داغ ہیں۔ دوسری طرف میاں شہباز شریف کو خطرہ ہے کہ لوگ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور خونیں انقلاب آئے گا۔نظریاتی انقلاب ، فکری و ذہنی تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں جبکہ کچھ انقلاب وقت کے لمحوں پر بھی پروان چڑھتے ہیں اور ضرورت کے سانچے میں ڈھلتے ہیں۔ میرے نزدیک سوچ میں تبدیلی، نئے نظام کی شدیدخواہش، حالات سے مایوسی اورفرسٹریشن، کرپٹ، سنگدل، نااہل نظام سے نجات کی چلتی آرزو بذات ِ خود انقلاب ہے اور سچ یہ ہے کہ یہ انقلاب آ چکا ہے اور اب اس انقلاب کو کسی طور عملی رنگ اختیار کرنا ہے اورکوئی روپ دھارنا ہے۔ عملی نتائج کے لئے ذرا انتظار کیجئے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=464970
Recent Comments