روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی
جنگ کا دائرہ بہت محدود تھا یہ زیادہ تر سرحدوں پر یا فضا میں لڑی جا رہی تھی۔ چنانچہ سول ڈیفنس سے وابستہ رضا کاروں کو قومی دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ تاہم ہم تمام دوست ان دنوں اڑائی جانے والی افواہوں کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دیتے رہتے تھے اور جب راتوں کو بلیک آؤٹ شروع ہوا تو ہم نے پوری پوری رات جاگ کر اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ کسی گھر سے روشنی کی کوئی کرن نمایاں طور پر نظر نہ آئے۔
لیکن میں تو شاعر بھی تھا چنانچہ مجھے یہ محاذ بھی سنبھالنا تھا۔ سو میں نے جہاں اپنے فوجیوں اور شاہینوں کے لئے ترانے لکھے وہاں اپنی اس ہجو گوئی کا ر خ بھی دشمنوں کی طرف موڑ دیا جو میں محض دوستوں کی ضیافت طبع کے لئے کیا کرتا تھا۔ یہی کام میرے دوسرے دوست ہم عصر اور بزرگ بھی کر رہے تھے۔ شاعروں نے ترانوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ موسیقاروں نے انتہائی خوبصورت دھنیں تیار کیں اور گانے والوں نے یہ ترانے اپنے دل کی گہرائیوں سے گائے۔ چنانچہ پورا ملک جاگ اٹھا۔ وہ بھی جو دیر سے سوئے ہوئے تھے آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے اور اپنے اپنے محاذ پر ڈٹ گئے۔ مجھے یاد ہے کہ ان دنوں صفدر میر جو لیفٹ کے بہت بڑے دانشور اور شاعر تھے کھلے ٹرک پر سوار لاہور کی سڑکوں پر” چلو واہگے کی سرحد پر، چلو واہگے کی سرحد پر“ گاتے نظر آئے۔ صدر سوئیکارنو مرحوم نے ”گنجنگ انڈیا“ (انڈیا کو کچل دو) کا نعرہ دیا تو انجم رومانی نے ایک خوبصورت نظم اسی عنوان کے تحت لکھی۔ پنجابی کے شاعروں میں سے ڈاکٹر رشید انور کی نظم ”جنگ کھیڈنہیں ہوندی زنانیاں دی“ نے جذبوں کو مہمیز دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، جمیل الدین عالی، حمایت علی، شاعر احمد فراز، منیر نیازی، ناصر کاظمی، قتیل شفائی اور اس دور کے دیگر اہم شعراء نے بھی دفاع وطن میں اپنا حصہ ڈالا۔ مجھے یاد ہے کہ گھپ اندھیری راتوں میں بلیک آؤٹ کے دوران ریڈیو سے اعجاز احمد بٹالوی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہ روزانہ ایک مختصر سا مضمون جو نہایت خوبصورت پیرائے میں لکھا ہوتا، ریڈیو سے پڑھتے جو مایوس ذہنوں میں بھی امید اور یقین کے کئی قمقمے روشن کر دیتا تھا۔ ریڈیو کی ایک ناقابل فراموش آواز بھی ان دنوں پہلے سے زیادہ جوش اور جذبے کے ساتھ سنائی دیتی تھی اور اس کا نام نظام دین تھا۔
اور میں سوچتا تھا انڈیا ہمارا دشمن ہے کہ دوست ہے کیونکہ اس نے جنگ کا آغاز کر کے پورے پاکستان کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک متحد کر دیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جنگ کے پورے سترہ دنوں میں گراں فروشوں نے گراں فروشی سے توبہ کرلی۔ چوری یا ڈاکے کی کوئی واردات نہیں ہوئی، اشیائے خورونوش میں سے کوئی چیز مارکیٹ سے غائب نہیں ہوئی۔ لوگ اپنے فوجی بھائیوں کی بلائیں لیتے تھے۔ وہ جدھر سے گزرتے ان پر پھول نچھاور کئے جاتے۔ اور ہماری فوج نے بھی پاکستانی عوام کی محبتوں کی لاج رکھی اور اپنی جانوں کی قربانی دے کر انڈیا کو پاکستانی سرحدوں سے دور مار بھگایا اور ایئر فورس؟ اس نے تو ہمارے دلوں پر اپنی محبت کا ایک لازوال نقش ثبت کیا۔ اس کے باوجود میری دعا ہے کہ آئندہ ہماری سرحدوں پر جنگ کے بادل کبھی نہ منڈلائیں کیونکہ جنگ بہرحال طرفین کے لئے تباہی کا پیغام لاتی ہے تاہم قوم کو ایک بار پھر متحد کرنے کے لئے انڈیا سے دوبارہ حملہ کرنے کی درخواست تو نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ اس دفعہ ہمیں قومی یکجہتی کے لئے اپنے طور پر جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ یہ کام کون کریگا؟ یہ کام ہمارے دانشوروں نے کرنا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اس ضمن میں اسی جوش اور جذبے سے اپنا کردار ادا کریں گے جس جذبے کا مظاہرہ انہوں نے 1965ء کی جنگ کے دوران کیا تھا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=464966
Recent Comments