روزن دیوار سے … عطاء الحق قاسمی
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میری عمر 22سال تھی اور میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں سال پنجم کا طالب علم تھا۔ لاہورمیں انار کلی کے قرب میں واقع یہ تاریخی کالج عوام الناس میں لڑکیوں کے کالج کے نام سے جانا جاتا تھا کہ یہاں ہم لڑکوں کی ”تعداد“ اتنی ہی تھی جتنی آٹے میں نمک کی ہوتی ہے۔ آپ مجھے ”جماندرو“ ایڈیٹر قرار دے سکتے ہیں کیونکہ اورینٹل کالج میں ایم اے اردو کی کلاسز میں داخلہ لینے سے پہلے میں فرسٹ ایئر سے بی اے تک ایم اے او کالج میگزین ”شفق“ کا ایڈیٹر رہا تھا جس کے نگران اس وقت کے ”پروفیسر خالد محمود“ اور آج کے وفاقی شرعی عدالت کے ”جسٹس خالد محمود“ تھے۔ رو دھو کر بی اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں داخلہ لیا تو پنجاب یونیورسٹی کے مجلہ ”محور“ کی مجلس ا دارت میں شامل کرلیا گیا، ناقص امتحانی نظام کے نتیجے میں ایم اے کرنے میں کامیاب ہوا تو ”نوائے وقت“ کی سب ایڈیٹری میری منتظر تھی۔ اب میں واپس اپنے شروع کے زمانے کی طرف آتا ہوں، یہ بے فکری کے دن تھے، میں ہاتھ میں ایک فائل پکڑے ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی لال بس میں بیٹھ کر کالج آتا اور کالج کے لان میں بوڑھے برگد کے سائے تلے بیٹھ کر اپنے دوستوں کی ہجو کہتا اور جب وہ کلاسز اٹینڈ کرکے لان میں آتے تو انہیں یہ ہجویہ اشعار سنا کر انہی سے داد بھی طلب کرتا اور اکثر اس میں کامیاب بھی ہو جاتا۔ میرے اساتذہ میں ڈاکٹر سید عبد اللہ، سید و قار عظیم، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر افتخار صدیقی، ڈاکٹر ناظر حسن زیدی، ڈاکٹر غلام حسین، ذوالفقار، سید سجاد باقر رضوی اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا شامل تھے ۔ میں ان عہد ساز اساتذہ کی فیض رسانی کا بے حد قائل تھا سو مجھے یقین تھا کہ یہ فیض ان کی کلاسز اٹینڈ کئے بغیر بھی مجھ تک پہنچتا رہے گا اور آپ کو پتہ ہے کہ اعتقاد میں بہت طاقت ہوتی ہے اور یہ ناممکن کو بھی ممکن میں بدل دیتا ہے چنانچہ الحمد للہ میں نے ایک پرچے میں فیل ہونے کے بعد اگلے برس سکینڈ ڈویژن میں ایم اے پاس کرنے کا ”معجزہ“ کر دکھایا۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے ایک انتہائی قابل استاد جو ہمیں تنقید کا پرچہ پڑھاتے تھے۔ انہوں نے ایم اے انگلش کو ناکافی سمجھتے ہوئے ایم اے اردو کا امتحان دیا تو وہ اسی پرچے میں فیل ہوگئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے تاہم یہ امتحانی نظام کا نہیں غالباً یونیورسٹی پالیٹکس کا نتیجہ تھا۔
کالج سے واپسی پر میری ”مصروفیات“ میں اور اضافہ ہو جاتا تھا۔ یہاں میرے دوستوں کا ”گینگ“ میرا منتظر ہوتا۔ جن میں عارف (مرحوم) خالدی(مرحوم) ، مسعود علی خان، منیر احمد شاہ اَکی، مالک اور سعید و غیرہ شامل تھے یہ سب دوست اپنی اپنی جگہ ایک دلچسپ کریکٹر تھے جن پر علیحدہ علیحدہ دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں، تاہم میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا البتہ ایک ”خباثت“ کا حوالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ رمضان کے ایک مبارک مہینے میں لوگ جامع مسجد ماڈل ٹاؤن میں تراویح کی ادائیگی کے لئے جوق در جوق آنا شروع ہوئے اور یوں روز بروز مسجد کی رونق میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن چند روز بعد ہی نمازیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوگئی پتہ چلا کہ مسجد کے گردونواح میں کوئی بھوت ہے جو کبھی کسی کونے اور کبھی کسی کونے سے اچانک نکل کر سامنے آجاتا ہے جس کی دہشت کی وجہ سے لوگ ادھر کا رخ نہیں کر رہے، تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ ہمارے ہی ”گینگ“ کے کچھ لوگ تھے جو کسی اندھیرے کونے میں کھڑے ہو کر اور اپنے سارے جسم کو کالی چادر میں لپیٹ کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے ٹارچ روشن کر دیتے تھے جس سے ان کی شکل انتہائی خوفناک ہو جاتی تھی اس کے بعد وہ کسی کونے سے اچانک نمودار ہو کر نمازیوں کے سامنے آجاتے جس پر وہ بھوت بھوت چلاتے ہوئے بھاگ اٹھتے تھے۔ میرا دوست عارف(مرحوم) بے حد دیندار نوجوان تھا۔ اسے جب اس خباثت کا علم ہوا تو وہ سخت ناراض ہوا تاہم بعد میں ”بھوتوں“ کی معافی تلافی ہوگئی، اس ضمن میں مجھ پر بھی شک کیا گیا۔ خدا کا شکر ہے میری یہ ”دلیل“ کافی موثر ثابت ہوئی کہ مجھے تو بھوت کا میک اپ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ وہ بے فکری کے دن اور راتیں تھیں جو ہم دوست گزار رہے تھے۔ دراصل وہ دور ویسے بھی ایک بالکل مختلف قسم کے پاکستان کا عکس پیش کرتا تھا۔ ان دنوں پاکستان ایک سیکولر ملک تھا۔ ہر شخص کو ہر اس کام کی آزادی تھی جس سے کسی دوسرے فرد کی آزادی متاثر نہیں ہوتی تھی۔ مسجدیں بھی بھری ہوتی تھیں۔ تفریح گاہوں میں بھی رش ہوتا تھا۔ ان دنوں دہشت گرد نام کی کسی چیز کا پاکستان میں کوئی وجود نہ تھا۔ فرقہ واریت کا وہ عفریت بھی کہیں نظر نہیں آتا تھا جس کی آڑ میں ایک گروپ قتل و غارت گری میں مشغول ہے ان دنوں ڈاکے بھی نہیں پڑتے تھے۔ سب لوگ سادہ زندگی بسر کر رہے تھے، قناعت نے انہیں بے سکون نہیں ہونے دیا تھا۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ہر روز روزِ عید تھا اور ہر شب، شب ِ برات تھی تاہم یہ اس عذاب کے دن بھی نہیں تھے جو آج کل ہم لوگ گزار رہے ہیں مگر ایک دن اس پرسکون فضا میں ہلچل سی مچی۔ پتہ چلا کہ انڈیا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں اور پھر ایک روز ہم سو کر اٹھے تو معلوم ہوا کہ انڈیا نے رات کے اندھیرے میں لاہور پر بھرپور حملہ کر دیا ہے۔
ان دنوں نہ ٹی وی تھا اور نہ ایف ایم ریڈیو وغیرہ صرف ریڈیو پاکستان تھا اور یوں اخبارات کے بعد یہ ہماری معلومات کا واحد ذریعہ تھا۔ریڈیو پاکستان سے ”صدر مملکت“ جنرل ایوب خان نے ایک پرجوش تقریر کی جس کے اس جملے نے خصوصاً دلوں کو گرما دیا کہ ”کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑو!“ اور پھر پاکستان کے بہادر لوگ گلیوں بازاروں میں نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے نکل آئے اور جو شخص جہاں تھا اس نے ایک سپاہی کے طور پر اپنا محاذ سنبھال لیا اور ہماری جو بے فکروں کی ٹولی تھی، ایک ہی رات میں اس کی سوچ اور عمل کے دھارے بدل گئے تھے۔ اب ہم وہ شوخ و شنگ نوجوان نہیں تھے جنہوں نے اپنی الگ سے ایک دنیا آباد کی ہوئی تھی بلکہ ایک نرالا سا جذبہ خون کی مانند ہماری رگ و پے میں دوڑنے لگا تھا۔ وطن کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ، دشمن سے اپنی اس توہین کا بدلہ لینے کا جذبہ، جو اس نے ہماری سرحدوں پر شب خون مارنے کی صورت میں کی تھی۔ ریڈیو سے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں کی شجاعت اور ان کی لازوال قربانیوں کی داستانیں نشر ہو رہی تھیں، ہمارے سروں پر جو آسمان تھا اس پر ہماری ایئر فورس کے شاہین ہندوستانی جہازوں پر جھپٹتے اور انہیں مار بھگاتے نظر آتے تھے۔ ہم قومی بقا کے لئے لڑی جانے والی اس جنگ میں اپنا حصہ، ڈالنے کے لئے بے تاب تھے چنانچہ ہم سول ڈیفنس کے آفس میں گئے اور ایک مختصر سی ٹریننگ کے بعد مجھے ڈپٹی وارڈن بنا دیا گیا اور پھر میں اور اَکی سول ڈیفنس کی وردی میں ملبوس ایک دوسرے کو دیکھتے تھے۔ اپنی بدلی ہوئی سوچوں اور عمل کے مختلف زاویوں پر غور کرتے تھے۔ تو خود ہمیں یقین نہیں آتا تھا کہ ہم وہی ہیں جو صرف چند روز پہلے تک ہم تھے؟ یہی حال ہمارے دوسرے دوستوں کا بھی تھا۔ ( جاری ہے)
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=464706
People like Qasmi and his lot do not deserve even to be allowed to write any where. Pakistani (So called) Journalist and writers are using their talent to create frustrations in already frustrated nation. By doing that they are getting richer and richer and getting even appointments as Ambassadors but the nation and its future is becoming bleak and bleaker. When some of the journalist last year visited Uzbekistan there was no doubt left in my mind between sayings and facts