گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مون سون بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے پاکستان کے ایک بڑے حصے کو تباہی اور بربادی سے دوچار کر دیا ہے لیکن اتنی بڑی تباہی کے باوجود ناکافی امداد وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہ کاریوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر سیلاب زدگان کو مطلوبہ امداد نہ مل سکی تو اس کے نتیجے میں مغرب سے نفرت کرنے والے عسکریت پسند اس تباہی اور بربادی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ضلع قمبر علی خان میں گاؤں کے لوگ اس سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جو پانچ سے آٹھ فٹ تک گہرا ہے اور جس کے نتیجے میں ملیریا، ہیضہ اور پیچش جیسے مہلک امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ جیکب آباد بھوتوں کے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جو لوگ وہاں باقی بچے ہیں وہ سڑکوں کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کے سروں پر گھر کی چھت نہیں ہے۔ وہ روٹی اور پانی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ 70/سالہ خاتون عربہ بی بی پشاور کے ایک مضافاتی علاقے میں چار دن تک ایک درخت کے اوپر پناہ لینے پر مجبور ہو گئی کیونکہ ہر شے سیلاب کے پانی میں ڈوب چکی تھی۔ نصیرآباد پورے پاکستان سے کٹ چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اہلکار کہتے ہیں کہ پورا شہر پانی میں ڈوب چکا ہے اس لئے اس تک پہنچنا ناممکن ہے۔
میرے ملک کے عوام نے قدرتی آفات، دہشت گردی اور سیاسی تشدد کی بڑی بھاری قیمت ادا کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ میرے والد مرتضیٰ بھٹو کو پولیس مقابلے میں مار ڈالا گیا۔ ان کے چھوٹے بھائی شاہ نواز بھٹو کو ان سے پہلے پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا گیا اور میری پھوپھی بے نظیر بھٹو کو دو سال قبل قتل کر دیا گیا۔ لیکن…لیکن پاکستان اتنے بڑے عذاب سے پہلے کبھی نہیں گزرا۔ سیکڑوں ہزاروں گاؤں اور دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں آنے والے اس سیلاب نے ہیٹی میں آنے والے زلزلے کی تباہ کاریوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
دس میں سے ہر پاکستانی کسی نہ کسی طرح اس سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ ہمارے ملک کا پانچواں حصہ سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب سیلابی پانی سے پیدا ہونے والے امراض کے نتیجے میں دوسرا مرحلہ مرنے والے لوگوں کی لاشوں پر مشتمل ہو گا۔ کوئی نہیں جانتا کہ دریائے سندھ کا پانی کب اپنا رخ تبدیل کر لے گا۔ مون سون کب ختم ہو گا؟ پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو میں کتنا وقت لگے گا؟ ہماری نا اہل حکومت جس کے صدر آصف علی زرداری دبئی، یورپ اور روس کے دوروں میں مصروف رہتے ہیں، کی وجہ سے ہمیں ناکافی امداد مل رہی ہے۔ پوری دنیا میں یہ تاثرعام ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی رقوم بالآخر انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ مقامی اطلاعات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ سیاستدان ہمسایہ دیہات اور گاؤں کی قیمت پر اپنے اپنے حلقہٴ انتخاب کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
تاہم عالمی برادری پاکستان میں ہونے والی تباہ کاریوں کی جانب سے اپنی پیٹھ موڑ لے تو ایسی صورت میں ریلیف کی تمام تر ذمہ داریاں عسکریت پسند سنبھال سکتے ہیں جو بنیادی ضروریات کی فوری فراہمی کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ غذا کے علاوہ ادویات اور خیمے بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
اگر آکسفیم، اقوام متحدہ اور مرلن جیسی تنظیموں کی جانب سے پاکستان کو شفاف طریقے سے ضروری اور مطلوبہ امداد فراہم نہ کی گئی تو عسکریت پسندوں کا کام آسان ہوجائے گا اور وہ بڑی کامیابی کے ساتھ اس خلا کو پرکر دیں گے تاہم ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں آنے والے سیلاب کو ”سلوموشن سونامی“ سے تعبیر کیا ہے۔ براہ کرم…میرے ملک کو ڈوبنے سے بچا لیجئے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=462614

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha