صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
کل کے کالم کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ جن جرنیلوں کو الطاف بھائی جاگیرداروں، گدی نشینوں اور کرپشن کے مارے سیاستدانوں کے خاتمے کے لئے ”پکار“ رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ ان عناصر کی سرپرستی کی ہے۔ چار فوجی حکومتیں پوری طرح مطلق العنان ہونے کے باوجود نہ جاگیرداری ختم کرسکیں اور نہ ہی یہ ان کی ترجیح تھی، تھوڑی بہت جو زرعی اصلاحات ہوئیں وہ مسلم لیگ کے پہلے دور، ایوب خان اور بھٹو کے دور میں ہوئیں۔ ہر فوجی حکمران ہوا میں معلق ہوتا ہے اور اسے زمین سے رابطے استوار کرنے اور حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے بیساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا جاگیردار طبقہ انگریزوں کے دور سے یہ رول سرانجام دیتا رہا ہے چنانچہ وہ ہر فوجی حکومت کی بیساکھی اور لاٹھی بن کر اقتدار میں شریک ہو جاتے ہیں چنانچہ فوجی حکومتوں کو جاگیرداروں کے خاتمے کے لئے آواز دینا نہ صرف تاریخی حقائق کی نفی ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ گویا فوج قوم کی نجات دہندہ ہے اور قومی سیاستدان حکومت چلانے کے اہل نہیں۔ اس رویے سے نہ صرف جمہوری روایات اور سیاسی اداروں کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں بلکہ جرنیلوں کی ہوس اقتدار بھی دو آتشہ ہو جاتی ہے۔ یقینا ہماری یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم شیطانی چکر (Viciouscircle)میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ فوج آتی ہے تو ہم اسے نکالنے کے لئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جمہوریت آتی ہے تو کچھ سیاستدان رات کی تاریکیوں میں اور کچھ الطاف بھائی کی مانند دن کے اجالے میں فوج کو دعوت اقتدار دینا شروع کر دیتے ہیں۔ رہا الطاف بھائی کا دوسرا خواب کہ جرنیل آئیں اور انقلاب فرانس کی مانند کرپشن کا خاتمہ کریں اور کرپٹ جاگیرداروں کو پھانسی چڑھائیں ۔ الطاف بھائی کسی وقت انقلاب فرانس کا مطالعہ کرلیں اور سوچیں کہ کیا اس طرح کا انقلاب پاکستان میں آسکتا ہے؟ مختصر یہ کہ انقلاب فرانس عوام لائے تھے نہ کہ فوج اور جہاں تک کرپشن کے خاتمے کا تعلق ہے کیا الطاف بھائی ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار حکومت بھول گئے جن میں ہر روز کرپشن کی خوفناک کہانی جنم لیتی تھی۔ مشرف کا دور کرپشن کے حوالے سے ساری حکومتوں پر بازی لے گیا۔ اقرباء پروری، دوست نوازی اور ملکی وسائل کو ریوڑیوں کی مانند بانٹنے کے سارے ریکارڈ فوجی حکومتوں نے قائم کئے۔ اس لئے جرنیلوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کرپشن کے سیلاب کے سامنے بند باندھیں گے محض اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ کرپشن اور نااہلیت کا شاہکار ہے لیکن اس صورتحال سے گھبرا کر فوج کو بلانا اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اپنی جاگیریں فیکٹریاں اور محلات کو بچانے کے لئے سیلاب کا رخ موڑنے والے قومی مجرم ہیں، سیلاب زدگان کی ”مدد“ میں کرپشن کرنے والے مردوں کے کفن چھیننے والوں سے بھی بدتر ہیں اور میں بھی الطاف بھائی کی مانند محسوس کرتا ہوں کہ انہیں سرعام پھانسی چڑھا دینا چاہئے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا قانون و آئین سے بالا تر مطالبہ اور انتقام قومی لیڈروں کو ”سوٹ“ کرتا ہے، کیا ایسی بات کہنی انہیں زیب دیتی ہے، کیا قائداعظم نے کبھی برے سے برے حالات حتیٰ کہ جلیانوالہ باغ کے قتل عام پر بھی کبھی ایسا مطالبہ کیا؟ ملکوں اور قوموں کی بقاء، استحکام اور مضبوطی قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے۔ جب قومی سیاستدان، حکمران اور بااثر طبقے قانون و آئین کو پھلانگنا شروع کر دیں اور لاقانونیت کو شہ دینا شروع کر دیں تو پھر کراچی اور سیالکوٹ جیسے سانحے پیش آتے ہیں۔ اللہ نہ کرے لوگ قانون کو ہاتھ میں لے لیں ورنہ اس انارکی میں الطاف بھائی کے ساتھی بھی محفوظ نہیں رہیں گے اور پاکستانی معاشرہ بھی لاقانونیت کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائے گا۔ کیا الطاف بھائی کی یہی تمنا ہے؟ کرپٹ عناصر کو ٹانگنا ہے یا جاگیرداری کی گرفت سے نجات حاصل کرنی ہے، سیلاب کا رخ موڑنے والوں کو پھانسی چڑھانا ہے یا ملک کو لوٹنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا ہے یہ سب کچھ قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے ورنہ دوسرا راستہ انارکی کی طرف لے جاتا ہے۔ الطاف بھائی جمہوری لیڈر ہیں انہیں لاقانونیت، اندھے انتقام اور مارشل لاء کو پروموٹ کرنے کی بجائے جمہوری نسخہ استعمال کرنا چاہئے جس کا اظہار انہوں نے اپنی تقریر میں کیا ہے۔ مثبت حکمت عملی یہ ہے جو انہوں نے کہا ہے کہ عوام ایم کیو ایم کو ووٹ دیں ہم ملکی دولت لوٹنے والوں، کرپٹ جاگیرداروں، جرنیلوں کو سرعام لٹکائیں گے لیکن ان کا یہ اعلان کہ اگر محب وطن جرنیل ظالمانہ جاگیردارانہ نظام، کرپشن، لوٹ مار کرنے والوں اور لٹیرے سیاستدانوں سے ملک کو نجات دلانے کے لئے مارشل لاء طرز کا اقدام کریں تو ہم ان کا ساتھ دیں گے ،بالواسطہ طور پر مارشل لاء کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ اے کاش الطاف بھائی نے مشرف حکومت کو اس بنا پر لات مار دی ہوتی کہ مشرف جاگیرداروں، امراء، کرپٹ اور لوٹ مار کرنے والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں تو آج ان کا سوز دروں قوم کو بہتر انداز میں سمجھ میں آتا۔ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا۔ اب تو یہ تضاد بیانی لگتی ہے کہ وہ جس حکومت کا حصہ ہیں اسے کرپٹ نااہل اور لوٹ مار کرنے والی حکومت کہہ رہے ہیں اور اسی سے یہ اندیشہ جنم لیتا ہے کہ کہیں وہ کسی نادیدہ قوت کے ہاتھوں میں تو نہیں کھیل رہے، کہیں وہ کسی بڑے کھیل کا حصہ تو نہیں بن گئے۔ یہاں تک لکھ چکا ہوں تو اپنے کینیڈا والے ماہر علم نجوم دوست اور ایک روحانی شخصیت کی یہ بات یاد آرہی ہے کہ اس عرصے میں کچھ اس طرح کے واقعات رونما ہوں گے جو حکمرانوں کی تبدیلی کا باعث بنیں گے اور پھر ایک نوجوانوں کا ایسا گروپ برسر اقتدار آئے گا جو لٹیروں اور قوم کا خون چوسنے والوں کا احتساب کرے گا، قدرت پاکستان پر مہربان ہوگی، یہ لوگ نہایت ایماندار اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں گے، وہ ملکی معیشت اور نظام کو صحیح راہ پرڈالیں گے، غربت میں کمی ہوگی اور پاکستان کا مقدر چمکنے لگے گا۔ میری دعا ہے کہ پاکستان کا مقدر بدلے اور ہم اپنے ملک کو ترقی کرتے دیکھیں لیکن حق یہ ہے کہ غائب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور صرف وہی جانتا ہے کیا ہوگا۔ ہم صرف حسین خوابوں میں زندہ رہ سکتے ہیں اور بس
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=462612
Recent Comments