ڈاکٹر اشفاق حسن خان

اس وقت پاکستان تاریخ کے بدترین انسانی المیے سے دوچار ہے، سیلاب جس کی نظیر نہیں ملتی، نے لاکھوں پاکستانیوں کو بے گھر بنا دیا، ان کے ذریعہ معاش کو تباہ کر دیا اور ہزاروں کی تعداد میں جانیں ضائع ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے چیف بان کی مون اس آفت سے بحالی کے لئے رکن ممالک سے پاکستان کی امداد کے لئے اپیل کر چکے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور از سر نو تعمیر کے لئے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے کئی بلین ڈالرز بطور قرض پاکستان کو فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ضرورت کے وقت پاکستان کا ساتھ دینے پر ہمیں ان اداروں کا شکر گزار ہونا چاہئے۔اگرچہ بین الاقوامی ادارے پاکستان کی امداد کے لئے تیار ہیں تاہم کیا ہم اپنی مدد آپ کے لئے جتنا کرنا چاہئے اتنا کر رہے ہیں؟؟؟ بحالی اور تعمیر نو کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا واقعی ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے؟ کیا پاکستان کو بین الاقوامی اداروں سے قرض لینا چاہئے؟؟؟ کیا حالیہ برسوں میں ہماری قرض کا بوجھ سہارنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے یا یہ مزید ابتر ہو چکی ہے؟؟؟ اس مضمون میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔سب سے پہلے مجھے، پاکستان کے قرض کی تازہ ترین صورت حال بتانے کی اجازت دیں۔ پاکستان کے عوامی قرضے جو جون 2007ء میں 4814 بلین روپے تھے جون 2010ء میں بڑھ کر 8913 بلین روپے ہو چکے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر فقط تین برسوں میں ہم نے 4099 بلین روپے قرض کا اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح بیرونی قرضے جو جون 2007ء میں 50 اعشاریہ 3 بلین ڈالر تھے، جون 2010ء میں بڑھ کر 55 اشاریہ 6 بلین ڈالر تک پہنچ گئے یعنی تین برسوں میں 15 اعشاریہ 3 بلین ڈالرکا اضافہ ہوا۔ شوکت ترین اور ان کے ساتھیوں کا شکریہ ہم پر واجب ہے جنہوں نے ملک کو قرض کے سمندر میں ڈبو دیا۔ اس طرح لاپروائی سے قرض لینے کے فعل کو موجودہ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں بلا امتیاز قرض لینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ماضی قریب میں یعنی گزشتہ دو تین برسوں میں حد سے زائد قرض لینے کے نتیجے میں محض قرض کی ادائیگی میں ہی مجموعی ریونیو کا 48 فیصد حصہ صرف ہوگا جو کہ 2007ء میں 35 فیصد تھا۔قرض کی اس بھیانک صورت حال کے بعد بھی کیا ہمیں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دو طرفہ ممالک سے قرض کی پیشکش قبول کر کے اس میں مزید کئی بلین ڈالرز کا اضافہ کرنا چاہئے؟؟؟ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے کیا ہمیں بیرونی امداد لینے کی ضرورت ہے؟؟؟ میرا استدلال ہے کہ 2010-11ء کے بجٹ میں ہمارے پاس کافی وسائل موجود ہیں جنہیں اس مقصد کے لئے بآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مجھے 2010-11ء کے بجٹ کا جائزہ لینے دیجئے اور دیکھیں ہم کیسے ٹھوس وسائل کا رخ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی جانب موڑ سکتے ہیں حکومت نے دیگر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 124 بلین روپے مختص کئے تھے، جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 50 بلین روپے اور اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کے لئے 45 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کے لئے مختص رقم کا مطلب غریب اور بے گھر افراد کی امداد ہے، اس لئے 95 بلین روپے تو بآسانی سیلاب متاثرین کے لئے استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ حکومت نے اسپیشل پروگرام کے لئے بھی 30 بلین روپے مختص کئے ہیں جس میں پیپلزپروگرام I اور II شامل ہیں۔ اس رقم کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے چنانچہ اس طرح سیلاب زدگان کے لئے وفاقی بجٹ سے 125 بلین روپے دستیاب ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کے غیر منطقی اضافے پر بھی نظر ثانی کی جا سکتی ہے اور اضافی فنڈ کا رخ بھی سیلاب زدگان کی جانب موڑا جا سکتا ہے۔
ترقیاتی بجٹ پر سرسری نظر ڈالنا ہی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہو گا کہ صوبائی حکومتیں اپنے ترقیاتی بجٹ سے 173 بلین روپے فراہم کر سکتی ہیں۔ وفاقی پی ایس ڈی پی پہلے ہی 421 بلین روپے سے گھٹ کر 33.5 فی صد کمی کے ساتھ اس سال 280 بلین روپے ہو گئے ہیں اس کے برعکس اس دوران صوبائی پی ایس ڈی پی 200 بلین روپے بڑھ کر 373 بلین روپے ہوگئے جو 86.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے یہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے مالیاتی بد نظمی کے مظاہرے کی انتہا ہے۔ کوئی صحیح الدماغ شخص ایسے وقت میں پی ایس ڈی پی میں اضافہ کر سکتا ہے جب ملک اپنی تاریخ کے مشکل ترین معاشی دورسے گزر رہا ہو؟ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی سطح کی سیاسی قیادت صورت حال کی اہمیت سے قطعی ناواقف ہے۔ اس طرح وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر موجودہ بجٹ سے ہی سیلاب زدگان کے لئے 300 بلین ڈالر فراہم کر سکتی ہیں۔ تنخواہوں میں اضافے کے اطلاق کو التوا میں ڈالنے سے اس مقصد کے لئے اضافی وسائل دستیاب ہوں گے یہاں کمی ہے تو صرف سیاسی قیادت کے پختہ عزم کی۔ وہ اس مختص شدہ رقم میں کسی قسم کا تعطل نہیں ڈالنا چاہتے جو انہیں فیضیاب کرے گی یہی وجہ ہے کہ وہ پی ایس ڈی پی سے مزید تخفیف کر رہے ہیں اور سیلاب سے متعلقہ اخراجات کے لئے سرمائے کے حصول کے لئے بین الاقوامی اداروں سے مزید وسائل ادھار لینے کے لئے بے تاب ہو رہے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو بلین ڈالرز دینے کا وعدہ کرنے سے قبل یقینا ہمارے ملک کی قرض برداشت کرنے کی گنجائش کا جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی بہت زیادہ مقروض ہو چکا ہے اور سیلاب زدگان کے لئے اضافی قرض کا حصول صورت حال کو مزید سنگین بنا دے گا۔ جیسا کہ اوپر کی گئی بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بآسانی رواں مالیاتی سال کے موجودہ بجٹ سے 300 بلین روپے یا 3.5 بین ڈالر فراہم کر سکتا ہے پاکستان کو معاشی طور پر ذمہ دار قوم بننے کا موقع دیجئے اسے سب سے پہلے اپنے وسائل کو حرکت میں لانے اور اپنی کمر کس لینے کی اجازت دیں اگر پھر بھی اضافی وسائل کی ضرورت پیش آتی ہے تو فوری طورپر پاکستانی عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا رخ کر سکتا ہے تاہم اس وقت یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کو اضافی بلین ڈالرز کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کے لئے بہترین مشورہ ہے کہ وہ کسی بھی سہ ماہی کے لئے اضافی قرض کی جستجو نہ کرے۔ ہمیں لازمی طورپر امداد کی حوصلہ افزائی اور قرض خواہ وہ نرم شرائط پر ہی کیوں نہ ہو اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ پاکستان میں مزید قرض سہارنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ہمیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو شکریہ کے ساتھ منع کر دینا چاہئے، یہی وقت ہے موجودہ بجٹ سے وسائل کو از سر نو مختص کرنے کا، یہ پی ایس ڈی پی میں مزید تخفیف کرنے کا وقت نہیں ہے، جو پہلے ہی کم ترین سطح پر ہیں۔ ہمیں لازماً باوقار قوم کی طرح جینا سیکھنا ہے اور تمام درپیش چیلنجز کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=462611

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha