روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

جون ایلیا کا شعر ہے:
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
مسلسل دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور پھر کبھی زلزلہ، کبھی سیلاب اور کبھی سیالکوٹ جیسا سانحہ عظیم!
ایک دکھ ہو تو کوئی اس کا مداوا بھی کرے
اور اس دکھ کا مداوا مارشل لاء میں ڈھونڈا جا رہا ہے جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ خان والا مارشل لاء جس کے نتیجے میں جنرل نیازی نے انڈیا کے جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالے، اور پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا، جنرل ضیاء الحق والا مارشل لاء جس کا نتیجہ ناجائز اسلحے، ہیروئن، ملائیت اور لاقانونیت کی صورت میں ہم آج تک بھگت رہے ہیں، جنرل پرویز مشرف کا لال مسجد والا مارشل لاء جس نے دہشت گردی کو ایک عفریت کی شکل دے دی۔ اور اس مارشل لاء پر آج الطاف بھائی اور عمران خان دونوں متفق نظر آرہے ہیں۔
یہ اتحاد مبارک ہو مومنوں کے لئے!
77ء کے بعد ہوش سنبھالنے والی نسل کو علم ہی نہیں کہ پاکستان کبھی امن کا گہوارہ تھا ا ور اقوام عالم میں ایک ممتاز مقام رکھتا تھا۔ انہیں تو آج ٹی وی چینلز پر کئی کئی گھنٹے مسلسل خوفناک مناظر دکھائے جاتے ہیں، خون میں لتھڑے ہوئے مناظر ، آہ و بکا، چیخیں،قتل ہونے والے نوجوان بیٹے کی ماں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ تاکہ اس کے جواب میں اس کے نوحے ناظرین کو سنائے جا سکیں، جس باپ کے دو نوجوان بیٹوں کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا اور پھر ان کی لاشیں چوک میں الٹی لٹکا دی گئیں، ان کے والد سے استفسار کیا جاتا ہے کہ جب آپ اپنے بیٹوں کو غسل دے رہے تھے، ان کی لاشیں کس حال میں تھیں اور اس وقت آپ کے تاثرات کیا تھے؟ ہم سب اذیت پسند ہوگئے ہیں، ”مولا جٹ“ میں جو مناظر ہم نے پردہٴ سکرین پر دیکھے تھے، وہ Liveدیکھنے کے لئے تماشائیوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے ہیں، چنانچہ ہماری نئی نسل کو علم ہی نہیں کہ پاکستان کبھی ایسا نہیں تھا، ان کے سامنے موجودہ پاکستان ہے جو بھیانک ہے اور اسے بھیانک ترین صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کی سائیکی میں یہ مناظر بہت دور تک اپنی جگہ بنا چکے ہیں انہیں روشنی کی کرن دکھانے والا کوئی نہیں، ہر کوئی ہوس زر میں مبتلا ہے، وہ بھی جو پوری طرح اس گندگی میں لت پت ہیں اور وہ بھی جو انہیں گندگی میں لت پت دکھاتے ہیں، حکومت نام کی کسی چیز کا وجود نظر نہیں آتا، ہر کوئی :
بابر برعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
کی تصویر بنا نظر آتا ہے۔ ان سب کو ایک دن اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ، روزقیامت ہی کو نہیں، قیامت سے پہلے بھی۔ انہوں نے شاید تاریخ نہیں پڑھی انہیں علم نہیں کہ بپھرے ہوئے لوگوں کا سیلاب اپنے ساتھ کیا کیا کچھ بہا لے جاتا ہے، پاکستان تو نہ صرف قائم رہنے کے لئے بنا ہے بلکہ اس نے اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل بھی کرنا ہے لیکن یہ لوگ اپنی جگہ ”قائم“ نہیں کریں گے۔ ان لوگوں میں صرف حکمران نہیں بلکہ سب ظالم طبقے شامل ہیں، تاجر، ملا، سیاستدان، بیورو کریسی، میڈیا، عدلیہ، وکلاء جہاں جہاں بھی کوئی پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہے، دست ِ قدرت ان کی گردنوں تک ضرور پہنچے گا اور اس کے نتیجے میں وہ قیادت سامنے آئے گی جو ہماری نئی نسل کو اس پاکستان کی جھلک دکھائے گی جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔
ہم آج یورپ اور امریکہ کی ترقی کو دیکھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اپنی حالت دیکھ کر اداس بلکہ مایوس ہو جاتے ہیں، ضرورت ہے کہ مایوس ہوتی ہماری نئی نسل کو ان ملکوں کی تاریخ پڑھائی جائے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ قوموں کی حالت کڑھنے، اداس ہونے اور مایوس ہونے سے نہیں بدلا کرتی بلکہ اس کے لئے پوری قوم کو ہاتھ پاؤں ہلانا پڑتے ہیں، جو قومیں ہمیں اس وقت ترقی یافتہ نظر آتی ہیں، یہ بھی کبھی ہماری ہی طرح تھیں اور صدیوں کی جدوجہد کے بعد آج وہ اس مقام کو پہنچی ہیں کہ ہم انہیں رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں، ہمیں انشاء اللہ اتنی لمبی جدوجہد نہیں کرنا پڑے گی بلکہ اگر ہم انتخابات میں صرف عمدہ قیادت کو سامنے لانے میں کامیاب ہو جائیں اور ہمارے فوجی جرنیل انہیں پانچ سال پورے اور آزادی سے کام کرنے دیں تو صرف تین چار انتخابات میں ملک کی حالت بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ ہمارے مسائل کا حل یہی ہے میرے دیس کے خوبصورت نوجوانو! اپنی اداسی کو اپنی طاقت میں بدلو اور آگے بڑھ کر ان سیاسی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرو جنہیں تم سچے پاکستانی سمجھتے ہو۔ یہ فیصلہ ہم لوگوں کے کالم پڑھ کر نہ کرنا اور نہ میڈیا پر کسی کی کم یا زیادہ کوریج کو اس کی بنیاد بنانا، بلکہ ان سب کا ماضی اور حال اپنے سامنے رکھو اور پھر فیصلہ کرو اور اگر تم میں سے کوئی یہ سمجھے کہ ان میں سے کوئی بھی قیادت کے لائق نہیں تو پھر تمہیں ان سب سے جو نسبتاً بہتر لگے اس کے ہاتھ مضبوط کرو۔ چار پانچ انتخابات یعنی صرف بیس پچیس برسوں میں تمہارے معیار کی قیادت سامنے آنا شروع ہو جائے گی اور پھر تمہارا پاکستان وہ نہیں رہے گا جو تمہیں آج نظر آتا ہے، جو بھیانک ہے لیکن جسے بھیانک ترین صورت میں پیش کیا جا رہا ہے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=462380

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha