ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہر قدرتی آفت کو جس کا حالیہ یادداشت کے مطابق دنیا سامناکرچکی ہے، حقیر بنا کر رکھ دیا ہے جس نے 2004ء میں آنے والے سونامی، پاکستان میں آنے والے زلزلے اور ہیٹی میں آنے والے طوفان کی نسبت کہیں زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ دس میں سے ایک پاکستانی قلاش ہوچکا ہے۔
20 ملین میں سے 8 ملین متاثرہ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ 6 ملین افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور ان کے پاس سرچھپانے کی جگہ تک نہیں ہے۔# 3.5 ملین بچوں کو سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے۔
تباہی سے پیدا ہونے والی وسیع تباہ کاریاں ہماری روح کو جھنجھوڑنے اور جذبہ خیر سگالی کو ابھارنے اور متاثرین کیلئے بڑے پیمانے پر امداد مہیا کرنے کیلئے کافی ہونا چاہئے۔ تاہم بان کی مون کی جانب سے اس آفت کو دیئے گئے نام ”سلو سونامی“ سے دنیا کے احساس کو بیدار ہوجانا چاہئے اور اس کے نتیجے میں ہمدردی کی ایک لہر پیدا ہونی چاہئے۔ لوگوں کی بڑھتی ہوئی خستہ حالی کی ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر لوگوں اور حکومت کو ان کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کی ترغیت دیتی ہیں جبکہ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں ریلیف کے کاموں میں مصروف عمل ہیں لیکن پاکستان کے اعلیٰ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ دیگر کی کوششیں کہ اس مسئلے کو دہشت گردی کے زمرے میں لایا جائے کہ شدت پسند اس صورتحال کا کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اس ناقابل فراموش سانحے کو انسانیت کے جذبے سے محروم کردینے کے مترادف ہے۔اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے افسران دہشت گردی کے نام کو شدت سے استعمال کر رہے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر بین الاقوامی دنیا کی عدم توجہ کے بعداب یہ باور کروانے کیلئے کہ ”سیلاب سے متاثرین کی امداد اتنی اہم کیوں ہے، شدت پسندوں کے خطرے کو اچھالا جارہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے صدر نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ عسکریت پسند اس بحران کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تاہم صورتحال پر قابو پانے کی حکومتی صلاحیت پر اعتماد بحال کرنے کا یہ طریقہ بے حد ناقص ہے۔اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ چند مغربی اور پاکستانی مبصرین بھی اس خطرے کا پرچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور اس کے چندحصوں کے بارے میں اس قسم کے منظرناموں کو تخلیق کرنا شروع کردیا ہے کہ اگر ضروری امداد نہ ملی تو یہ علاقے طالبان کی تحویل میں چلے جائیں گے۔ یہ تمام صورتحال انسانی حادثے کو زمینی سیاسی ڈرامے کی جانب لے جاتی ہے تاہم سیلاب کے بدقسمت متاثرین کو عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں داوٴ پر لگایا جارہا ہے جو متاثرین کی حالت کے برعکس ایک وضع کردہ منشور میں بدل چکا ہے۔ اس کے علاوہ، اس انسانی بحران پر آنے والا ردعمل بھی نہایت ناموزوں ہے جس میں مغربی ممالک کے تحفظ اور سیاسی ترجیحات کو شامل کیا گیا ہے اور جس کا ثبوت امریکی میڈیاکی رپورٹنگ اور چند تبصروں میں بالکل نمایاں ہے۔ چند لکھنے والوں کے مطابق سیلاب نے پاکستان میں امریکہ کے منفی تاثر کو بہتر بنانے کا موقع مہیا کیا ہے تاہم اس تباہ کن صورتحال کو پبلک ریلیشنز کیلئے استعمال کرکے لوگوں کی مصیبت کو معمولی گرادننے کو بہرحال مغرب میں بھی سنجیدہ تجزیئے کے طور پر نہیں دیکھا جارہا۔ مثال کے طور پر لاس اینجلس ٹائم اپنے ادارتی صفحہ پر لکھتا ہے کہ ”امریکی حکومت کے تاثر سے کہیں بڑھ کر چیزیں داوٴ پر لگی ہوئی ہیں جس میں قحط اور بیماریوں کا خطرہ ہے“۔ لیکن دیگر افرادکا یہ کہنا ہے کہ اگر امداد وقت پر نہ پہنچی تو ملک کا بڑا حصہ طالبان کے قبضے میں آجائے گا اور اس سے بھی زیادہ غیر متوقع انداز یہ ہے کہ اگر عسکریت پسند وہاں پہلے پہنچ گئے تویہ اسٹریٹجی کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ غیر ملکی فورم میں ایک وزیر نے انکشاف کیا کہ ”عالمی دنیا کو مزیدامدادمہیا کرنی چاہئے ورنہ عسکریت پسند اس خلاء کو پُر کردیں گے“۔
حقیقت کومسخ کرنے والے یہ اعلانات متاثرین کی تکالیف پر سخت بے حسی کی علامت بن چکے ہیں جو انسانی المیے کی بدولت امداد حاصل کرنے کے برعکس اسٹریٹجک وجوہ کی حمایت کرتے ہیں تاہم اس طرح کا تبصرہ کرنے والے اس بات کی وضاحت تک نہیں کرسکتے کہ ملک کے مختلف حصے یا پورا ملک آخر کس طرح طالبان کے قبضے میں چلا جائے گا۔ کشمیر میںآ نے والے زلزلے کے بعد بھی اسلامی ممالک کی امداد سے متعلق اس طرح کے خدشات سننے میں آئے تھے لیکن یہ خطہ برائے نام ہی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہوسکا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں سب سے زیادہ غیر حقیقی بیان پاکستان کیلئے امریکہ کے سابق سفیر کا سامنے آیا ہے جس کے مطابق حکومت پرالقاعدہ یا طالبان جیسی جماعت کا قبضہ کرنے جیسی ناخوشگوار صورتحال سے متعلق واشنگٹن کو منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مغربی مقاصد کو فروغ دینے کیلئے امداد مہیاکرنی چاہئے، انہیں اپنے دماغ میں انسانی مدد کے تصور کو تبدیل کر لینا چاہئے۔ انسانی ضروریات کو سیاسی اور اسٹرٹیجک ترجیحات کے برعکس امداد کا پابند کرنا چاہئے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد اور قانون کے مطابق ایسی انسانی امداد کو قطعاً غیرسیاسی ہونا چاہئے جو ریڈ کراس چارٹر کی ترجمانی کرتی ہے اور جس کے تحت امدادی تنظمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔ دریں اثناء پاکستان کے ختم ہونے کے تناظر میں فضول شور مچانے والے مغربی ماہرین نے اس تباہی کو پاکستان کے استحکام کے لئے ایک زبردست دھچکا قرار دیا ہے۔ اس طرح کی بھیانک پیش گوئیاں پاکستانی عوام کی طاقت کو جو ان کی روزانہ کی مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے آتی ہے، سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے ملک نے ثابت کیا ہے کہ ماضی میں اسے جن بحرانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اس سے نبردآزمانے ہونے کی صلاحیت اس میں موجود ہے تاہم اس حقیقت کوجتنا تسلیم کئے جانے کی ضرورت ہے اتنا نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کے لوگوں میں بحرانوں کا سامنا کرنے کی ہمت کا ثبوت 2005ء کے زلزلے سے ملتا ہے۔ جس میں 70 ہزار سے زیادہ جانوں کا نقصان ہوا لیکن عوام نے اس موقع پر اپنے گھروں کو ازسرنو تعمیر کرنے کا مصمم عہد کیا اور حالات کا مقابلہ کرنے کی یہی صلاحیت ہے جس کی بدولت سیلاب سے متاثرہ افراد بھی بھوک وافلاس اور بیماریوں کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے اپنے حالیہ دورہ کے دوران اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ مصیبت اور ابتلا کے اس سمندر میں انہوں نے لوگوں میں تھکن اور ناامیدی کے آثار نہیں دیکھے بلکہ انہوں نے لوگوں میں حالات کا مقابلہ کرنے کا مصمم ارادہ اور امید کی جھلک دیکھی انہیں یقین ہے کہ ان کی مدد ضرور کی جائے گی اور وہ ایک دفعہ پھر روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہوں گے۔ اس کے برعکس پاکستان کے حکمراں زیادہ سے زیادہ بیرونی امداد حاصل کرنے کیلئے سیلاب کے نتیجے میں دہشت گردی کے ممکنہ مواقع پیدا ہونے کی صورت میں خطرناک صورتحال پیش آنے کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرح انسانی ہمدردی کے جذبات کو اجاگر کرکے دنیا سے امداد کی اپیل کے برعکس ہمارے اپنے نمائندے معقول امداد نہ ملنے کی صورت میں بھیانک نتائج کے بارے میں دنیا کو خبردار کر رہے ہیں۔ امداد کے لئے اس طرح کی درخواستیں اپنے اندر شکست خوردگی کے عنصر کے ساتھ ساتھ مکمل بے چارگی اور انسانی مصائب اور ابتلا کے بارے میں عدم احترام پر دلالت کرتی ہیں (اگر آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ شاید آپ ڈوب جائیں تو دنیا کو کیوں آپ کی مدد کرنی چاہئے۔) اس طرح کے رویّے سے ایک خطرہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ شاید سیلاب متاثرین کیلئے امداد سے توجہ کا رخ ہٹ جائے اس سے یہ مقصد بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مدد کا اصل ہدف، تباہ حال لوگوں کے مصائب کے برعکس انتہا پسندی کے خلاف جنگ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس سے زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دے جس قدر کہ اب تک اس کا رویہ رہا ہے سیلاب کے نتیجے میں علاقے کی امن وسلامتی کو خطرات جیسی نت نئی تنبیہات جاری کرنے کے بجائے حکومت کو اس طرح کے حالات کو روکنے کیلئے خود آگے بڑھ کر حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ حکومت کو اپنے الفاظ اور عمل کو ان مصیبت زدہ لوگوں کے جذبات اور احساسات کے مطابق ترتیب دینا چاہئے جو اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں اور جنہوں نے اس مصیبت کے وقت اپنے سیاسی رہنماؤں سے زیادہ عزت نفس کا مظاہرہ کیا ہے۔
بین الاقوامی مدد کی یقیناً اتنی ہی ضرورت ہے جس قدر بڑی تباہی سیلاب کے نتیجے میں آئی ہے لیکن امداد نہ ملنے کی صورت میں بھیانک صورتحال کی منظر کشی کرنے کے برعکس لوگوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مزید برآں اس امداد کیلئے ملکی ذرائع پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کرنا چاہئے جسے حکومتی حمایت حاصل ہو۔ حکومت کے رہنماؤں کو چاہئے کہ دوسروں سے امداد کرنے کی درخواست سے قبل خود اپنی جانب سے امداد کر کے لوگوں کیلئے مثال پیش کریں۔ اس سے ظاہر ہو گا کہ وہ دوسروں کی جانب سے قربانی دینے سے پہلے خود بھی اسی جذبے سے کام لے رہے ہیں اور اس کا یہ مطلب بھی ہو گا کہ قومی سطح کی اس مہم میں تمام اراکین کو شرکت کیلئے کہا جائے اور فوری کارروائی کے احساس کا جذبہ پیدا کیا جائے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=462381

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha