گریبان …منوبھائی

آدھے خالی گلاس کو آدھا بھرا گلاس کہنے والے مثبت سوچ رکھتے ہوں مگر کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ خوش فہمی بھی غلط فہمی جیسی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عقلمند لوگ ایک جیسے انداز سے سوچتے ہیں تو احمقوں میں بھی اختلاف رائے نہیں ہوتا۔ ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بہت مطمئن اور خوش دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے یو این او کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی اپیل پر مہذب ملکوں اور عالمی اداروں کا ردعمل خاصا اطمینان بخش اور حوصلہ افزاہے مگر بہت سارے عالمی ماہرین کا خیال اس سے قطعی مختلف بلکہ متضادہے۔ ان کے خیال میں انسانی زندگی کے خوفناک ترین سیلابوں میں شمار ہونے والی اس آفت کے سلسلے میں عالمی رائے عامہ سرد مہری اور لاتعلقی کی مرتکب ہے اور اس میں بہت سارا دخل ان ملکی اورغیرملکی اداروں اور عناصر کا بھی ہے جو بوجوہ پاکستان کے تشخص کو مسلسل اورمتواتر بگاڑنے اور مسخ کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور قومی زندگی کے ہر شعبہ میں کرپشن اور بددیانتی، لوٹ مار اور خوردبرد کی کبھی نہ ختم ہونے والی قوالی گائے جارہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوروں کے وعدوں اور اسمبلیوں کے ارکان کی تعلیمی ڈگریوں سے لے کر سپریم کورٹ کے فیصلوں تک ہر چیز کو شکوک و شبہات کے حوالے کیاجارہا ہے کہ جمہوریت کے نظام کو بے حال کرکے غیرجمہوری بدنظمی کو بحال کرنے کی راہیں ہموار کی جاسکیں۔
وزیرخارجہ کے مطابق یو این او کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کی فوری امداد کے لئے 40 کروڑ ڈالروں کی اپیل کی تھی جس کے جواب میں گزشتہ چند دنوں کے دوران 80کروڑ ڈالرز سے بھی زیادہ امداد کے وعدوں کا اعلان کیا جاچکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ یو این او کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے سلسلے میں اب تک 49کروڑ ڈالروں کا وعدہ کیا گیا جبکہ دنیا کی مختلف حکومتوں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی جانب سے ساڑھے 32کروڑ ڈالرز کی اضافی امداد دینے کا اعلان بھی کیاگیا ہے۔ ان اعداد و شمار میں تین بڑے ذرائع کے عطیات بھی شامل ہیں جن میں پوری یونین کے 18کروڑ، امریکہ کے 15کروڑ اور برطانیہ کے 10کروڑ ڈالرز شامل ہیں اوریوں ادارہ اقوام متحدہ کی اپیل 26 کروڑ تیس لاکھ ڈالروں ی وصولی پر57 فیصد کامیاب ہوچکی ہے۔ گویا آدھا خالی گلاس دراصل آدھا بھرا ہواہے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی 19ستمبر کو نیویارک میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی پاکستان کے لئے امداد کی اپیل کے بہتر ردعمل کی توقع رکھتے ہیں اور پندرہ اکتوبر کو ”فرینڈز آف پاکستان“ کی جانب سے بھی امداد کی خطیر رقم کی امید رکھتے ہیں۔ وزیرخارجہ نے غیر ممالک میں روزگار کمانے والے محنت کشوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں اور بہنوں کی مدد کی انتہائی گنجائش عبور کرنے کی کوشش کریں۔ ماہرین کے خیال میں اگرچہ یہ اعداد و شمار کاغذوں پر خاصے متاثرکرنے والے لگتے ہوں گے مگر معروضی صورتحال اورزمینی حقائق اس قدر تشویشناک ہیں کہ کاغذی کشتیوں پر سیلابوں کے عفریت کو عبور نہیں کیا جاسکے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امدادی فنڈز سے اگر سیلاب سے بچ جانے والوں کی فوری ضرورتیں اور دھڑکنیں جاری رکھنے کی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں توان کے معروض میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکتی ان کے حالات کار کو بھی اور ماحولیات کوبھی بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کو بہتر اورمحفوظ مقامات پر پختہ گھروں میں منتقل ہونے کی توفیق بھی فراہم نہیں کی جاسکتی۔ ملک کے چاروں پانچوں صوبوں کی ماضی کی بدحالی میں بحالی کا سوچناگناہ کے مترادف ہے۔ ان تمام علاقوں کی دیہی آبادی کو مستقبل کی روش پر ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں ہمارا اجتماعی فریضہ بھی ہے۔
یہ توپوری دنیاکے ماہرین اور معیشت دان جا ن چکے ہیں کہ پاکستان کوحالیہ بارشوں اورسیلا ب کی چیرہ دستی نے مکمل طور پر ادھیڑ کررکھ دیاہے اور ڈیڑھ سے دو کروڑ غریب اور مفلوک الحال پاکستانی تباہی و بربادی کی زد میں آئے ہیں۔ جس پاکستان پر عالمی دہشت گردی کی زد میں آئی ہوئی مغربی تہذیب اور معیشت مسلسل اور متواتر ”ڈومور“ ”ڈومور“ کے تازیانے برسا رہی تھی اسی پاکستان کی سیلابوں کے سامنے زبوں حالی پوری انسانیت کی توجہ حاصل کرنے اور ”ڈومور“ پراکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ورلڈویژن آسٹریلیا کے چیف ٹم کاسٹیلوکاکہنا ہے کہ جس بھیانک سطح کی تباہی پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے ویسی بربادی کا سامنا کسی اور ملک کو ہوتا تو میرے خیال میں مہذب معاشروں اور معیشتوں کاردعمل نہ صرف بھرپور ہوتا بلکہ انسانیت نوازی کے نئے عالمی ریکارڈ بھی قائم ہوسکتے ہیں مگر سیلابوں سے پہلے اور بعد کے عرصے میں پاکستان کے عالمی تشخص اورتاثر کو دہشت گردی اورشدت پسندی، بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے رجحانات کے حوالے سے جس قدر مسخ کیا گیا ہے اس سے یہ تاثر ملتاہے کہ دنیا میں پاکستان کو استعمال کرنے کا شوق رکھنے والے تو بہت سارے ہوں گے مگر پاکستان کے دوستوں اور ہمدردوں، مددگار اور تعاون کرنے والوں کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ پاکستان کو اور پاکستان کے حکمرانوں اورسیاستدانوں کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ ہمدردی اور مددگاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے خود اپنے مسائل کو حل کرنے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا ہوگا۔ آنے والے حالات کا سب سے اہم اور قابل غور تقاضہ بھی یہی ہے جو وطن عزیز کے تمام جمہوری سیاسی اور نظریاتی عناصر کو مشترکہ طور پر متحداور متفق ہو کر پورا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر پاکستان کا عالمی تشخص مسلسل اور متواتر مسخ ہوتا رہے گا اور خدانخواستہ :
ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=461737

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha