چوراہا …حسن نثار
ہم تو بڑے بڑے حادثات پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، تماشہ دیکھتے رہتے اور خون نے بہت جوش مارا تو ماتم کرلیا، سینہ پیٹ لیا، خون کے آنسو رولئے۔ زیادہ دورنہیں جاتے کہ ابھی کل کی بات ہے جب داراشکوہ اور اس کے بیٹے سلمان شکوہ کو اک مریل سی غلیظ ہتھنی پر بٹھاکر پوری دلی میں گھمایا گیا، ذلیل و رسوا کیا گیا، بے تحاشہ توہین و تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ پوری دلی رورہی تھی، لوگ سوگوار تھے، گھروں میں چولہے نہیں جلے، عوام سرعام سسکیاں لیتے رہے، دو ہتڑ مارتے رہے، چیختے چلاتے اور احتجاج کرتے رہے لیکن اجتماعی طور پر عملاً کچھ نہ کرسکے اور داراشکوہ کو تقریباً پورے خاندان سمیت تہہ تیغ کردیا گیا۔
بھٹو کو یوں محسوس ہوتا ہے ابھی ابھی تختہ دار پر لایا گیا ہے، موت کے کنویں میں اس کی انگوٹھی کانپ رہی ہے، اس کے جسم ابھی گرم ہے اور لاش تصویر کشی کے بعد ابھی گڑھی خدابخش بھی روانہ نہیں ہوئی…کچھ خود سوزیاں، کچھ کوڑے، کچھ پھانسیاں اور بس… عوام کچھ بھی نہ کرسکے صرف روتے کڑھتے اور اندر ہی اندر مرتے رہے لیکن اپنے محبوب ترین لیڈر کو سفاک ترین غاصب کے پنجوں سے نہ چھڑا سکے کہ چاہتے تو راولپنڈی جیل کی اینٹ سے اینٹ بچا کر بھٹو کو چھڑا لیتے لیکن انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ فی الحال اسے مرنے دو بعدازاں اس کی بیٹی، پھر داماد اور پھر نواسے وغیرہ کو اقتدار میں لاکر اس زیادتی کاازالہ کردینگے۔
ہم ایسے ہی ہیں اور شاید ہر جگہ اور ہر عہد میں عوام ایسے ہی ہوتے ہیں۔ سیالکوٹ میں دو سگے بھائیوں کو سرعام پولیس کی نگرانی و سرپرستی میں جس بے رحمی سے ڈنڈے مارمار کر موت کے گھاٹ اتارا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ سنا ہے دونوں منتیں کرتے رہے کہ ہمیں گولی مار دو لیکن انہیں اذیت ناک ترین موت دی گئی۔ خلق خدا چپ چاپ تماشہ دیکھتی رہی اور خوف خدا خلاء میں بھٹکتا رہا۔
یہ سب کچھ اس کے شہر میں ہوا جو کہتا تھا
”ہرلحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان“
”خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے“
”ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند“
”شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور“
”قوم گویا جسم ہے افراد ہیں اعضائے قوم“
”ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“
”کس مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں“
”میں غزنوی سومنات دل کا ہوں تو سراپا ایاز ہوجا“
”بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں“
”وہ سوداگر ہوں نفع میں نے دیکھا ہے خسارے میں“
”ہر مسلماں رگ باطل کے لئے نشتر تھا“
”لڑا کے توڑ دے سنگ ہوس سے شیشہ ہوش“
”مسلم خدا کے حکم سے مجبور ہوگیا“
”پختہ ہوجائے تو ہے شمشیر زنہار تو“
”مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے“
اس اقبال کے ایسے ہی سینکڑوں مصرعے میرے دل و دماغ پر یلغار کئے ہوئے ہیں جس نے اسی سیالکوٹ کی مٹی سے جنم لے کر اس ملک کا خواب دیکھا اور دکھایا جس کی 63ویں سالگرہ کے چند روز بعد میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ…
”انصاف ملتا دکھائی نہیں دیتا“
اک اخباری خبر کے مطابق…
”سیالکوٹ ،دو بھائیوں کو اعلیٰ پولیس افسروں، بااثر شخصیات کے اشارے پر قتل کیا گیا“
”معطل ڈی پی او وقار چوہان کی سسر کے ذریعے پنجاب حکومت کو سفارش۔ آر پی او راولپنڈی کی چودھری نثار سے خفیہ ملاقات“
”بااثر شخصیات “ پاکستان کو مسلسل اور بتدریج ”بے اثر“ …”بے وقعت“…اور ”بے امیج“ کرتی جارہی ہیں اور اگر اب بھی ان”پیشہ ور موروثیوں “…”سیاسی اجارہ داروں“ …”سیاسی اجارہ داروں“ اور”جمہوری مافیاز“ سے قوم کو نجات نہ دلائی جاسکی تو پھر یہ معاشرہ تاریخ کے ترازو میں تلنے کے لئے تیار رہے۔میں الطاف حسین کے ا س جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ بیان کی مکمل اور غیرمشروط حمایت کرتا ہوں، کیونکہ خود اک عرصہ سے بالواسطہ اور بلا واسطہ یہی کہہ رہا ہوں کہ کرپٹ سیاستدانوں، جاگیرداروں ،سرمایہ داروں کے خلاف مارشل لاء جیسے اقدام کی بھی بھرپور حمایت کی جانی چاہئے بشرطیکہ یہ مارشل لاء…وہ پہلا مارشل لاء ہو جو”اینٹی اشرافیہ“ اور ”پرواجلافیہ“ہو کہ جب تک یہ سیاسی سامری موجود ہیں سیالکوٹ جیسے سانحات ہوتے ہوتے ہمارا کلچر بن جائیں گے بلکہ بن چکے ہیں
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=461736
Recent Comments