چوراہا … حسن نثار
پوچھا … ”اگر قدرت تم پر تیروں کی بوچھاڑ کر دے تو تم کیا کرو گے؟“ ”میں تیر انداز کے پہلو میں پناہ لے لوں گا“ مرید نے جواب دیا تو مرشد نے خوش ہو کر کہا کہ ”بے شک بچاؤ کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں۔
توبہ یقینا بہت مضبوط اور بڑی ڈھال ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زبانی کلامی کارروائی ڈال دی جائے، گڑگڑا لیا جائے، دو نمبر قسم کی رقت طاری کر لی جائے یا مگرمچھ جیسے آنسوؤں سے بالٹیاں بھر دی جائیں۔ یہ سب کچھ تو ہر روز ہوتا ہے لیکن ہمارے ”اجتماعی امتحانات“ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ یہ سب کچھ غارت اور اکارت کیوں جا رہا ہے؟ کیا ہم پر توبہ کے دروازے بند ہو چکے؟
نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم توبہ کی تعریف (DEFINATION) میں ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہے ہیں… غلطی پر غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ توبہ آج بھی اور اب بھی آفات، خطرات، خدشات کے مقابل بے حد مضبوط ڈھال ہے بشرطیکہ زبانی کلامی نہ ہو بلکہ اعمال بھی تبدیل ہوں۔ ہماری تو یہ ادھوری ہے۔ زلزلہ سے سیلاب تک کے درمیان بہت توبہ استغفار ہوئی لیکن یہ ڈھال اس لئے اپنا کمال نہ دکھا سکی کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمارے اعمال تبدیل نہیں ہوئے۔ نہ حکمرانوں اور حکام نے اپنے لچھن بدلے نہ عوام نے اپنے رویوں پر نظرثانی کی زحمت فرمائی۔ ایک بہت بھیانک روحانی مغالطہ ہمارے معاشرہ میں بہت عام ہو کر بہت ہی گہرا سرائیت کر گیا اور وہ یہ کہ محروم طبقات تو بالکل ہی معصوم ہوتے ہیں سو ان کا گناہ کے ساتھ کیا تعلق اور اگر وہ گنہگار ہی نہیں تو سزا کیسی؟ بظاہر یہ منطق مناسب لگتی ہے لیکن ہے نہیں کیونکہ گنہگاری کے لئے قارون ہونا ضروری ہیں۔
جب کوئی ”محروم و مظلوم“ جھوٹی غیرت میں مبتلا ہو کر کالی و کاری وغیرہ کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا عرش نہ ہلتا ہو گا؟ جب دباؤ یا دام کے عوض اپنے ہی جیسے کسی غریب کے خلاف جھوٹی شہادت دیتا ہو گا تو قدرت غضب ناک نہ ہوتی ہو گی؟ جب دودھ جیسی پاکیزہ شے میں جسے کبھی اللہ کا نور کہتے تھے، گندا پانی ملاتا ہو گا تو قدرت کو طیش نہ آتا ہو گا؟ جب کم تولتا اور جھوٹ بولتا ہو گا تو قدرت کیا محسوس کرتی ہو گی؟ جب پوری اجرت لے کر کام کے دوران فون سنتا، سگریٹ پیتا اور کام چوری کرتا ہو گا تو کیا قدرت خوش ہوتی ہو گی یا اس وقت اس پر خود کو مہربان محسوس کرتی ہو گی جب وہ آٹے کے چند توڑوں، چینی کے چند تھیلوں، گھی چائے کے چند ڈبوں اور چند ہزار روپوؤں کے خاطر کسی خبیث، شیطان، بدمعاش، فراڈیئے اور بدکردار کو ووٹ دے کر اسے خود سمیت پوری قوم کی گردن پر سوار کرتا ہو گا؟ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ گناہ کا تعلق غربت و امارت کے ساتھ ہیں، اپنی اپنی اوقات، بساط اور حالات کے ساتھ ہے… راجہ کا گناہ بھی گناہ ہے پرجا کا گناہ بھی گناہ ہے۔ پریذیڈنٹ کی خیانت بھی خیانت اور پٹواری کی خیانت بھی خیانت، آجر کی بدی اپنی جگہ اجیر کی اپنی جگہ!
ضرورت ہے اوپر سے نیچے تک اپنے اپنے اعمال پر نظرثانی کی تاکہ توبہ کی ڈھال اپنا حق ادا کر سکے ورنہ زلزلوں اور سیلابوں جیسے دو پاٹن کے بیچ یونہی پستے رہیں گے اور ہم پر کوئی ”کبیرا“ ماتم بھی نہیں کرے گا۔
اک اور عرض بھی ضروری ہے کہ زلزلے، دہشت گردیاں اور سیلاب بہت ہی ننگی اور لاؤڈ (LOUD) قسم کی آفات، سزائیں اور بلائیں ہیں اس لئے ان کی پیدا کردہ تباہی و بربادی کا بہت زیادہ نوٹس لیا جاتا ہے حالانکہ جس گھر میں روزگار نہیں اور بھوک ناچ رہی ہے تو سمجھ لو وہ گھر بھی دہشت گردی، زلزلے اور سیلاب کی زد میں ہے لیکن دکھائی نہیں دے رہا۔ جس گھر میں معصوم بچہ یا بے بس بوڑھا دواؤں اور آپریشن کے بغیر عطائیوں کے رحم و کرم پر ہے وہ گھر بھی آفات کی لپیٹ میں ہے … جس گھر میں بچیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو رہی ہیں ان کے باپ اور ماں سے پوچھو یہ کیسی دہشت گردی ہے؟ کتنا بڑا زلزلہ ہے؟ کتنا بھیانک سیلاب ہے؟ یہ گھرانہ بیک وقت ان کی زد میں سمجھو
یہ معاشرہ ہمہ وقت زلزلوں، دہشت گردیوں اور سیلابوں کی لپیٹ میں ہے۔ توبہ کی ڈھال اٹھاؤ جس کا مطلب ہے اپنے اعمال میں تبدیلی، اپنے رویوں پر نظرثانی ورنہ کہانی آگے چلتی دکھائی نہیں دیتی
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=461383
Recent Comments