ا سلام آباد (فرخ سلیم) ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب کے بعد متاثرین کی بحالی اور امداد امریکہ، یورپ اور پاکستانی سیاستدانوں کی سیاست کی نذر ہوگئی ہے۔ ملکی آبادی کا 12 فیصد جبکہ کل رقبے کا 20 فیصد حصہ حالیہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ 10 لاکھ سے زائد گھر یا تو تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے، 5 کروڑ سے زائد زرعی علاقہ اور تقریباً ایک کروڑ ایکڑ پر کھڑی کپاس، چاول اور گنے کی فصلیں ضائع ہوگئی ہیں۔ ہر آٹھویں پاکستانی کے پیچش، دمے، گردن توڑ بخار، جلدی بیماریوں اور آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔ پیپلزپارٹی میں صدر اور وزیراعظم اپنی اپنی سیاست کررہے ہیں۔ وزیراعظم غیرجانبدار کمیشن کی تشکیل کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ صدر اسے ختم کرچکے ہیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنی اپنی سیاست کررہی ہیں اور لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کے بجائے مزید پریشانیوں میں دھکیلا جارہا ہے۔ بین الاقوامی طور پر امریکہ بھی سیلاب پر اپنی سیاست کررہا ہے اور امداد دینے کے بعد یہ تشہیر کررہا ہے کہ اس نے چین اور ایران کی مشترکہ امداد سے زیادہ مدد کی ہے۔ یورپی یونین تجارت کے غیرواضح اشارے دے کر اپنی سیاست کررہی ہے جبکہ بھارت 50 لاکھ ڈالر کی امداد دے کر سیاسی طور پر اربوں میل کا فاصلہ طے کرنا چاہتا ہے۔ امدادی کیمپ میں بقاء کی جو حالت ہے پہلے کبھی نہیں رہی۔ ایک کروڑ پاکستانیوں کو زندہ رہنے کیلئے خوراک کی ضرورت ہے۔ 50 لاکھ لوگوں کو شیلٹر اور 10 ہزار کے قریب ڈائریا کے علاج کے مراکز کی ضرورت ہے۔ مقامی وسائل اور رسپانس نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث 10 لاکھ سے زائد لوگ بھوکے رہیں گے۔ بیرون ملک سے پیسہ نہیں آرہا۔ بدعنوانی، نااہلی، ڈونرز کا عدم اعتماد اور غیرمقبول صدارت منفی کردار ادا کررہے ہیں۔ اے این پی اور ایم کیو ایم کی خونی سیاست کی وجہ سے پاکستان کا معاشی مرکزکراچی خون میں نہا رہا ہے جبکہ پاکستانی طالبان بغیر لڑے ہی کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ ملکی معیشت پہلے ہی بیمار تھی اور اب اس پر بھی آئی ایم ایف اپنی سیاست کرے گا۔ آئی ایم ایف کے دیئے اہداف پورے کرنے کے باعث اصلاحات کے ڈھانچے کو پچھلی نشست پر رکھنا ہوگا۔ بیروزگاری اور انوکھے افراط زر سے بڑے پیمانے پر معاشرتی شورش اور جرائم پھیلیں گے۔ پاک آرمی کے جرنیل دل و دماغ جیت رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ سیاسی ساکھ بنا رہے ہیں جس کی پہلے ہی سیاستدان قیمت ادا کرچکے ہیں۔ پاک فضائیہ نے سیلاب میں گھرے لوگوں کو نکالنے اور انہیں امداد پہنچانے کیلئے 5 سی ون تھرٹی بی ایس، 7 سی ون تھرٹی ای ایس اور دیگر ایئرکرافٹ مہیا کئے ہیں۔ پاک بحریہ کی کشتیاں سیلاب کی سطح پر بہتے لوگوں کو بچانے اور متاثرین کو خوراک پہنچانے میں مستعدی سے کام کررہی ہیں۔ سیاستدان باتیں کررہے ہیں جبکہ جرنیل عملی اقدامات کرکے جیت رہے ہیں۔ کیا فوج ٹیک اور کرے گی، وہ تو کئی مہینے پہلے ہی ایسا کرچکی ہے۔

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha