چوراہا …حسن نثار
قارئین کے ساتھ ایک بہت ہی سادہ اور کامن سینس والی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی گزشتہ حکومت ہو یا حالیہ … وفاقی حکومت ہو یا صوبائی تو میرے بھائی! یہ لوگ تو نارمل حالات میں کبھی ”گڈ گورننس“ کی کوئی جھلکی یا جلوہ نہ دکھا سکے تو اتنے ابنارمل حالات اور ایسی تہہ در تہہ پیچیدہ ایمرجنسی میں یہ کون سی توپ چلا لیں گے؟ سیلاب تو سیلاب اس کے بعد اس آفت نے جو انڈے بچے دینے ہیں، ان کا تصور کرتے ہی رونگٹے کھڑے ہونے اور دماغ پھٹنے لگتا ہے مثلاً صرف اور صرف اس ایک پہلو پر غور فرمائیں کہ یہ سیلاب بہت سی زمینیں اگل دے گا اور بہت سی زمینیں نگل جائے گا جو اس کے سرکش پانیوں میں بہہ چکی ہوں گی تو دوسری طرف ان زمینوں کا ریکارڈ بھی بہہ چکا یعنی نہ مالکان کے پاس کوئی ریکارڈ اور نہ سرکار کے پاس اور اوپر سے بددیانت، لالچی، بے رحم اور با اثر لوگ تو ایسے میں ہو گا کیا؟ بھلے دنوں میں بھی گڈ گورننس تو کیا عام گورننس سے بھی تہی دامن یہ ”جعلی ڈگری و جعلی عکس“ کیا کر لے گا؟
یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے آئینوں سے عکس اور شبیہیں نکال لیں
پتھر سے مرمر چرا لیا
آگ سے حدت چھین لی
پانی سے پیاس بجھانے کی شکتی لے اڑے
روپیئہ میں روپیئہ غائب کر دیا
اور بازاروں سے برکت کشید کر لی
ان سے توقع رکھنا کہ یہ سیلاب زدگان کو ریلیف دیں گے، ایسا ہی ہے جیسے کوئی چیل کے گھونسلے میں ماس ڈھونڈے اور ناگ راجہ سے سانپ کے ڈسے کا علاج کرانے پہنچ جائے۔
یہ سب تو ان حالات میں بھی پوائنٹ سکورنگ اور ایک دوسرے کو کہنیاں مارنے اور نمبر ٹانکنے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی اس مار پر ہے کہ اس سیلاب سے زیادہ سے زیادہ ”سیاسی مائیلیج“ حاصل کر سکے جبکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شاید یہ سیلاب اور بہت کچھ بہا لے جانے کے ساتھ ساتھ چند سیاسی پارٹیوں کو بھی بہا کر لے جائے اور یوں کبڑے کو لات راس آئے، شر سے خیر برآمد ہو اور اس تخریب کا کوئی تعمیری پہلو بھی سامنے آئے۔
اصل صورتحال یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن کو بھی یہ کہنا پڑا کہ پاکستانی سیاستدان نمبر بنانے کی بجائے متحد ہو جائیں۔ اسے کوئی کیسے سمجھائے کہ یہ ”سیاسی سوکنیں“ گھر کا ستیاناس کرا لیں گی لیکن اپنی اپنی مار پررہیں گی، متحد ہونا تو دور کی بات۔
شفاف کمیشن کا منصوبہ بغیر کسی غسل اور کفن کے دفن کر دیا گیا کہ ایسا ہی ہونا تھا اور وہ کیوں؟ اس کی تفصیلات میں جا کر میں بہت سوں کو بدمزہ نہیں کرنا چاہتا۔ وزیراعظم گیلانی کے اس ”ٹیکنیکل ناک آؤٹ“ کا تو جواب ہی نہیں کہ فوری ریلیف کے لئے جتنی رقم صوبے دیں گے، مرکز بھی اتنے ہی میچنگ فنڈز صوبوں کو فراہم کرے گا۔ اس بات کا کہیں کوئی ذکر نہیں کہ اگر کوئی پہلے سے ہی کنگال ہو تو کیا مرکزی حکومت اس کی کنگالی کو بھی میچ کرے گی؟
گیلانی صاحب نے اپنے مخصوص ”گیانی سٹائل“ میں کتنی فراخدلی سے میاں نواز شریف کی تجویز پر لبیک کہا تھا اور اس کی تحسین کی تھی۔ میں تب بھی ہنس دیا تھا اور یہ پڑھتے ہوئے بھی میری ہنسی نہیں رک رہی کہ ”این ڈی ایم سی“ کے اجلاس میں تینوں صوبوں نے نواز شریف والی تجویز کی مخالفت کی اور وزیر اعلیٰ پنجاب حیران رہ گئے۔ شہباز شریف شعر و شاعری کے شوقین ہیں۔ اصولاً تو انہیں اس اجلاس کے دوران حفیظ جالندھری کا یہ شعر ضرور یاد آنا چایئے تھا۔
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
نواز شریف کی تجویز کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر عدم اعتماد قرار دیا جا رہا تھا حالانکہ اصل وجہ کچھ اور تھی بہر حال ”نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن“ کے بطن سے ایک عدد قومی نگران کونسل برآمد ہوئی ہے یعنی ”این ڈی ایم سی“ صاحب اولاد ہو گئی۔
کاش یہ سب کچھ کسی ایک پرچم تلے کسی ایک پلیٹ فارم پر ہو سکتا لیکن شاید متحد ہونا ہمارے خمیر میں ہی نہیں۔ صرف دعا ہی کر سکتے ہیں ہر ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد والا گھائل لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکے کہ زخموں کا یہ سلسلہ بہت دراز ہے اور اگر حکمران طبقے سیلاب زدگان تک نہ پہنچے تو خطرہ ہے کہ پھر وہ ان کے گھروں تک پہنچ جائیں گے
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=460900
Recent Comments