برسی منانے کی لمحات کسی بھی قوم کے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں ۔ جنرل ضیاء الحق کی برسی کو جو سترہ اگست کو منائی جاتی ہے ایسا ہی ایک لمحہ کہا جاسکتا ہے ۔ دوعشرے قبل ختم ہونے والے دور کی آج بھی اتنی اہمیت کیوں ہے ؟؟؟ اس لئے کہ ملک پر سب سے زیادہ طویل حکمرانی کرنے والے فوجی حکمراں نے ہمارے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا تکلیف دہ ورثہ چھوڑا ہے ۔ اس دور پر نظرثانی ہم پر مسلط کردہ بہت سے چیلنجز کی جڑوں کو سمجھنے میں مدد دے گی ۔ جن سے آج پاکستان نبرد آزما ہے ۔ 1977ء سے 1988ء کے درمیان جو کچھ ہوا اس نے ملک کے سیاسی اور سماجی منظر نامے کو تشکیل دیا اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے ۔
ضیاء کے چھوڑے ہوئے ورثے کے چار پہلوؤں نے ملک پر طویل المیعاد نقصان دہ اثرات مرتب کئے ۔ اس کی تشکیل کردہ بیرونی اور اندرونی پالیسیوں سے مذہبی شدت پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ملک میں عسکریت پسندی کی ابتداء ہوئی ۔ افغانستان کو سوویت روس کے قبضے سے چھڑانے کی امریکی مہم میں پاکستان کی طویل اور گہری دلچسپی نے ملک کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا جس کے غیر متوقع نتائج کی بدولت اس پورے خطے کو ناخوشگوار اور تلخ تجربات سے سابقہ پڑا دوسرا شدید مالی بحران ، معاشی عدم توازن اور ملک کے مقروض ہونے کی جڑیں بھی ضیاء دور میں ہی ملتی ہیں تیسرے ان کے اقتدار کے گیارہ برسوں نے پاکستان کو ایک ادارے کی حیثیت سے کمزور کردیا ۔ جس کے باعث بعد میں آنے والے جمہوری حکمرانوں کے لئے بنیادیں کمزور ہوگئیں ۔ چوتھا ان کے دور میں سیاست کی تنگ نظری نے معاشرے کو تقسیم کردیا اور حکومت کی تعریف ایشو یا پالیسی کے برعکس حکومتی سرپرستی کے طورپر ہونے لگی ۔
اگر ضیاء الحق کے ساتھ سازشی عناصر نہ ہوتے تو وہ اتنا طویل عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکتے تھے ۔ ان سازشی عناصر نے ان کے سیاسی منصب کی بدولت اس موقع کا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھایا ۔ ضیاء الحق نے ”فرنٹ لائن“ سربراہ کے طورپر مغربی ملکوں کی حمایت کو ایک آلے کی حیثیت سے استعمال کیا تاکہ وہ اپنی ابتدائی کمزور پوزیشن کو مستحکم کرسکیں ۔ علاوہ ازیں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے مابین ”تقسیم کرو اور حکومت کرو “ کے عمدہ طریقہ کار کو استعمال کیا ۔ جس کا انجام 1977ء کو حکومت پر غاصبانہ قبضے سے ہوا اور جس نے ملک کے پہلے مشہور منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھا دیا ۔ انہوں نے اپنے بظاہر 90 دن کے پروگرام کو ایک طویل منصوبے کی شکل دے دی اور دو مرتبہ 1977ء اور 1979ء میں عام انتخابات کا وعدہ کرنے کے باوجود اس کو توڑ دیا ۔ صدر کے عہدے کے ساتھ ہی فوج کے سپہ سالار کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھ کر انہوں نے اپنے لئے بے پناہ اختیارات حاصل کر لئے ۔ ان کے پے درپے اقدامات سے بھی زیادہ دور رس نتائج کے حامل ان کی حکومت کے وہ چار پہلو ہیں جنہیں ان کی میراث کا تلخ وزہریلا حاصل کہا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کا علاقائی سیاست میں کردار نہایت دھماکا خیز ثابت ہوا ۔ افغانستان میں امریکہ کے شریک کار کے طورپر پاکستان سے حکمت عملی کے معاملے میں کئی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ جن میں سب سے زیادہ نمایاں کمیونزم کا مقابلہ کرنے کے لئے مذہبی انتہا پسندی کو استعمال کرنا تھا ۔ تاہم اس طرز عمل نے مذہبی عسکریت کو فروغ دیا ۔ جس نے پہلے تو پاکستان کے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا اور آخرکار خود اپنے ملک کی بقاء کے لئے خطرات پیدا کردیئے ۔ روسی کمیونزم کو شکست دینے کے لئے مغربی اتحاد کی مہم کے لئے ایک رضاکار سپاہی جنرل یہ اندازہ ہی نہ لگا سکا کہ اس مہم کا نتیجہ عدم استحکام کی مختلف النوع صورتوں میں ظاہر ہوگا اور یہ پاکستان کے اپنے امن وامان کو تہ و بالا کر کے رکھ دے گا ۔ علاوہ ازیں افغانستان کے معاملات میں مغربی شراکت دار کی حیثیت سے شمولیت نے مذہبی عسکریت پسندی کے علاوہ علاقے میں اسلحے کی بھرمار (کلاشنکوف کلچر) منشیات کے پھیلاؤ، دینی مدارس کی تعداد میں بے پناہ اضافے اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی آمد جیسے مسائل سے پاکستان کو دوچار کیا ۔ تاہم 20 مسلم ممالک کے بیس سے تیس ہزار نوجوانوں کی امریکہ کے زیر قیادت قائم اتحاد نے حوصلہ افزائی کی کہ وہ روس کے خلاف جہاد میں حصہ لیں ۔ ان مجاہدین میں سے کئی القاعدہ میں شامل ہوگئے ۔ تاہم سرد جنگ کے معرکوں کا آخری معرکہ 9/11 کے ردعمل کے طورپر 21ویں صدی کی پہلی فوجی مداخلت کی صورت میں ظاہر ہوا ۔
ضیاء الحق نے اپنی خارجہ حکمت عملیوں کے ساتھ ساتھ داخلی طور پر ملک کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور دائیں بازو کے مذہبی عناصر کی پشت پناہی جاری رکھی لہٰذا اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے دین اسلام کے استعمال نے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا ۔ جس سے معاشرہ عدم برداشت، تفرقے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔ فرقوں کی بنیاد پر قتل و غارت اور تشدد انہی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے ۔ اسی طرح پالیسی کے طور پر جان بوجھ کر کسی ایک گروہ کی حکومت کی جانب سے دوسری لسانی یا مذہبی جماعت کا توڑ کرنے کے لئے حمایت بھی معاشرے میں عدم استحکام کا باعث بنی ۔ ضیاء دور کی معاشی بدنظمی کے نتائج بھی مساوی طورپر تباہ کن تھے ۔ 1980 میں سالانہ قومی مجموعی آمدنی کی اوسط شرح 6 فیصد تھی ۔ تاہم یہ متاثر کن شرح نمو عادی اور سماجی اثاثوں میں تخفیف اور قرضوں کی بلند سطح کے ذریعے حاصل کی گئی تھی ۔(جاری ہے)
سمندر پار رہائش پذیر پاکستانیوں کی جانب سے ترسیل زر کا بہاؤ ، پیداواری انفرااسٹرکچر اور تعلیم سمیت ہیومن ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں سرماری کاری کے مرکب عناصر نے منفرد موقع کو بے جا اصراف میں بدل دیا تھا۔ اس دولت کو مالی وسائل میں صرف کیا جاسکتا تھا ۔ اس کے بجائے معاشی پالیسیوں کے بگاڑ اور مالیاتی بدنظمیوں نے نئی بلندیوں کو چھولیا۔ تاہم 1984ء سے 1985ء میں جاری اخراجات جب مجموعی ریونیو سے بڑھ گئے تو یہ ملکی بجٹ کی تاریخ میں فیصلہ کن تبدیلی کاسبب بن گئے ۔
ٹیکس بیس کو وسیع کرنے یا اخراجات میں روک تھام میں تامل سے نہ صرف ترقیاتی اخراجات میں بلکہ اصراف کیلئے بہت زیادہ قرض لینے کے دور کا آغاز ہوا ۔ تاہم غیر مستحکم ذرائع کا عدم توازن کا بحران بجٹ کے دہرے خسارے میں ظاہر ہوا جس کے باعث ادائیگیوں کے توازن کی بنیاد ضیاء دور میں ہی پڑی تھی ۔ اس سے شرمناک روایت کا بھی آغاز ہوا ۔ اس کے دونوں سول اور فوجی جانشینوں نے اسٹرکچرل اصلاحات جو معیشت کو قابل عمل بنیاد پر مقام دلوا سکتے تھے کو التوا میں ڈال کر سمندر پار سے آنے والے سرمائے کا فیاضی سے استعمال کیا ۔ التوا میں ڈالنے یا اصلاح نہ کرنے کی قیمت کے بدلے ملک اس وقت سے بیرونی امداد ، خلاف عقل ایک کے بعد ایک مالیاتی اور فنانشل بحران میں پھنسا ہوا ہے ۔ جس نے آئی ایم ایف کی مخالفت کو ضروری بنادیا ہے۔ اگرچہ سول بیورو کریسی کو سیاسی بنانے کا آغاز ضیاء الحق سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ ضیاء کے اقدامات نے اس انتظامی بدنظمی کے عمل کو مزید تیز کردیا۔ اداروں کی سیاسی حکمت عملی جس نے کافی عرصے تک انتظامی ضابطہ مہیا کیا ۔ پہلے ہی اختیارات میں کمی کی پیشگوئی کردی۔ جس نے انتظامی اور پولیس مشینری کے ساتھ غیر جانبداری کو آشکار کردیا اور سیاسی مقاصد کو مسخ کردیا ۔ جس سے ان کی کارکردگی خطرناک حد تک انحطاط پذیر ہوگئی ۔
طویل عرصے تک سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی، عدلیہ کی آزادی پر حملہ ، صحافت اور نظریاتی آزادی پر بندش نے سول سوسائٹی کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیا ۔ ضیاء کی غیر سیاسی اور تنگ نظری پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں بعدازاں پیچیدہ صف آرائی کو جنم دیا جس کے متعدد مفہوم نکلتے ہیں ۔ تاہم ایسی اپوزیشن پارٹیاں جو رائج الوقت کنٹرول کو تسلیم کرنے کیلئے آمادہ نہیں تھیں کہ حمایت کو کمزور کرنے کیلئے مخالفت کی سیاست کو بڑھاوا دینے کی کوششیں کی گئیں ۔ جس کے باعث ان پالیسیوں نے تنگ نظری کو پروان چڑھایا ۔ جس نے معاشرے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ۔ مقامی سیاست کی ہمت افزائی، قومی مسائل کے حل میں دانستہ حائل ہوتی اور اس کے ذریعے سیاست دانوں کی ایک نئی نسل سامنے آئی یہ سرپرستی کے متلاشی سیاست دان نئے کلائنٹ لسٹ نیٹ ورک کے ذریعے حکومت کے ساتھ منسلک ہوگئے تھے ۔ جن کا انحصار ریاستی انعام و اکرام مثلاً شہری اراضی، بینکوں سے قرض اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر تھا۔ اس نے قومی وسائل کی لوٹ مار کے وسیع مواقع کی آڑ میں نئی راہیں کھول دیں ۔ تاہم اس سرپرستی کے بدلے میں مقامی اثر و رسوخ یقینی تھا لہٰذا ضیاء دور کی پابند سیاست کسی بھی مسئلے پر اپنے رویّے کا تعین کرنے سے محروم تھی ۔
اس تبدیلی نے سیاست اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک کے سیاسی کلچر کو بھی پیچیدہ بنادیا اور ریاستی وسائل کے حصول کی خاطر منتخب عہدوں کی تلاش، ایک سیاسی کھیل بن گئی ۔ اس نے عوامی مقاصد کے بغیر سیاسی کامیابی، ذاتی فوائد کیلئے عوامی عہدوں کا غلط استعمال، ملکی خزانہ کی نکاسی، قومی بینکوں کو نقصان اور بالآخر پورے نظام میں ہر لحاظ سے بدعنوانی کے نفوذ نے گمراہ کن اثرات کا دائرہ کار پیدا کیا ۔ پاکستان کی معروف تاریخ دان عائشہ جلال کہتی ہیں کہ ”ضیاء دور کی سیاست میں پیسے کے عمل دخل کا آغاز ہوا ۔ مرحوم صدر ضیاء کے حامی اکثر و بیشتر ان کے دور میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کی نشاندہی ان کی مبینہ کامیابیوں کے طوپر کرتے ہیں تاہم حقائق اس کی تردید کرتے ہیں۔ اس کے دور میں سرکاری معیشت تباہ و برباد ہوگئی ۔ معاشرہ مزید پرتشدد ہوگیا۔ معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ پیدا ہوا اور یہ پہلے سے زیادہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور ریاستی اداروں میں حکمرانی کی صلاحیت میں مزید کمی آگئی
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=460665
Recent Comments