چوراہا … حسن نثار

کرنے والوں کے چہروں پرجلی حروف میں لکھا تھا کہ وہ احساس سے ہی عاری ہیں کہ کرکیا رہے ہیں اور جن کے ساتھ ہورہا تھا وہ بھی اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔ سوائے جسمانی درد کے جو ان کے چہروں سے عیاں تھا کہ جسم پر چوٹ لگنے سے تو حیوان بھی بلبلا اٹھتا ہے… یہ تو پھر انسان تھے اور میں حیران پریشان سوچ رہا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں سے صحیح کون ہے؟ غلط کون ہے؟ شاید دونوں ہی اپنی اپنی جگہ صحیح تھے یا شاید دونوں ہی غلط تھے اور اپنی اپنی جگہ مجبور
یہ سکھر کا واقعہ ہے جو میڈیا کی آزادی کے باعث میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔میاں نواز شریف نے متاثرین سیلاب سے خطاب فرمایا ، ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بتایا کہ وہ ان کے لئے امدادی سامان لے کر آئے ہیں ۔ میاں صاحب تو تقریر کے بعد رخصت ہوگئے لیکن ضرورت مندوں کا ہجوم پاگل ہو کر امداد ی سامان پر ٹوٹ پڑا کیونکہ ظاہر ہے سامان کم اور ضرورت مند زیادہ تھے اور کسی نے بھی محروم رہ جانے کا رسک لینا مناسب نہ سمجھا اور نظم و ضبط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے طاقت و قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ نظم و ضبط توہماری نارمل زندگیوں میں موجود نہیں تو ہنگامی حالات یعنی ایمرجنسی میں کہاں سے آتا؟سو سارا ماحول عملاً میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔”الٹنا، پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا“ سے بھی زیادہ سنسنی خیز منظر تھا۔ انسان ایک دوسرے اور سامان پر ایسے جھپٹ رہے تھے جیسے…پولیس کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اس نے بپھرے ہجوم کو کینڈے میں لانے کی شریفانہ کوشش کی اور اس کے بعد تنگ ا ٓکر ایسا وحشیانہ لاٹھی چارج شروع کیا کہ میں سکھر سے سینکڑوں میل دور اپنے گھر میں بیٹھا لرز اٹھا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں آج تک ا تنی بے رحمی کے ساتھ کسی سرکش جانور کو بھی پٹتے نہیں دیکھا جتنی سنگدلی کے ساتھ پولیس ان سیلاب زدگان کو ادھیڑرہی تھی…بلا تخصیص عورت، مرد، بوڑھا ،بچہ ایسے تو بارش نہیں برسی جیسے اندھا دھند لاٹھیاں برس رہی تھیں اور آفرین ہے…کیسے ضرورت مند ہوں گے اور کتنے شدید ضرورت مند ہوں گے جو اتنے شدید تشدد میں بھی مٹھر بھر چاول ، آٹے، دال یا چینی کے لئے سردھڑ کی بازی لگانے سے باز نہیں آرہے تھے۔
”ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ“
”نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی“
اقبال کے بے شمار ایسے پرشکوہ مصرعے یادآئے اور سوچا کہ ہمارے حکمران طبقات کی مسلسل”مہمات“ نے ممولوں کو شہباز بنانے کی بجائے کیا بنادیا کہ وہ توممولے بھی نہ رہ پائے۔ سچی بات ہے میں فیصلہ نہیں کرپایا کہ وہ ہجوم حق پر تھا یا پولیس؟ جو مار رہے تھے وہ سچے تھے یا مار کھانے والے کہ اس طرح لاٹھی چارج نہ کرتے تو شاید کچھ کمزور ضرورت مند کچھ طاقت ور ضرورت مندوں کے ہاتھوں جان سے مارے جاتے اور پولیس پر الزام لگتا کہ خاموش تماشائی بن کر کھڑے تماشہ دیکھتی رہی۔
ہماری المیہ کہانی کالموں، قصوں اور بے مغز بھاشنوں سے بہت آگے جاچکی اور مجھے حالیہ سیلابوں کے”آفٹر افیکٹس“اور سائیڈ افیکٹس“ کا ذکر کرنا تو کجا سوچتے ہوئے بھی خوف آتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ حکمران طبقات ا ب بھی نہ سنبھلیں گے نہ سمجھیں گے، کیونکہ ا ن کے نزدیک جیسے گزشتہ63برس بیت گئے ویسے ہی آنے والے 63برس بھی”بخیر و عافیت“ گزر جائیں گے۔ ان کی ”بادشاہتیں“ اور لوٹ مار کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا لیکن نہ پہلے کبھی ایسا ہوا نہ آئندہ کبھی ہوگا کہ اس کی رسی جتنی بھی دراز ہو … شب فراق اور شیطان کی آنت سے زیادہ دراز نہیں ہوتی۔ ایک نہ ایک دن یہ رسی کھنیچ لی جاتی ہے یا کاٹ دی جاتی ہے اور پھر یہی رسی گردن کا پھندا بننے کے بعد یہ نہیں دیکھتی کہ گردن کس کی ہے؟اس کی موٹائی کتنی ہے؟اور اس کا سریا کتنا موٹا ہے؟
ایک طرف یہ حکمران اشرافیہ جس کا اصل جرم اس ملک کے ہیومن میٹرئل کی بے حرمتی ہے جس کے بعد انہی میں سے ایک خورشید شاہ کہتا ہے کہ…”لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی“ ،دوسری طرف چند صدیاں پہلے تک کے وحشی درندے وائی کنگس جو سمندروں سے لے کر خشکی تک اپنی خونخواری کے لئے اتنے مشہور تھے کہ ان کے سامنے تاتاری بھی کبوتر اور فاختائیں دکھائی دیں…آج وہی وائی کنگس تہذیب و تمدن، تمول،تحمل ، توازن، تنظیم اور ترتیب کے سمبلز ہیں اور دنیا میں اگر واقعی کوئی ویلفیئر سٹیٹ ہیں تو سکینڈے نیویا کے ملک انہی وائی کنگس کے ملک۔
انسان…انسان ہوتا ہے۔
حکمران چاہیں تو انہیں مثبت ماحول میں رکھ کر وحشیوں سے مہذب ترین بنادیں یا ان سے انسانیت سمیت سب کچھ چھین کر ہر حوالہ سے کنگال کردیں۔
”بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی“۔
افلاس اور انسانیت یک جانہیں ہوسکتے۔
اور اس درجہ کا افلاس اشرافیہ کا عطا کردہ اکلوتا تحفہ ہے۔سیلاب نے تواس تحفے کے میک اپ کی پہلی تہہ اتاری ہے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=460485

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha