مختار احمد بٹ

آجکل ساری دنیا میں وکی ليکس کا چرچا ہے اس کا کام پوشیدہ رکھی گئی معلومات کو سامنے لانا ہے جبکہ اس کے ذرائع خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ 25/جولائی 2010ء کو  ”افغان وار ڈائری“ کا تعلق افغانستان میں مصروف امریکی فوج سے تھا۔ ان 92000 دستاویزات میں سے صرف 75000 ظاہر کی گئی ہیں، 180/کا تعلق پاکستان سے ہے اور یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان   آرمی اور آئ ايس آئ کے طالبان سے روابط ہیں، اس کے علاوہ آئ ايس آئ پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی  افواج پر حملے کروائے ہیں۔ آئ ايس کے خلاف شور مچایا جا رہا ہے جبکہ امریکہ کی افغان وار میں غلطیاں امریکی فوجیوں کے نہتے لوگوں پر ظلم جو کہ رپورٹ کا 99/فیصد ہے، اس پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، بس سارا ملبہ آئ ايس آئ پر ڈالا جا رہا ہے۔
اس سے یہ بات سمجھ میں آ تی ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج کا اندرونی سیکورٹی سسٹم انتہائی ناقص ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک غیر متعلقہ شخص اتنی بڑی تعداد میں اہم دستاویزات حاصل کر لے جبکہ جس کمرے میں یہ دستاویز ہوتی ہیں اس میں داخل ہونے کیلئے اسپیشل کوڈ ہوتے ہیں، اسی طرح سے جہاں یہ دستاویزات رکھی جاتی ہیں انتہائی محفوظ جگہ ہوتی ہے اور ان دستاویزات تک پہنچنے کیلئے کئی مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان دستاویزات کو دانستہ طور پر استعمال ہونے دیا گیا۔ اگر یہ غلط ہے تو اب تک امریکہ میں ان دستاویزات کے انچارج آفیسر کا کورٹ مارشل ہو جانا چاہئے تھا۔ امریکہ کی پوزیشن اسی وقت صاف ہو گی جب کسی کے خلاف کوئی ایکشن ہو گا۔سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ غیرقانونی طور پر 92000 دستاویزات وکی ليکس کے ہاتھ کیسے لگیں۔ جہاں تک پاکستان کے خلاف دستاویزات کا تعلق ہے ان کی تعداد غیر اہم ہے لیکن اس کے باوجود ان کو پاکستان کے خلاف غیر ضروری طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
ہمیں اس سے غرض نہیں کہ وکی ليکس نے افغان جنگ کے بارے میں دستاویزات دنیا کے سامنے پیش کردیں لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے جو اس ليکس میں کہا گیا ہے وہ کہاں تک درست ہے اور اگر غلط ہے جو کہ ایک یقینی بات ہے تو ایسی صورتحال میں ہمارا کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے۔ ان رپورٹس کا لب لباب یہ ہے کہ امریکہ، افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے جس کا ذکر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی اپنے حالیہ دورہٴ فرانس اور برطانیہ میں کیا۔ ان رپورٹس سے اگر کسی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تو وہ صدر بارک اوباما ہیں کیونکہ انہوں نے بش کی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے جولائی 2011ء سے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا ہے اور یہ رپورٹس ان کے حق میں جاتی ہیں کہ انہوں نے فوجیں نکالنے کا فیصلہ صحیح کیا ہے۔ جہاں تک آئ ايس اور طالبان کے درمیان روابط کا تعلق ہے تو یہ اس لئے درست نہیں ہے کہ پاکستان پچھلے دو سال سے طالبان کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ کی فول پروف انٹیلی جنس کے ہوتے ہوئے پاکستان ڈبل گیم کھیلے تاہم اس حوالے سے امریکہ کے ڈیفنس سیکرٹری رابرٹ گیٹس کا بیان حوصلہ افزا اور خطرناک بھی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے حالیہ کردار کو سراہا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان، امریکہ کے شانہ بہ شانہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور آج بھی پاکستان کے 1,40,000 فوجی پاکستان کے شمال جنوب میں آپریشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے آئ ايس اور طالبان کے مابین اشتراک کا دفاع کیا ہے لیکن ان کا یہ بیان کہ وہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کے اندر بھی آپریشن کر سکتے ہیں، ان کے اپنے بیان کی نفی ہے۔ اس بیان کا تو پھر ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ امریکہ کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا۔ ہم ان کے ڈرون حملے نہیں روک سکے، ان کی اسٹرائیکس کو کیسے روکیں گے؟ تاہم انہوں نے کہا کہ 1989ء میں امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا اور پاکستان آج بھی یہی سوچ رکھتا ہے کیونکہ جب امریکی افواج افغانستان سے نکلیں گی تو پاکستان اکیلا رہ جائے گا اور اس کی 9/سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ پاکستان نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف سوات اور جنوبی وزیرستان میں محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف ایکشن لے گا تاہم اس حوالے سے برطانیہ کے وزیراعظم نے نئی دہلی میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے فروغ کا الزام لگایا ہے اور بھارت کے وزیراعظم نے بھی یہی کچھ دہرایا جبکہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ اب امریکہ، پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا اور چڑھاؤ ان کو سر پر، اور خدمتیں کرو، تعریفیں کرو، مسکرا مسکرا کر فوٹو کھنچوا کر اپنے آپ کو نیچے گراؤ۔ ہمارے احتجاج کیا معنی رکھتے ہیں، وہ تو ہم روز کرتے ہیں اسی لئے ان کو سنجیدگی سے کوئی نہیں لیتا۔
اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکہ، بھارت، برطانیہ اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اپنا سب کچھ گنوا بیٹھیں ہمیں امریکہ کے ساتھ دوٹوک بات کرنی چاہئے، تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ امریکہ اس وقت سخت مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اگر کوئی اسے محفوظ راستہ دے سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی شرائط پر ایک دیرپا سمجھوتہ کریں تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ جنرل کیانی پہلے بھی کہہ چکے ہیں اب ایک بار پھر امریکہ پر واضح کر دیں کہ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے نہ کہ دہشت گردی۔ اس طرح کے سو وکی ليکس آ جائیں پاکستان آرمی اور آئ ايس آئ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=459696

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha