اس ہفتے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ایک نجی جیٹ طیارے میں، اپنے افراد خانہ اور سو سے زیادہ ساتھیوں کے ہمراہ یورپی ممالک کے سفر پر روانہ ہوئے۔گزشتہ روز زرداری جنہوں نے میری پھوپھی سے شادی کی تھی اور جنہیں دسمبر 2007ء میں قتل کردیا گیا، لندن ایئر پورٹ پر اترے۔ جونہی ان کے طیارے نے رن وے پر لینڈ کیا، ان کیلئے اور ان کے بے حد اہم ساتھیوں کیلئے کوئی درجن پھر پرتعیش گاڑیاں جو اپنے اپنے شوفرز کے ہمراہ پہلے ہی سے وہاں موجود تھیں لندن کے ایک ایسے پنج ستارہ ہوٹل کی جانب روانہ ہوگئیں جہاں پاکستانی صدر قیام فرمائیں گے اور جس کے رائل سوئٹ کا ایک دن کا کرایہ سات ہزار پونڈ یعنی گیارہ ہزار ایک سو ساٹھ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے ان کا اتنا شاہانہ استقبال نہیں کیا گیا۔ ہوٹل جاتے ہوئے راستے میں، مظاہرین احتجاجی پلے کارڈ لئے کھڑے تھے جن پر لکھا تھا ”زرداری، چوروں کا بادشاہ۔”زرداری سو فیصد خالص کرپشن“ اور ”گو زرداری گو“…جس وقت زرداری، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لندن کے پرتعیش ہوٹل میں لطف اندوز ہو رہے تھے اسی وقت ان کا ملک پاکستان گزشتہ اسّی برس میں آنے والے سیلاب کے تھپیڑے کھا رہا تھا !!! مختصراً یہ کہ زرداری کے کترینا کی مانند محسوس ہورہا تھا۔
پاکستان کے شمال مغربی خطے میں رہنے والے تیس لاکھ افراد اس سیلاب کے نتیجے میں غیرمعمولی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ شمالی پاکستان کے کئی حصوں میں غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے کیونکہ یہاں موجود لوگوں کا ریلیف ورکرز سے کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق ایک اعشاریہ آٹھ ملین پاکستانیوں کو آنے والے ہفتوں کے دوران خوراک کی فوری ضرورت ہوگی۔ اب تک ایک ہزار چار سو جانیں اس سیلاب کی نذر ہوچکی ہیں جبکہ دس لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں۔ خبروں سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ صورت حال میں بہتری کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب کا پانی، سندھ اور پنجاب سے بھی گزرے گا جو پاکستان کی غذائی پیداوار کے مخصوص علاقے ہیں مزید سیلاب کی بابت بھی خبردار کیا جارہا ہے کیونکہ ملک مون سون کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ زرداری غیرملکی دوروں کے بے حد شوقین ہیں۔ انہوں نے اتنی بار یہ غیر ملکی دورے کئے ہیں کہ گزشتہ برس ایک مقامی ٹیلیویژن چینل کو یہ کہنا پڑا کہ رچرڈ ہالبروک جو امریکی صدر بارک اوباما کے افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی ایلچی ہیں، انہوں نے زرداری سے زیادہ وقت پاکستان میں گزارا ہے۔ تاہم موجودہ دورہ جس قسم کے حالات میں کیا جارہا ہے اس نے نہ صرف پاکستانی عوام کو بلکہ ان کے برطانوی میزبانوں کو بھی غم و غصے اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔دو ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں نے تو زرداری سے ملنے سے بھی انکار کردیا ہے۔ خالد محمود جو رکن پارلیمینٹ ہیں انہوں نے بھی زرداری کے موجودہ دورے کی شدید مذمت کی ہے۔ پریس سے گفتگو کے دوران خالد محمود کا کہنا تھا کہ ”پاکستان میں لوگ بڑی تعداد میں مررہے ہیں، صدر کو چاہئے تھا کہ پاکستان ہی میں رہ کر اپنے عوام کی مدد کرتے۔ فرانس اور برطانیہ کے چکر نہ لگاتے۔ لیبر پارٹی کے رکن پارلیمینٹ لارڈ احمد نے کہا ” یہ زرداری کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستانی عوام کی دیکھ بھال کرتے، انہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا“۔
تاہم، ان احتجاجی مظاہروں اور سخت کلمات کا زرداری پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ بہرحال، یہ کسی کے لئے بھی تعجب خیز بات نہیں تھی کیونکہ انہوں نے زرداری کی حکومت کو عمل کرتے ہوئے دیکھ رکھا ہے۔ سیلاب کا واقعہ تو ابھی حال ہی کی بات ہے جو اس بات کی ایک المناک مثال ہے کہ پاکستانی حکومت کس قدر نااہل ہے۔ آنے والے حالات کا اندازہ سبھی کو تھا کیونکہ پاکستان میں اسی وقت مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں لیکن ایک ایسا ملک، جس کا صدر کرپشن کی شہرت رکھتا ہو۔ وہاں دہشت گردی اور قدرتی آفات جیسے خطروں سے نمٹنا بھی تقریباً ناممکن ہوتا ہے ۔ پاکستانی عوام پر خرچ کئے جانے کے لئے ایک کوڑی بھی نہیں ہے۔ ملکی خزانہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال ہورہا ہے اقتدار میں آنے سے پہلے زرداری پر سوئٹزر لینڈ، اسپین اور برطانیہ میں کرپشن کے الزامات عائد تھے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے اسپین اور برطانیہ کی عدالتوں سے تعاون ترک کردیا جبکہ صدر کی حیثیت سے انہیں استثنیٰ حاصل ہے جس کے نتیجے میں سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=458789
Recent Comments