آفتابیاں … آفتاب اقبال

پیارے زرداری صاحب!
اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو ہمت عطا فرمائے اور یہ جو آپ کے ساتھ آج کل ہو رہی ہے، اسے برداشت کرنے کی توفیق بخشے، امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ ویسے آپس کی بات ہے، آپ کو کہا کس حکیم نے تھا کہ یہ بے وقت دورہ ضرور ہی کریں۔ آفٹر آل کامن سینس بھی کوئی چیز ہوتی ہے، سیلاب اور زلزلے تو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہی سیاستدانوں کی پبلسٹی اور پی آر کے لئے ہے مگر افسوس کہ آپ نے یہ نادر موقع بھی گنوا دیا۔
میں آج اس خط کے ذریعے چند خطرناک قسم کی غلط فہمیاں رفع کرنا چاہتا ہوں جن کا آپ شکا رہیں۔ قسم اللہ پاک کی، برمنگھم میں جوتا زنی کی واردات میں ہمارا قطعاً کوئی ہاتھ نہیں۔ ہاں چھوٹے موٹے مظاہرے ہم نے ضرور کروائے ہیں مگر یہ بیوقوف سا شخص جو آپ پر ”جوتا باری“ کا مرتکب ہوا، یہ ہم نے نہیں بھیجا، بلکہ ٹی وی پر اس کی احمقانہ سی گفتگو سن کر اور اس کی وزیراعظم آزاد کشمیر کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونے والی ٹاک بارے جان کر مجھے کچھ کچھ سمجھ آنے لگی ہے کہ اسے کس نے پلانٹ کیا ہوگا۔ میری ”کھبی“ یعنی بائیں آنکھ نہایت شدت کے ساتھ پھڑک رہی ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ جس دن سے قبلہ کیانی صاحب کو ایکسٹینشن ملی ہے، آپ کے ستارے کچھ زیادہ ہی گردش میں رہنے لگے ہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ کی مقبولیت کا اسی طرح ستیاناس ہوتا رہا تو پھر وہ دن دور نہیں جب انشا اللہ کوئی نیا چن چڑھا دیا جائے۔ آپ تو ایک بار پھر ساٹھ ستر سالوں کے لئے کھڈے لائین لگ جائیں گے مگر مجھ غریب کا بنا بنایا کام بھی چوڑ ہو جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ مجھ پر ویسے بھی مختلف حوالوں سے شک کرتی ہے اور امریکیوں کے کان مخبی حسین حقانی نے میرے خلاف بھر بھر کر ان بیچاروں کی مت ماری ہوئی ہے۔ واشنگٹن مجھے طالبان سمجھتا ہے جبکہ طالبان مجھے انگریز سمجھتے ہیں۔ اب اس بات کا میں کیا کروں، انہیں تو سمجھاتے ہوئے بھی انسان کو ڈر ہی لگتا ہے۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ راولپنڈی میں آج کل پھر سے کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ قرائن بھی یہی بتاتے ہیں اور چودھری نثار آج کل اندر واندری خوش بھی بہت رہنے لگا ہے۔ آپ یقین کریں، یہ شخص جب بھی اندرو اندری خوش ہوتا ہے، ملک مارشل لاء کے مزید قریب ہو جاتا ہے۔ اللہ خیر ای کرے، ہیں جی؟
آپ کی بے فکری میرے لئے رشک کا باعث ہے کیونکہ آپ نے پنجاب میں اپنی پارٹی راجہ ریاض جیسے نہایت نالائق وزیروں کے حوالے کر رکھی ہے اور پھر بھی آپ اس قدر مطمئن اور خوش و خرم ہیں قسم اللہ پاک کی، اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اس آدمی کو محکمہ انہار کا اوور سیئر بھی نہ لگاتا مگر آفرین ہے آپ پر کہ اسے سینئر وزیر بنا کر آبپاشی جیسا محکمہ اس کے حوالے کر رکھا ہے یہ شخص مجھے ایک دن بھی فلڈریلیف کا کام کرتے دکھائی نہیں دیا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اسے کبھی کوئی سمجھداری کی بات کرتے نہیں سنا۔ البتہ ہر تیسرے چوتھے دن میرے خلاف کوئی فضول اور بدذائقہ سی بات کرکے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگتاہے۔ یہاں پیٹ سے مراد اس کا اپنا پیٹ ہے میرا نہیں۔ آپ کے گورنر صاحب بارے کچھ کہوں گا تو آپ پھر سے ناراض ہونے لگیں گے مگر یقین کریں، یہ حضرت بھی سیلابی دنوں میں یوں نایاب ہوئے ہیں جس طرح رمضان کے مہینے میں اشیائے خوردونوش… سنا ہے آجکل موصوف غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ چند کیبل آپریٹروں نے بھی ان کی شکایت کی ہے کہ یہ انہیں گورنر ہاؤس بلا کر بعض ٹی وی چینل بند کرنے کی فضیلت بیان کرتے رہتے ہیں۔ رانا ثنا اللہ بتا رہا تھا کہ پچھلے دنوں موصوف نے ایک بوتل مٹی کا تیل چھڑک کر ”رسم اخبار جلوائی“ کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا جس کے بعد یہ سلسلہ پنجاب کے مختلف شہروں تک پھیلتا چلا گیا۔ تاہم را نے ثنا اللہ کی سلمان تاثیر بارے اکثر مخبریوں کی طرح میں نے اس پر بھی کان نہیں دھرا۔ بے شک آپ خود بھی نہ دھریں۔
آخری گزارش یہ کرنی تھی کہ لندن پہنچنے پر جب آپ جہاز سے اترے تو میں آپ کا ولایوڑ سا لباس دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ یقین کریں آپ صدر کم اور فراڈیئے زیادہ لگ رہے تھے۔ ویسے ہوا کیا تھا آپ نے یہ احمقانہ سی شوقینی کی کس کے مشورے پر تھی۔ خدارا لباس وغیرہ کے معاملے میں قمر زمان کائرہ کی باتوں پر ہرگز کان مت دھرا کریں۔ ان سے صرف حکیمی دوائی یا زیادہ سے زیادہ کوئی طبی نوعیت کامشورہ لے لیاکریں، بس اور کچھ نہیں۔
بلاول، بختاور اور آصفہ کو میری طرف سے پیار، خط کا جواب جلدی دیں اور راولپنڈی سے متعلق میرے خدشات پر فوراً روشنی ڈالیں۔
والسلام
آپکا بھائی
نواز شریف

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=458657

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha