روزن دیوار سے…عطاء الحق قاسمی
پرانے دوستوں کے ذکر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک دم اپنے دور ِ شباب میں چلا جاتا ہے چنانچہ میں عمر رفتہ کو آواز دینے کے لئے پرانے دوستوں اور پرانی یادوں کے حوالے دیتا رہتا ہوں جس سے میرے خوش فہم قاری مجھے پرانی قدروں کا دلدادہ سمجھتے ہوں گے حالانکہ اصل بات میں نے آپ کو بتا دی ہے سو جن تقریباً ہم عمر دوستوں کے ساتھ میری ساری جوانی اور ادھیر عمری کا ایک حصہ گزرا ان میں امجد اسلام امجد، خالد احمد، گلزار وفا چودھری (مرحوم) حسن رضوی (مرحوم) اور نجیب احمد خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ وہ دن تھے جب ہم ٹارزن کی طرح ایک ”درخت“ سے دوسرے ”درخت“ تک جھولتے چلے جاتے تھے اور ہماری پھرتیوں پر دنیا حیران ہوتی تھی۔ ہم نے بسوں میں، ویگنوں میں اورریل گاڑیوں میں کتنے لمبے لمبے سفر کئے۔ پاکستان کا کون ساکونہ ایسا ہے جہاں ہم مشاعرہ پڑھنے نہیں گئے، ہم نے دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہیں چھوڑے چنانچہ بحر ظلمات تک گھوڑے دوڑاتے چلے گئے۔ ان دنوں طبیعت کی جولانی زوروں پر تھی سو دورانِ سفر ایک دوسرے پرکیسی کیسی جملہ بازی کی جاتی۔ مصرعہ ٴ طرح پر ایک دوسرے کی ایسی ایسی ہجو کہتے کہ کوئی تیسرا سنتا تو سمجھتا شاید ہم میں کوئی خاندانی دشمنی چلی آ رہی ہے مگر مجال ہے کہ کسی کے ماتھے پر کوئی بل آتا بلکہ اچھے ہجویہ شعر پر ہجو کا شکار ہونے والا خود بھی کھل کر داد دیتا، گلزار وفا چودھری کے ساتھ خالد احمد ویسا ہی سلوک کرتا جیسا وہ ان دنوں بھی اپنے پاس بیٹھنے والوں کے ساتھ کرتا ہے مگر گلزار اس سنار کی سو ضربوں کے بعد لوہار کی ایک ضرب لگاتا اور سارا حساب صاف کردیتا۔ امجد اسلام امجد کی جملے بازی کو اس وقت مہمیز ملتی جب وہ کسی کی عزت ہوتے دیکھتا اور اس کی یہ مہم اس وقت تک جاری رہتی جب تک عزت کرنے والاشرمندہ سا ہو کر اپنے ممدو ح کی عزت کرنے کے رویئے سے دستبردار نہ ہوجاتا۔ اسی طرح حسن رضوی نے امجد کو چڑانے کے لئے ایک دومخصوص حوالے رکھے ہوئے تھے۔ وہ موقع محل دیکھ کر انہیں بروئے کارلاتا اور امجد کو اتنا زچ کرتا کہ وہ اپنے بال نوچنے لگتا (واضح رہے یہ بات میں نے محاورتاً کہی ہے) اس دوران حسن رضوی کا ہنستے ہنستے برا حال ہوجاتا اور اس کی اس بے ساختہ ہنسی کی وجہ سے اس کی معمولی سی بات پر بھی دوست بے اختیار اور والہانہ طور پر اس کی ہنسی میں شریک ہو جاتے۔ نجیب احمدجملے بازی میں کم حصہ لیتا تھا لیکن جب لیتا تھا تو پرانے حساب چکانے کیلئے سیدھی ڈانگ ”کڈ“ مارتا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب ہم میں سے کسی کو بھی یہ زعم نہیں تھا کہ وہ بڑی شے ہے چانچہ ہم مشاعروں کے منتظمین کو خاطر خواہ استحصال کے مواقع فراہم کرتے تھے ۔ان دنوں ہم سب ایک دوسرے کی خوشیوں کے علاوہ غمی میں بھی شرکت کرتے تھے چنانچہ ہم سب نے ایک دوسرے کواپنی آنکھوں سے دولہا بنتے بھی دیکھا اوریوں دنیا کی بے ثباتی کامشاہدہ اور تجربہ کیا۔
دوستوں کی محفل کا یہ قصہ بہت طویل ہے۔ میں اگر سنانے پر آیا توکئی دن بیت جائیں گے چنانچہ میں اسے درمیان میں چھوڑ کر نجیب احمد کی طرف آتا ہوں کہ آج اس کی 63ویں سالگرہ اوربائی پاس کا تیسرا سال ہے۔ اب آپ خود ہی بتائیں کہ میں کیوں نہ پرانی یادوں کے بہانے اپنے اور اپنے دوستوں کے دورِ جوانی اور ان کے حالیہ بلڈپریشر، شوگر اور بائی پاس وغیرہ کویاد کروں۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ نجیب احمد سمیت ہم سب دوستوں کے اندر کا وہ کھلنڈرا سا لڑکا آج بھی زندہ ہے جو ہمیں عمروں کے ڈھلنے کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ نجیب اورخالد تو آج بھی ساری ساری رات باہر گزارتے ہیں، الحمراء کی ادبی بیٹھک کو رات دس بجے الوداع کہہ کر لکشمی چوک کا رخ کرتے ہیں اور ایک ایک کرکے چائے کے تمام اڈے بند کر کے علی الصبح اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے ہیں اور پھر ادبی بیٹھک کھلنے تک سوئے رہتے ہیں۔
ان کی صحبت میں بیٹھنے والوں کوان کے گھر والوں کی خوش قسمتی پر کتنا رشک آتا ہوگا؟ تاہم میرے رشک کی وجہ خالد احمد اور نجیب احمد کی شاعری ہے چونکہ تقریب نجیب احمد کی سالگرہ کے حوالے سے ہے اور سالگرہ کو اس کی شاعری سے الگ نہیں کیا جاسکتا، فی الوقت نجیب ہی کی شاعری کی بات کروں گا۔ وہ ایک باکمال شاعر ہے ۔اس نے تیرہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کئے تھے اور یوں آج اس کی شعر گوئی کو 50 برس ہوگئے ہیں۔ میں 20اووروں کے میچ میں چوکے چھکے مارنے والے بلابازوں کا اس وقت تک قائل نہیں ہوتا جب تک وہ پانچ روزہ میچ میں اپنی کارکردگی ثابت نہ کریں کہ 20اووروں کی کارکردگی کو تو ”فلوک“ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ نجیب نے 50برس تک مسلسل خوبصورت شعر کہہ کر خود کو منوایاہے، اس کے چند شعر سنیں:
کھلنڈرا سا کوئی بچہ ہے دریا
سمندر تک اچھلتا جارہا ہے
نہ کچھ کہتا نہ کچھ سنتا ہے کوئی
فقط پہلو بدلتا جارہا ہے
یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزرے گی
عمر جب کاٹ چکوں گا تو شباب آئے گا
عجب اک معجزہ اس دور میں دیکھا کہ پہلو سے
یدِبیضا نکلنا تھا مگر کاسہ نکل آیا
وہ رات تھی تو بسر ہوگئی بہرصورت
اگر یہ دن ہے تو کٹتا نظر نہیں آتا
بشر بے موت مارے جارہے ہیں
مسیحائی کا چرچا ہو رہا ہے
ہم ایسے بھی گئے گزرے نہیں ہیں
ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے
ان شعروں سے آپ نے یہ اندازہ بھی لگا لیا ہوگا کہ وہ کون سی بے چینی اور اضطراب ہے جو شاعر کو ساری رات جگائے رکھتی ہے۔ دوستو! ان لوگوں کے ظاہر پر نہ جایا کریں، کبھی ان کے دل میں بھی جھانک لیا کریں، یہ اور طرح کے نظر آتے ہیں مگر یہ اور ہی طرح کے ہوتے ہیں!
یہاں تک پہنچ کر مجھے اندازہ ہوا کہ بات کچھ سنجیدہ سی ہو رہی ہے جبکہ سالگرہ کی تقریب میں ہلکی پھلکی باتیں زیادہ اچھی لگتی ہیں سو آخر میں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ لاہور میں یا لاہور کے قرب و جوار میں مقیم اپنے عہد کے بڑے شاعروں حفیظ جالندھری، صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، ظفر اقبال، منیر نیازی، احمد فراز اورشہزاد احمد کی بزرگی اور ان کے بلند مرتبے کے احترام کے باوجودہم سب دوست ان کی محفلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں اور انہیں اپنی محفلوں میں بھی شریک کرتے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بے شمار مشاعرے پڑھے اور سفر کے دوران ا ن کے ساتھ جملے بازی کی لبرٹی بھی لیتے رہے کہ خود یہ بزرگ اس ”صنف“ میں بھی اپنی مہارت تامہ کے لئے مشہور رہے ہیں۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ آپ ہمیں کہیں ”بے استادہ“ نہ سمجھ لیں سو پیارے نجیب احمد اب ہم سارے دوست تمہارے لئے ”ہیپی برتھ ڈے“کا گیت گائیں گے اوردعا کریں گے کہ تمہاری 100ویں سالگرہ میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوں۔ امید ہے تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں نے یہ دعا اپنے لئے بھی مانگی ہے! چلتے چلتے ایک اعتراف اور وہ یہ کہ میں نجیب پر جو لکھنا چاہتا تھا اور وہ اِدھر اُدھر کی باتوں کی وجہ سے لکھ نہ سکا اور یوں یہ کالم نہیں بن پایا بلکہ یہ کالم کا ”جھٹکا“ ہے۔ اس کی تلافی انشاء اللہ آئندہ کسی اور موقع پرکروں گا!
(الحمرا آرٹس کونسل لاہور کی ادبی بیٹھک میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا صدارتی خطبہ
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=458512
Recent Comments